غیر تصدیق شدہ بیج اور کیڑے مار ادویات فروخت کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا فیصلہ

غیر تصدیق شدہ بیج اور کیڑے مار ادویات فروخت کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ سختی سے ...
غیر تصدیق شدہ بیج اور کیڑے مار ادویات فروخت کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا فیصلہ

  

اسلام آباد(آئی این پی ) غیر تصدیق شدہ بیج اور کیڑے مار ادویات فروخت کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کرلیا گیا،کسانوں کو تصدیق شدہ بیج اور کھادیں کم نرخوں پرفراہم کی جائیں گی،کسانوں کو ترجیحی بنیادوں پر مراعات دینے کے لیے جامع زرعی منصوبہ شروع کرنے کا پروگرام،زرعی شعبے میں جامع اصلاحات کی جائیں گی۔ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق زرعی شعبے کی پیداوار کو بڑھانے، غذائی مصنوعات کی درآمدات کو کم کرنے اور کسانوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ایک جامع اصلاحاتی منصوبے کی ضرورت ہے۔ترقی پذیر ممالک کی اکثریت میں زراعت ایک لازمی جزو اور ترقی کا ایک مضبوط انجن ہے۔ پاکستان ایک زرعی معیشت بھی ہے جو قومی آمدنی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اس پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ آبادی کا سب سے بڑا حصہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر زراعت کے شعبے میں سرگرم عمل ہے۔

 نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر اسلام آباد کے ایک سینئر سائنسی افسرڈاکٹر نور اللہ نے ویلتھ پاک سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اس لیے اس کی معیشت اپنے زرعی شعبے کا خیال رکھے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔ ملک کا زرعی شعبہ نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانے سے ترقی کر سکتا ہے جس سے کسانوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ان کی مصنوعات کو مزید مسابقتی بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے میں اصلاحات لانے کے لیے ضروری ہے کہ تحقیقی اداروں کو فنڈز میں اضافہ کرکے انہیں مضبوط کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے نجی کمپنیوں کو بھی شامل کرنا چاہیے۔کاشتکاری کے طریقوں کو بہتر بنانے کے لیے معیاری بیجوں، آسان قرضوں اور کیڑے مار ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے جو نجی شعبے کی شمولیت سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ 

انہوں نے زور دیاکہ کسانوں کو بیج، کھاد اور کیڑے مار ادویات تک آسان رسائی ہونی چاہیے۔نوراللہ نے کہا کہ حکومت زمین اور پانی کی اصلاحات پر خصوصی توجہ دے۔ فعال کاشتکاری کے تحت زمینوں کو دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے جن میں ان کی مٹی کی زرخیزی کو بحال کرنا، نمکیات کو ختم کرنا اور پانی جمع کرناشامل ہے جس سے غیر استعمال شدہ زمینوں کو بھی کاشت میں لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے خراب ہونے والی اشیا کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے کولڈ سٹوریج کی سہولیات کی تخلیق اور توسیع پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ چونکہ ملک کا کریڈٹ سسٹم زیادہ پیچیدہ ہے اس لیے محدود مالی وسائل کے حامل چھوٹے کسان اکثر بینک قرضوں کے لیے درخواست دینے سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو ون ونڈو آپریشن کے ذریعے قرضوں تک آسان رسائی حاصل کرنی چاہیے۔

مزید :

کسان پاکستان -