عمران خان کی پارٹی کے انتخابات کا المیہ

عمران خان کی پارٹی کے انتخابات کا المیہ
عمران خان کی پارٹی کے انتخابات کا المیہ

  

اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان میری پسندیدہ شخصیت رہے ہیں۔مَیں انہیں کرکٹ ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے پسند کرتا تھا، پھر جب وہ شوکت خانم میموریل ہسپتال بنا رہے تھے تو ان کے جذبہ جنوں نے لاکھوں پاکستانیوں کی طرح مجھے بھی متاثر کیا تھا۔ اس سے ذرا آگے چل کر جب انہوںنے قومی لباس اپنا یا، انگریزی لباس ترک کیا اور نماز روزے سے آگے بڑھ کر قرآن فہمی کی طرف راغب ہوئے تو بے داغ قیادت کے حوالے سے قوم کے دیگر مایوس لوگوں کی طرح مَیں نے بھی اس اُمید کے ساتھ عمران خان کی طرف دیکھا تھا کہ کاش یہ شخص سیاسی قیادت کے لئے تیار ہوجائے تو ملک کی قسمت سنور سکتی ہے۔

 پھر جب عمران خان نے سیاست میں قدم رکھا اور انتخابات میں اپنی نوزائیدہ پارٹی کے بل بوتے پر حصہ لینے کے لئے کود پڑے تھے تو مجھے شدید مایوسی ہوئی تھی، کیونکہ صاف نظر آرہا تھا کہ شاید وہ تنہا اپنی شخصیت کی بنیاد پرتو انتخاب جیت لیں، لیکن ان کی پارٹی قطعی کامیاب نہیں ہوسکے گی، لہٰذا اسمبلی میں ان کے تنہا پہنچ جانے سے کچھ نہیں ہوگا کہ ”جمہوریت میں بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے“.... مجھے خدشہ ہوا کہ ہماری انتخابی سیاست ایک ایسے شخص کو ضائع نہ کردے، جس کے اندر بے پناہ قائدانہ صلاحیتیں موجود ہیں۔ 1970ءکے انتخابات میں اے کے بروہی کے ہارنے اور علی حسن منگی کے جیت جانے کی مثال موجود تھی۔ پھر کئی ماہ و سال گزرنے کے بعد جب عمران خان پارٹی کی تنظیم کی طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے اپنی شخصیت کو پسند کرنے کی بنیاد پر ہجوم کی صورت میں اپنے گرد جمع ہونے والے افراد کو ایک تنظیم میں ڈھالنے کا سوچا تو بہت خوشی ہوئی کہ” دیر آید درست آید“.... عدلیہ بحالی کی تحریک سے 2008ءکے انتخابات تک ان کی سچی کھری باتوں، ان کی اپروچ اور ان کی متوازن لبرل پالیسی نے عوام کو سب سے زیادہ متوجہ کیا۔

2011ءاور2012ءکے دوران متاثر کن جلسوں کے ساتھ ساتھ کئی نامور شخصیات کی ان کی پارٹی میں شمولیت نے ثابت کیا کہ وہ تیزی سے سیاسی مقبولیت بھی حاصل کررہے ہیں اور 2013ءکے انتخابات ان کے لئے شاید اچھی خبر لے کر آئیں....لیکن قریب سے ان کی تنظیم کو پرکھنے والے یہ بات بھی محسوس کررہے تھے کہ اگر عمران خان اپنی پارٹی کی تنظیمی خامیوں کو دور نہ کرسکے تو یہ شاید ان کی” آخری اننگ“ ہوگی اور ہوسکتا ہے کہ 2013ءکے انتخابات کے بعد جب وہ حصار ٹوٹ جائے، جس کے اندر ”قید“ ہوجانے والا عمران خان جیسا شخص تو کیا بھٹو جیسا شخص بھی باہر کی دنیا کے بارے میں ”سب اچھا“ کے سوا کوئی اور خبر سننے سے قاصر رہتا ہے، تو انہیں حالات کی حقیقت کا علم ہوسکے۔سیاسی پارٹی کی ممبر سازی کس طرح ہوتی ہے؟ اور ممبر سازی کے لئے اُصول و ضوابط اور معیار کس طرح مقرر کئے جاتے ہےں؟ ممبر سازی کے بعد تعلقہ، شہر، ضلع اور صوبے کی سطح پر قیادت کے انتخاب کا طریقہ کیا ہونا چاہئے؟ اور سیاسی پارٹی کی تعلقہ اور شہر کی قیادت کے لئے بھی صادق، امین، تعلیم یافتہ اور سیاسی تجربہ کار ہونے کی شرط کیوں ضروری ہے؟

ان مراحل کو عبور کرنے کے لئے کم از کم ضلع کی سطح پر ایڈہاک باڈی مقرر کرکے پارٹی کے معقول دفاتر کا قائم کیا جانا اور ان دفاتر کو منتخب قیادت کے چارج سنبھالنے تک مرکزی سیکرٹریٹ کی شفاف مالی اعانت سے فنکشنل رکھنا بنیادی شرط کیوں ہے؟ چند پینا فلیکس، چند پوسٹر اور گاہے مرکزی قیادت کے دورے پر چند مقامات کو پارٹی پرچم سے سجادینا ، پھر پارٹی کے ہوا میں معلق ہونے کا نظارہ کرنے کے غیر سیاسی انداز سے صرف موبائل فونز کے سہارے کیاکوئی سیاسی پارٹی چلائی جاسکتی ہے؟....مگر ان باتوں کے باوجود عمران خان سے متاثر جس کسی شخص نے ان کی پارٹی کو قریب سے پرکھا، اس نے مایوسی کے ساتھ ساتھ یہ توقع بھی برقرار رکھی کہ وہ انتخابات سے قبل اپنی پارٹی کے انتخابات کے ذریعے ضرور ہر خامی کو دور کرلیں گے اور وہ جس انداز سے پارٹی انتخابات کا تجربہ کرنے جارہے ہیں، اس کے انداز سے ان کی شخصیت کی طرح صاف شفاف سیاست بھی منفرد انداز سے اُبھرے گی، لیکن افسوس کہ یہ سحر ٹوٹ گیا ہے.... ”نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم“ کے انداز کے پارٹی انتخابات کے نتائج نے، حد درجہ مایوسی کے بعد واضح کردیا ہے کہ 2013ءکے عام انتخابات کے نتائج بھی عمران خان کے لئے اچھی خبر نہیں لائیں گے۔

 خیبر پختونخوا اور پنجاب میں اگرچہ عمران خان کی پارٹی کے انتخابات نے عمران خان کی قیادت پر بھروسہ اور ناز کرنے والوں میں اس انداز کی مایوسی اور باہمی انتشارکو جنم نہیں دیا، جس سے صوبہ سندھ دوچار ہے تو شاید وہاں نتائج کچھ مختلف ہوسکتے ہیں، مگر سندھ میں تحریک انصاف نے قومی اور صوبائی اسمبلی کی ایک ایک نشست بھی جیت لی تو اسے معجزہ سمجھا جائے گا، جس کی بنیاد پارٹی کی تنظیم اور عمران خان کی شخصیت سے زیادہ پیری مریدی اور سرداری کے اثرات پر استوار ہوگی۔سندھ میں تحریک انصاف کے انتخابات میں تین پینل بنے تھے۔ انصاف پینل کے انچارج کراچی کے جہانگیر رحمن تھے۔ وہ صوبائی صدارت کے اُمیدوار تھے اور ان کے پینل سے ماتلی کے الہ داد نظامانی جنرل سیکرٹری کے اُمیدوار تھے۔ مہران پینل کے انچارج جنوبی پنجاب اور بالائی سندھ سے تعلق رکھنے والے نادر اکمل لغاری تھے۔ اس پینل سے نادر اکمل لغاری صوبائی صدارت اور کراچی کے حفیظ الدین جنرل سیکرٹری کے اُمیدوار تھے۔ تیسرا پینل انقلابی پینل کے نام سے میدان میں تھا، جس کے انچارج کراچی کے علی زیدی صوبائی صدارت کے اُمیدوار تھے اور شریف بلیدی جنرل سیکرٹری کے اُمیدواربنے۔

 جب 21 اضلاع میں انتخابات ہوئے تو جہانگیر رحمن کے پینل کو 16 اضلاع میں کامیابی کے سبب واضح برتری حاصل ہوگئی،اور نادر اکمل لغاری کا پینل صرف 3اضلاع میں کامیاب ہوسکا، مگر صوبائی قیادت کے انتخاب کے نہایت حیران کن نتائج سامنے آئے۔ بتایا جاتا ہے کہ لسانی اور صوبائی تعصبات کو بھی اُبھارا گیا اور اثر و رسوخ کے ساتھ پیسے کا بھی بے دریغ استعمال ہوا، چنانچہ نتیجہ توقع کے برعکس سامنے آیا۔ نادر اکمل لغاری صوبائی صدر اور حفیظ الدین جنرل سیکرٹری منتخب ہوگئے۔ پارٹی انتخابات کے اس پروسیس کے دوران صداقت اور امانت کے ساتھ دیانت اور متانت کی دستار کس طرح پاو¿ں تلے روندی گئی اور پارٹی کے عہدوں کے لئے کس طرح ”جنگ اور محبت میں سب جائز ہے، کے فارمولے پر عمل کرکے برتری کے حصول پر نگاہ رکھی گئی اس کی رپورٹ حصار میں قید ہونے کے باوجود عمران خان کو مل چکی ہے اور ان کے علم میں آچکا ہے کہ ان کے مخلص ساتھیوں کا جذبہ ہار گیا ہے اور ہر قیمت پر عہدوں کے متمنی لوگ جیت گئے ہیں.... مگر شاید حیدرآباد میں رونما ہونے والا ایک اہم واقعہ ان کے علم میں نہیں آیا ہوگا ۔

 یہ 31مارچ کی شب کی بات ہے کہ عمران خان کے پرانے ساتھی ڈاکٹر مستنصر باللہ جو مولانا ندوی کی ہدایت پرعمران خان کے ساتھی بنے تھے اور وسط مارچ کے دوران حالیہ پارٹی انتخابات میں ضلعی صدر منتخب ہوئے، محض اس لئے زدوکوب کئے گئے کہ پارٹی کے بعض افراد انہیں جیتنے کے بجائے ہارتا ہوادیکھنا چاہتے تھے ۔ ان کے کچھ حریفوں نے جن میں دو سینئر نائب صدر منظور احمد خان اور نثار زئی کے علاوہ جنرل سیکرٹری وسیم اعوان بھی شامل ہیں ، ڈاکٹر مستنصر کی جیت کو قبول نہیں کیا، چنانچہ نہ صرف ضلع کے 30 کے لگ بھگ پارٹی عہدوں پر صدر او رجنرل سیکرٹری نے باہمی مشاورت سے جن لوگوں کو منتخب کرنا تھا، انہیں بھی منتخب نہیں کیا جاسکا، بلکہ ڈاکٹر مستنصر بااللہ کے حریفوں نے جن میں نور مرتضیٰ تھیبو کے علاوہ کئی دوسرے لوگ شامل ہیں، کے ایماءپر 15سے زیادہ افراد نے انہیں کلینک پہنچ کر بری طرح مارا اور کلینک پر موجودعمران خان کے ایک بڑے مداح ندیم اللہ خان کا سر پھاڑ کر انہیں بھی لہو لہان کردیا۔ 31مارچ اور یکم اپریل کی درمیانی شب رونما ہونے والے اس واقعہ پر عمران خان کی پارٹی کے انتخابات کا معاملہ تھانے سے عدالت تک جا پہنچا ہے۔ایک ایسے وقت میں جب عام انتخابات میں صرف تین ہفتے رہ گئے ہیں عمران خان کی پارٹی کے انتخابات انہیں اور ان کی شخصیت کو پورس کے ہاتھیوں کی طرح روند گئے ہیں۔    ٭

مزید :

کالم -