ٹاؤن تعلیمی اداروں کی بندش،طلبا و والدین سراپا احتجاج 

ٹاؤن تعلیمی اداروں کی بندش،طلبا و والدین سراپا احتجاج 

  

پشاور(سٹی رپورٹر)یونیورسٹی ٹاون پشاور میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تعلیمی اداروں کو سیل کرنے خلاف سکول مالکان، بچے، ان کے والدین اور اساتذہ سراپا احتجاج بن گئے، تعلیمی ادارے سیل کرنے کے بعد سکول مالکان نے بطور احتجاج ریلوے کے گرین بیلٹ پرکلاسز کا اہتمام کیا، طلبہ نے سخت گرمی میں آسمان تلے کلاسز میں شرکت کی، اس موقع پر سکول مالکان سید مہر علی شاہ دیگر کا کہنا تھا کہ کورونا کی وجہ سے پہلے ہی سے کافی نقصان ہوا ہے مزید نقصان کے متحمل نہیں ہوسکتے ضلعی انتظامیہ نے تعلیمی ادارے سیل کرکے 25ہزار سے زائد بچوں کا مستقبل داو پر لگا لیا ہے،انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی ٹاون میں تعلیمی اداروں کونشانہ بنانا افسوس ناک ہے حکومت یونیورسٹی ٹاون میں تعلیمی اداروں کو کھولنے کی اجازت دے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ منتخب نمائندگان سمیت جہاں تک ہوسکا ہم نے اپنی آواز پہنچائی لیکن تاحال ان کی جانب سے سکولز کھولنے کے حوالے سے کوئی نرمی نہیں دکھائی گئی،انہوں نے وزیراعلی محمود خان سے درخواست کی کہ وہ اس مسئلے کا نوٹس لیں اور اس کے مستقل حل کیلئے اقدامات اٹھائیں، سکول مالکان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ کینیڈا اور جرمنی سے اپنے ساتھ آئیڈیاز لائے تھے تاکہ قوم کے بچوں کو معیاری تعلیم دیں اس لئے انہوں نے یہاں آکر سرمایہ کاری کی اورتعلیمی ادارے کھولے تھے لیکن حکومت مسلسل ان کیلئے مشکلات پیدا کررہی ہے اور وہ اب باہر ممالک سے یہاں شفٹ ہونے پر پچھتارہے ہیں۔اس موقع پر طلبہ نے بھی سکولوں کی بندش کا فیصلہ ظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہ وہ میٹرک بورڈ امتحانات دیں گے جس کیلئے ان کی تیاری بہت ضروری ہے لیکن انتظامیہ نے بچوں کے مستقبل کا کوئی خیال نہیں رکھا، اور ان کے تعلیمی ادارے بند کرکے ان پر بڑا ظلم کیا، طلبہ نے بھی وزیراعلی اور انتظامیہ سے درخواست کی کہ سیشن کے درمیان میں ان کے تعلیمی ادارے بند نہ کیاجائے اور تعلیمی ادارے کھول کر ان کا مزید وقٹ ضائع ہونے سے بچایا جائے۔ اس موقع پر طلبہ والدین، اساتذہ اور سکول مالکان نے واضح کیا کہ 12دن بچوں کو تعلیم سے دور رکھا گیا او ر اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو وہ یونیورسٹی روڈ بند کرکے احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -