عالمی یومِ کتاب (1)

عالمی یومِ کتاب (1)
عالمی یومِ کتاب (1)
کیپشن:   dr zaheer

  

کہتے ہیں کتابیں انسان کی بہترین دوست ہوتی ہیں۔ انسان جب کبھی بھی تنہا ہوتا ہے تو ایسے وقت میں کتابیں ہی انسان کا دل بہلاتی ہیں۔ کتابیں انسان کی بہترین دوست اور ساتھی ہی نہیں، بلکہ معلومات کا خزانہ بھی ہیں۔ کتابوں سے دوستی میں اضافہ، اشاعتی اداروں کی حوصلہ افزائی اور کاپی رائٹس کے قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی اپیل پر ہر سال باقاعدگی سے کتابوں اور کاپی رائٹس کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں نیشنل بک فا¶نڈیشن نے حکومتی سرپرستی میں 22 اپریل کو کتاب کا قومی دن منایا۔ اس دن کی مناسبت سے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی طرف سے سیمینارز، کانفرنسیں، ریلیاں منعقد کی گئیں، جبکہ اہم شاہراہوں اور پارکوں میں بینرز آویزاں کئے گئے۔یہ حقیقت ہے کہ کوئی درس گاہ اور تعلیم یافتہ معاشرہ کتاب کی ضرورت سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ کہتے ہیں کہ کتاب کا انسان سے تعلق بڑا پرانا ہے اور یہ انسان کے علم و ہنر اور ذہنی استعداد میں بے پناہ اضافہ کرتی ہے اور خود آگاہی اور اپنے ارد گرد کے حالات و واقعات کا ادراک پیدا کرتی ہیں۔

ہر سال کتابوںکا عالمی دن منانے کا تصور بنیادی طور پر سپین کے علاقے کاتالونیا سے آیا ہے، جہاں ایک زمانے سے لوگ عوامی ہیرو سینٹ جورج کی یاد میں منائے جانے والے دن کے موقع پر ایک دوسرے کو گلاب کے پھولوں کا تحفہ دیا کرتے تھے۔ یہ دن ”ویلنٹائن ڈے“ کے مشابہہ ہے۔ اس لئے کتابوں کی دکانوں کے مالکان کی تحریک پر لوگ گلابوں کے ساتھ ساتھ کتابیں بھی بطور تحفہ دینے لگے۔ خاص طور پر شہر بار سلونا میں، جو کہ کاتالونیا کا دارالحکومت ہے، ہر سال 23اپریل کے دن کو عوامی اور ثقافتی نوعیت کے ایک بڑے تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے اور وہاں کی سڑکوں اور بازاروں میں لگے سٹالوں پر لاکھوں گلاب اور کتابیں فروخت ہوتی ہیں، لیکن اس دن کو عالمی سطح پر کتاب کے دن کے طور پر منانے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ یہ عالمی سطح کے دو نامور ادیبوں کا یوم وفات بھی ہے۔ یہ ہیں انگریز ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر اور ہسپانوی شاعر مِگل دے سیروانتیس.... (Miguel de cervantes).... مشہور جرمن فلسفی اور شاعر ژوہان وولفگانگ گوئتھے نے 1771ءہی میں مطالبہ کیا تھا کہ شیکسپیئر کی یاد منائی جانی چاہئے۔ ایسے میں یہ بات باعث تعجب نہیں ہے کہ جب 1995ءمیں یونیسکو نے کاتالونیا میں منائے جانے والے دن کو پوری دنیا میں عالمی یوم کتاب کی حیثیت سے منانے کا فیصلہ کیا تو بہت سے ممالک کی جانب سے اس فیصلے کا زبردست خیر مقدم کیا گیا۔

حکومت کی جانب سے کتب بینی کے عالمی دن کو نہایت سادگی سے منانے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں کتب خانوں اور کتب بینی کے رجحان میں کس قدر کمی واقع ہو رہی ہے اور حکومت کتب بینی کے فروغ کے اعتبار سے کس قدر سستی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں صرف 27 فیصد عوام کتب بینی کے شوقین ہیں، جبکہ 73 فیصد عوام نے کتب بینی سے دوری کا اعتراف کیا ہے، تاہم دانشور طبقے کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی یلغار کے باوجود کتاب کی اہمیت کم نہیں ہوئی ۔ مطالعے میں کمی کی بڑی وجہ کتاب کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں مطالعے کا اشتیاق تو ہے، مگر کتاب اب عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہو گئی ہے۔

کتاب سے دوستی شعور کی نئی منزلوں سے روشناس کراتی ہے، جس طرح ہوا اور پانی کے بغیر جینا ممکن نہیں، اسی طرح کتاب کے بغیر انسانی بقا اور ارتقاءمحال ہے۔ کتاب نے علم کے فروغ اور سوچ کی وسعت میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ دنیا جب تحریر کے فن سے روشناس ہوئی تو انسان نے چٹانوں، درختوں کی چھالوں، جانوروں کی ہڈیوں اور کھالوں، کھجور کے پتوں ، ہاتھی دانت، کاغذ غرض ہر وہ شے لکھنے کے لئے استعمال کی ، جس سے وہ اپنے دل کی بات دوسروں تک پہنچا سکے۔ بعض مورخین کا خیال ہے دنیا کی پہلی کتاب قدیم مصریوں کی ”الاموات“ ہے۔ کچھ مورخین کا کہنا ہے کہ دنیا کی سب سے پہلی کتاب چین میں لکھی گئی، جس کا نام ”ڈائمنڈسترا“ (Diamond sutra) تھا۔ یہ ایک مذہبی کتاب ہے جو آج بھی ”برٹش میوزیم لائبریری“ میں محفوظ ہے.... کتابوں کی داستان بھی عجب ہے۔ کبھی انہیں آگ لگائی گئی تو کبھی دریا برد کیاگیا ، کبھی چرا لیا تو کبھی دفنا دیا گیا۔ کبھی یہ شاہی دربار کی زینت بنیں تو کبھی فٹ پاتھ پر کوڑیوں کے دام فروخت ہوئیں۔

کتاب اور علم دوستی معاشی خوشحالی اور معاشرتی امن کی ضامن ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جس قوم نے علم و تحقیق کا دامن چھوڑ دیا، وہ پستی میں گر گئی ۔ مسلم اُمہ کا زوال اس کی واضح مثال ہے۔ ساتویں صدی سے تیرہویں صدی تک بغداد علم و ادب کاگہوارہ رہا۔ سقوطِ بغداد ہوا تو مسلمانوں کے عظیم کتب خانے فرات میں بہا دیئے گئے۔ یہ اس قدر ضخیم ذخیرہ تھا کہ دریا کا پانی اس کی سیاہی سے سیاہ ہو گیا۔ جب اندلس میں پندرہویں صدی عیسوی کے آخر میں اسلامی حکومت ختم ہوئی تو غرناطہ کی بڑی لائبریری کو بھی ملکہ ازابیلا نے جلوا دیا۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمان کتابیں پڑھتے اور جمع کرتے تھے، مگر رفتہ رفتہ علم سے دوری مسلمانوں کو رسوائی کی طرف لے گئی۔ آج دنیا کے 28 ممالک ایسے ہیں، جہاں سب سے زیادہ کتابیں فروخت ہوتی ہیں، مگر ان 28ممالک میں ایک بھی مسلمان ملک نہیں۔ افسوس! مسلمان اپنی علمی شان بھلا بیٹھے اور اہل یورپ نے مسلمانوں کے علمی مراکز، بالخصوص ہسپانوی مراکز سے استفادہ کر کے تحقیق کی دنیا میں قدم رکھا۔ ہمارے آباو¿ اجداد کی محنت آج بھی لندن کی ”انڈیا آفس لائبریری“ میں موجود ہے۔ ان کتب کی تعداد 6لاکھ کے قریب ہے۔ ان میں عربی، فارسی، ترکی اور اردو میں قلمی کتابوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ لندن کے بعد پیرس لائبریری میں مشرقی زبانوں میں لکھی کتابوں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ 1857ءمیں مغلیہ سلطنت ختم ہوئی، تو انگریزوں نے لال قلعے کی شاہی لائبریری سے ہزاروں کتابیں لوٹ کر لندن پہنچا دی تھیں۔ بقول علامہ اقبال:

وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آباءکی

جو دیکھیں ان کو یورپ میں، تو دل ہوتا ہے سیپارہ

کتاب ایک قوم کی تہذیب و ثقافت اور معاشی، سائنسی اور عملی ترقی کی آئینہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کی بہترین دوست بھی ہے۔ کتابوں سے دوستی رکھنے والا شخص کبھی تنہا نہیں ہوتا۔ کتاب اس وقت بھی ساتھ رہتی ہے،جب تمام دوست اور پیار کرنے والے ساتھ چھوڑ دیں۔ اگرچہ آج ٹی وی انٹرنیٹ اور موبائل نے لوگوں کے ذہنوں پر قبضہ کر لیا ہے، لیکن کتاب کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ نئی نسل میں کتب بینی کا رجحان خاصا کم ہے۔ بچوں کو مطالعے کی طرف راغب کرنا کٹھن کام بن گیا ہے، حالانکہ موجودہ دور میں بڑھتے نفسیاتی مسائل سے بچنے کے لئے آج ماہرین نفسیات بچوں کے لئے مطالعے کو لازمی قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اچھی کتابیں شعور کو جِلا بخشنے کے ساتھ ساتھ بچوں کو بہت سے فضول مشغلوں سے بھی بچاتی ہیں۔ یونانی ڈرامہ نگار، یوری پیڈس ایک جگہ لکھتا ہے.... ”جو نوجوان مطالعے سے گریز کرے، وہ ماضی سے بے خبر اور مستقبل کے لئے مردہ ہوتا ہے“۔

بچوں میں مطالعے کا ذوق و شوق پیدا کرنے میں والدین اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جونہی بچہ سیکھنے اور پڑھنے کی عمر کو پہنچے ، والدین کو چاہئے کہ اسے اچھی اور مفید کتابیں لا کر دیں۔ شروع میں یہ کتابیں کہانیوں کی بھی ہو سکتی ہیں، کیونکہ بچے کہانی سننا اور پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ اس طرح بچے کو مطالعے کی عادت پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ والدین بچوں کے سامنے اپنی مثال قائم کر سکتے ہیں۔ فارغ وقت میں ٹی وی دیکھنے یا فون سننے کے بجائے وہ کسی کتاب یا رسالے کی ورق گردانی کر کے بچے کو بھی اس طرف مائل کریں۔ جب بچہ والدین کو مطالعہ کرتے دیکھے گا تو لاشعوری طور پر اسے یہ ادراک ملے گا کہ فارغ اوقات میں مطالعہ ہی کرنا چاہئے۔ ہو سکے تو بچے کو لائبریری بھی لے جائیں۔ کہتے ہیں کہ لائبریری بچے کے دماغ کی بہترین میزبان ہوتی ہے۔ ڈھیر ساری کتابیں دیکھ کر بچہ خوش بھی ہوتا ہے ۔ وہ اپنی مرضی سے مزاج اور پسند کے مطابق کتابوں کا انتخاب کر کے اپنی دماغی صلاحیتیں اجاگر کر سکتا ہے۔

بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور کتابیں قومی ترقی کی ضامن .... چنانچہ اپنے بچوں کی کتابوں سے دوستی کروا کر آپ نہ صرف انہیں زندگی میں ایک بہترین دوست عطا کریں گے، بلکہ ملک و قوم کی ترقی میں ممدومعاون بن جائیں گے۔ اچھی کتابیں انسان کو مہذب بناتی اور اس کی شخصیت کو وقار عطا کرتی ہیں۔ آج بھی بیشتر خواتین و حضرات کے نزدیک کتابوںپر رقم خرچنے سے کہیں بہتر کپڑوں، جیولری اور زندگی کی دیگر آسائشوں پر پیسہ خرچ کرنا اہم ہے، لیکن یہ تمام چیزیں عارضی اور ضرورت کے تحت استعمال کی جانے والی اشیاءہیں۔ کتاب سے بڑھ کر دنیا میں کوئی ایسی شے نہیں جو ہمیشہ آپ کی دوست رہے۔ کتاب سے دوستی انسان کو شعور کی نئی منزلوں سے روشناس کراتی ہے۔ سو اگر زندگی میں آگے بڑھنا ہے تو خود بھی کتاب سے دوستی پکی کریں اور اپنے بچوں کو بھی اس بہترین دوست سے روشناس کروایئے۔   (جاری ہے)

گیلپ سروے کے مطابق پاکستان میں42 فیصد کتب بین مذہبی، 32 فیصد عام معلومات یا جنرل نالج، 26 فیصد فکشن اور7فیصد شاعری کی کتابیں پڑھتے ہیں۔ گیلپ پاکستان کی طرف سے کئے جانے والے ایک اور سروے کے مطابق ملک میں 39 فیصد پڑھے لکھے افراد کتابیں پڑھنے کے دعویدار ہیں، جبکہ 61فیصد کا کہنا ہے کہ وہ کتابیں نہیں پڑھتے ہیں۔

معاشرے میں کتب بینی کے رجحان میں کمی کی ایک وجہ انٹرنیٹ بھی ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کتب بینی کی جگہ انٹرنیٹ نے لے لی ہے۔ لوگ اب دکانوں اور کتب خانوں میں جا کر کتابیں، رسائل و ناول پڑھنے کے بجائے انٹرنیٹ پر پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لوگوں کو گھر میں بیٹھے بیٹھے انٹرنیٹ کے ذریعے تمام نئی اور پرانی کتابیں حاصل ہو جاتی ہیں۔ اس طرح لوگوں کا وقت اور رقم دونوں ضائع ہونے سے بچ جاتے ہیں۔ کتابوں کے شوقین ہمیشہ اچھی کتب کی تلاش میں رہتے ہیں، انہیں ہمیشہ ہر جگہ اچھی اور دلچسپ کتب پڑھنے کا شوق ہوتا ہے، لیکن بدقسمتی سے کتابوں کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے سے کتابیں خریدنے کے رجحان میں کمی آتی جا رہی ہے اور ماضی کے مقابلے میں اب کتب فروشوں نے دکانوں پر کتب بینوں کی تعداد میں کمی ریکارڈ کی ہے۔ انٹرنیٹ سٹوڈنٹس کمیونٹی اور تعلیم یافتہ طبقے کے لئے نہایت مفید ثابت ہوا ہے۔ طالب علم کمپیوٹر پر یونیورسٹی و کالج کی اسائنمنٹس بناتے ہیں اور پھر ای میلز یا پھر دیگر انٹرنیٹ ذرائع سے ایک دوسرے کوایک ہی جگہ بیٹھے پہنچاتے ہیں۔ یوں تعلیم سے متعلق تبادلہ خیال میں بھی آسانی ہوتی ہے اور طلبہ کا اساتذہ سے رابطہ بھی رہتا ہے، مگر انٹرنیٹ کے باعث آج کل کا طالب علم صرف کورس کی کتابوں کے علم تک محدود ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طالب علم انٹرنیٹ چیٹنگ (Chatting)اور سماجی روابط کی ویب سائٹس میں اپنا وقت ضائع کر دیتے ہیں۔

اس دن کی مناسبت سے دنیا بھر میں کتابوں کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے مختلف تقاریب کا اہتمام ہوتا ہے۔ کتابوں کی نمائشیں، سیمینار، سمپوزیم اور اسی طرح کے دوسرے فنکشن منعقد کر کے کتب بینی کے ذوق و شوق کو پروان چڑھانے کی زور دار کوششیں کی جاتی ہیں۔ دور جدید میں اگرچہ مطالعہ کے نئے میڈیم متعارف ہو چکے ہیں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برکت سے علم کا حصول اور اطلاعات رسانی کے باب میں انقلاب برپا ہو چکا ہے، مگر کتاب کی اپنی دائمی اہمیت اور افادیت اپنی جگہ قائم و دائم ہی نہیں، بلکہ اس میں حد درجہ اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیا بھر میں کتابوں کی اشاعت اور کتب بینی کے شائقین کی تعداد ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ لاکھوں کتابیں زیور اشاعت سے مزین ہو رہی ہیں اور بے شمار لائبریریاں معرض وجود میں آ رہی ہیں۔ اس میں دو رائے نہیں کہ کتاب اور انسان کا رشتہ اتناہی قدیم ہے جتنا کہ خود انسانی تہذیب و تمدن کا سفر اور علم و آگہی کی تاریخ۔ تہذیب کی روشنی اور تمدن کے اجالے سے جب انسانی ذہن کے دریچے بتدریج کھل گئے، تو انسان کتاب کے وسیلے سے خودبخود ترقی کی شاہراہ پر قدم رنجہ ہوا۔ سچ مچ کتاب کی شکل میں اس کے ہاتھ وہ شاہی کلید آ گئی، جس نے اس کے سامنے علم و ہنر کے دروازے کھول دیئے۔ ستاروں پر کمندیں ڈالنے، سمندروں کی تہیں کھنگالنے اور پہاڑوں کی چوٹیاں سر کرنے کا شوق اس کے رگ و پے میں سرایت کر دیا۔

 جوں جوں یہ شوق پروان چڑھتا رہا کتاب اس کے لئے ایک مجبوری بنتی گئی، کیونکہ یہ اسی کتاب کی کرامت تھی کہ انسان کے لئے مطالعے اور مشاہدے کے بل پر نئی منزلیں طے کرنا آسان ہوا۔ علم و فن نے اس کی ذہنی نشوونما، مادی آسائشیں اور انقلاب فکر و نظر کا سامان پیدا کیا۔ غرض کتاب شخصیت سازی کا ایک کارگر ذریعہ ہی نہیں، بلکہ زندہ قوموں کے عروج و کمال میں اس کی ہم سفر بن گئی۔ کتاب کی اس ابدی اہمیت کے زیر نظر زندہ قوموں کا شعار، بلکہ فطرت ثانیہ ہوتی ہے کہ وہ کتب خانوں کو بڑی قدرومنزلت دیتے ہیں۔ آج کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلابی دور میں امریکہ میں لائبریری آف کانگریس اور برطانیہ میں برٹش میوزیم لائبریری دو قوموں کے واسطے فکری اساس یا شہ رگ بنی ہوئی ہیں۔ یہی علم پرور ادارے ان کو خیالات کی نئی وسعتوں میں محو پرواز رکھتے ہیں، قوم و ملت کو تمام شعبہ ہائے زندگی میں منزل مقصود تک پہنچانے کے ضمن میں ان لائبریریوں کی کروڑوں کتابیں خاموشی سے راہبری اور رہنمائی کا فریضہ انجام دیتی ہیں۔ ان قوموں کے باشعور عوام میں لائبریری تحریک کا ایک منظم سلسلہ بھی موجود ہے۔

پاکستان میں کتب بینی کے فروغ نہ پانے کی وجوہات میں کم شرح خواندگی، صارفین کی کم قوت خرید، حصول معلومات کے لئے موبائل، انٹرنیٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال، اچھی کتابوں کا کم ہوتا ہوا رجحان، حکومتی عدم سرپرستی اور لائبریریوں کے لئے مناسب وسائل کی عدم فراہمی کے علاوہ خاندان اور تعلیمی اداروں کی طرف سے کتب بینی کے فروغ کی کوششوں کا نہ ہونا بھی شامل ہے۔ پاکستان میں درست طور پر خواندہ شہریوں کی تعداد بہت ہی کم ہے، ان میں سے کتابیں خریدنے کی سکت رکھنے والے زیادہ تر افراد انگریزی کتابیں پڑھتے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کتابیں قارئین کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں۔ ان کے بقول جب تک کتابیں غریبوں کی پہنچ میں نہیں آتیں، اس رجحان کا فروغ پانا مشکل ہے۔ کتابیں انسانی زندگی پر بہت اچھے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ادب انسانی مزاج میں نرمی پیدا کرتا ہے، اس لئے کتابوں کو فروغ دے کر بھی دہشت گردی کے جذبات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ پاکستانی اشرافیہ کتابوں سے لاتعلق ہے اور معاشرہ بھی کتابیں نہ پڑھنے والوں کو جاہل نہیں سمجھتا۔ اچھی کتابیں آج بھی پڑھی جا رہی ہیں۔

کتابوں کے حوالے سے موجود کئی مسائل کے باوجود پاکستان میں کتب میلے، دنیا کی بہترین کتابوں کے تراجم کی اشاعت، ای بکس، آن لائن بکس سٹور، ریڈرز کلب، موبائل بک سٹورز اور میگا بکس سٹورز کتابوں کی دنیا کے نئے رجحانات ہیں۔ یاد رہے پاکستان میں کئی ادارے کتب بینی کے فروغ کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔ اس لئے مبصرین کے بقول پاکستان میں کتابوں کے اچھے مستقبل کی توقع کی جا سکتی ہے۔ آج 23 اپریل ہے اور ہر سال اس روز عالمی یوم کتاب منایا جاتا ہے۔ دنیا میں سو سے زیادہ ممالک میں کتابوں اور کاپی رائٹس کا عالمی دن منایا جاتا ہے اس دن کا مقصد کتب بینی کے شوق کو فروغ دینا اور اچھی کتابیں تحریر کرنے والے مصنفین کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

عالمی یوم کتاب کے موقع پر بک سیلرز اور پبلشرز کتابوں پر زیادہ ڈسکا¶نٹ دے کر اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بہت ساری کتابیں مفت بھی تقسیم کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں ویلنٹائن ڈے منایا جا سکتا ہے تو عالمی یوم کتاب کیوں نہیں؟ عالمی یوم کتاب پیغام دیتا ہے کہ محض خانہ پُری نہ کی جائے،بلکہ عوام الناس میں کتب بینی کا شوق اور صحت مند کتابوں کے مطالعہ کی طرف عوام الناس کو راغب کیا جائے۔ حکومتی سطح پر کاغذ سستا کرنا چاہئے تاکہ چھپائی کے اخراجات کم ہو سکیں۔ لائبریریوں کو عوام الناس میں کتب بینی کے شعور کو اجاگر کرنے کے لئے خصوصی پروگرام ترتیب دینے چاہئیں۔

مزید :

کالم -