کراچی،ورلڈ بینک کے وفد کی چیف سیکریٹری سندھ سے ملاقات

کراچی،ورلڈ بینک کے وفد کی چیف سیکریٹری سندھ سے ملاقات

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت سے ورلڈ بینک کے ایک 10 رکنی وفد نے مسٹر جان روم ریجنل ڈائریکٹر سسٹینیبل ڈیولپمنٹ فار ساتھ ایشیا کی قیادت میں ملاقات کی۔ ملاقات میں چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ سید حسن نقوی، سیکرٹری خزانہ ساجد جمال ابڑو، سیکرٹری زراعت اعجاز احمد مہیسر، سیکرٹری لائیو سٹاک تمیز الدین خیرو، سیکرٹری جنرل ایڈمنسٹریشن محمد حنیف چنہ، عبد الرزاق خلیل پروگرام لیڈ ورلڈ بنک  اور دیگر نے شرکت کی۔ ملاقات میں چیف سیکریٹری سندھ نے ورلڈ بینک کے وفد کو صوبہ سندھ میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا۔ چیف سیکریٹری سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ میں تقریبا 30 لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ کپاس، کھجور، چاول اور گنے کی فصلیں بھی سیلاب سے متاثر ہوئی ہیں۔ چیف سیکریٹری سندھ نے وفد کو مزید بتایا کہ اب تک 2 لاکھ سے زائد مویشی بھی سیلاب کی وجہ سے مر چکے ہیں جس سے ان سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں غربت میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صوبائی حکومت پہلے ہی لوگوں کو خوراک اور خیمے فراہم کر رہی ہے  تاہم اب بھی بڑی تعداد میں لوگوں کو مدد کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں متاثرہ آبادی کے لیے بین الاقوامی اداروں کو اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے وفد کو مزید بتایا کہ صوبائی حکومت کاشتکاروں کو گندم کے بیج کی فراہمی اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کم لاگت کے مکانات کی تعمیر کا منصوبہ تیار کرنے پر کام کر رہی ہے۔ ملاقات میں ورلڈ بینک کے وفد نے بتایا کہ ورلڈ بینک بورڈ کا اجلاس آئندہ ماہ شیڈول ہے جس میں پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے ایک ارب ڈالر کی منظوری دی جائے گی۔ ورلڈ بینک کے وفد نے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور سندھ حکومت سے کہا کہ وہ اکتوبر کے وسط سے پہلے متاثرین کی بحالی اور مدد کا پلان پیش کرے۔

مزید :

صفحہ اول -