سیاسی صورت حال قابو میں ہے!

       سیاسی صورت حال قابو میں ہے!
       سیاسی صورت حال قابو میں ہے!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 نومئی کے بعد معاشی صورت حال قابو میں آئی ہو یا نہ آئی ہو، سیاسی صورت حال ضرور قابو میں آگئی ہے۔ فرق پڑا ہے تو صرف یہ کہ اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ کے میدان میں نواز شریف کی جگہ عمران خان نے لے لی ہے اور نوجوان بلاول بھٹو لیول پلیئنگ فیلڈ کا واویلا کرتے پائے جاتے ہیں اوراپنے ہی ڈیڈی مسٹر زرداری کو مسلز دکھا رہے ہیں۔

9مئی سے قبل معاشی ہی نہیں سیاسی صورت حال بھی ابتر تھی۔ سب کچھ زمان پارک سے ہینڈل ہو رہا تھا اور زمان پارک والے خدا جانے کہاں کہاں سے ہینڈل ہو رہے تھے۔ ٹی وی سکرینوں پر تو صرف حلف دینے لینے کے مناظر ہی نظر آتے تھے، وہ نہیں نظر آتے تھے جن کے ایما پر یہ کاروائیاں ہو رہی تھیں۔ کہا یہ جا رہا تھاکہ جب تک سیاسی بے یقینی ختم نہیں ہو گی تب تک معیشت درست نہ ہوگی۔ چشم فلک دیکھ رہی ہے کہ سیاسی بے یقینی ختم ہو گئی مگر معاشی بے چینی وہیں کی وہیں ہے بلکہ سچ پوچھئے تو اس سے کہیں بڑھ کر ہے کیونکہ مہنگائی پر قابو پانا اب کسی کے بس میں نظر نہیں آتا ہے، پہلے پی ٹی آئی ناکام ہوئی، پھر پی ڈی ایم ہوئی اور اب ٹیکنوکریٹس ناکام ہو گئے۔ یہ ہاتھی اپنی مرضی سے ہی زمیں بوس ہوگا! 

کیا واقعی عمران خان کی سیاسی مقبولیت اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ وہ بھٹو کے ہم پلہ سیاستدان بن چکے ہیں یا اگر بھٹو کے ہم پلہ نہیں تو نواز شریف کے ہم پلہ سیاست دان بن چکے ہیں۔ اس کو جانچنے کا ایک معیار ووٹ ہوسکتے ہیں جو اگر انیس بیس کے فرق سے ووٹ پڑتے ہیں تو یقینی طور پر وہ نواز شریف کے ہم پلہ ہیں اور اگر عمران خان نے 80 بیس کا فرق ڈال دیا تو بھٹو کے ہم پلہ سیاستدان بن جائیں گے۔ گویا کہ اگلے عام انتخابات عمران کے حق میں یا ان کے خلاف ہوں گے۔ تاہم اگر انہیں بغاوت کے مقدمے میں سزا ہو جاتی ہے اور وہ انتخابات کے دوران جیل میں پڑے ہوتے ہیں اور ان کی پارٹی مزید تقسیم کا شکار ہو جاتی ہے تو یقینی طور پر انتخابات کے موقع پر ایک ایسا میکانزم ضرور حرکت میں آجاتا ہے جو انتخابات کی ناک کو مرضی سے مروڑنے کی استطاعت رکھتا ہے۔ 

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس وقت ملک میں غیر متنازع انتخابات کی بحث دم توڑ چکی ہے، اس کی جگہ بلاول بھٹو کا لیول پلیئنگ فیلڈ کا بیانیہ لے چکا ہے اور بلاول کا اصرار ہے کہ وہ یہ مطالبہ نون لیگ سے کر رہے ہیں جبکہ نون لیگ کا کہنا ہے کہ بلاول غلط جگہ زور لگارہے ہیں۔ انہیں یا تو الیکشن کمیشن سے یہ مطالبہ کرنا چاہئے یا پھر اسٹیبلشمنٹ سے کرنا چاہئے۔ خواجہ آصف کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ فیلڈ تو ابھی سجا ہی نہیں ہے، اس لئے لیول پلیئنگ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بہرحال بلاول نے نون لیگ سے ٹکر لے لی ہے اورثابت کرنے پر تل گئے ہیں کہ عمران خان کی بجائے ان میں نواز شریف کی مقبولیت سے ٹکر لینے کی اہلیت ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس وقت ملکی سیاست نواز شریف کے گرد گھوم رہی ہے جن کی مثال اس پہلوان کی ہے جسے ہر کوئی گرانا چاہتا ہے۔ 

دوسری جانب نواز شریف کی واپسی اس وقت ہر محفل میں زیربحث ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ اب کارکنوں کو لاہور ایئرپورٹ کی بجائے مینار پاکستان میں جمع ہونے کا کہا جائے گا جہاں نواز شریف بذریعہ ہیلی کاپٹر پہنچیں گے اور خطاب کریں گے۔ پی ٹی آئی حلقوں میں ابھی تک یہ تاثر ہے کہ عمران خان کے سواکوئی اور مینار پاکستان نہیں بھر سکتا ۔ اس مفروضے کو غلط ثابت کرنے کے لئے نون لیگ مینار پاکستان پر پنڈال سجانے جا رہی ہے۔ گویا کہ نون لیگ کو بھی پتہ ہے کہ جب تک وہ مینار پاکستان بھر کرنہیں دکھائیں گے تب تک عمران خان کی مقبولیت کا جادو لوگوں کے سر سے نہیں اترے گا۔ 

صحافی ارشد شریف کا قتل ہو یا پھر وزیر آباد میں عمران خان پر چلنے والی گولی کا معاملہ، اسٹیبلشمنٹ نے بروقت اقدامات کرکے جنرل فیض گروپ کے مقاصد کو ملیا میٹ کردیا تھا اور انتہا 9مئی کو ہوگئی جب عمران خان کا سارا منصوبہ چوپٹ ہوگیا اور اب وہ اٹک جیل میں قید ہیں۔ اس صورت حال میں عوام کا ایک طبقہ چاہے انہیں انٹی اسٹیبلشمنٹ سمجھتا ہو لیکن خود عمران خان اس وقت اسی اسٹیبلشمنٹ کے نرغے میں ہیں جو جانتی ہے کہ اگر اس مرحلے پر عمران خان کو کھل کھیلنے کا موقع دے دیا گیا تو خالی ان کا نہیں بلکہ پورے ادارے کی شکل تبدیل ہو کر رہ جائے گی۔ 

نوازشریف آخری حل کے طور پر سامنے آئے ہیں اور حقیقت میں اس وقت وہ اقتدار میں نہ ہوتے ہوئے بھی برسر اقتدار نظر آرہے ہیں۔ بین الاقوامی حالات اور دوست ممالک کی ترجیحات کو دیکھا جائے تو عمران خان کسی بھی صورت سازگار چوائس نہیں ہیں کیونکہ عمران خان نے سیاستدانوں میں اپنے سوا  اور فوج میں جنرل فیض حمید کے سوا کسی اور کو دوست نہیں بنایا اور اب سارے سیاستدان ان کے اور پوری فوج جنرل فیض کے خلاف ہو چکی ہے۔ عمران خان سے اقتدار میں رہتے ہوئے اور اقتدار سے نکلنے کے بعد اس قدر حماقتیں سرزد ہو چکی ہیں کہ ان کو بوتل میں بند کرنا اب زیادہ مشکل نہیں رہا ہے۔ جہاں تک انٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ کا تعلق ہے تو اگر نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کرتے کرتے لندن جا پہنچے تھے تو عمران خان کیوں جیل میں پڑے نہیں رہ سکتے ہیں جو اپنی مقبولیت سے بڑا جرم کر چکے ہیں۔ اس لئے بیانیہ اسٹیبلشمنٹ کے حق میں ہو یا خلاف، نقصان خربوزے کا ہی ہوتا ہے۔