”ورلڈبنک اور آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنے کا آسان نسخہ! “

”ورلڈبنک اور آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنے کا آسان نسخہ! “
”ورلڈبنک اور آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنے کا آسان نسخہ! “
کیپشن:   1 سورس:   

  

 پاکستان اس وقت آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سمیت عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل میں بری طرح پھنسا ہوا ہے اور سودی نظام نے ملکی معیشت کو اس بری طرح جکڑ رکھا ہے کہ اصلاح احوال کی تمام تدبیریں الٹی پڑ رہی ہیں ، اقتصادی نظام تباہی کے دھانے پر ہے ،معیشت بیٹھ گئی ہے ،روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے اور بے قدری اور بے توقیر ی سے بچانے کیلئے بھی ہاتھ پھیلانا پڑتے ہیں ،آئی ایم ایف سے جو قرضہ لیا جاتا ہے وہ سودی قسطیں ادا کرنے کے لئے دوبارہ اسی کو لوٹا دیا جاتا ہے ،ایک ایسا سودی چکر ہے جس میں قو م پس کر رہ گئی ہے اور صورت حال اتنی گھمبیر ہوچکی ہے کہ سر ڈھانپتے ہیں تو پاﺅں ننگے ہوجاتے ہیںاورپاﺅںچھپانے کی کوشش کرتے ہیں تو سر ننگا ہوجاتا ہے ، عالمی برادری میں ہمارے ساتھ ایک بھکاری جیسا سلوک کیا جاتا ہے ،قومی عزت و وقار بری طرح مجروح ہے ،آئی ایم ایف سے بھاری شرح سود پر قرضہ حاصل کرنے کے لئے بھی اس کی ذلت اورتوہین آمیز شرائط ماننا پڑتی ہیں ۔ان حالات میں اگر کوئی ہمیں ہمارے قرضے ادا کرکے عالمی مہاجنوں سے آزاد کرانے کی یقین دہانی کروا دے تو بلاشبہ اس سے بڑھ کر ہم کسی کو اپنا خیر خواہ اور دوست نہیں سمجھیں گے !

امریکہ برطانیہ یا سعودی عرب ہمارے قرضوں کی ادائیگی کی ذمہ داری اٹھا نے کی حامی بھرلیں تو ہم سمجھیں گے کہ ہمیں نئی زندگی مل گئی ہے ،لیکن ایک ذات ہے جو بار بار ہمیں متوجہ کرکے کہتی ہے کہ آﺅ میری طرف آجاﺅ میں تمھاری ساری پریشانیوں کو راحتوں میں بدلنے پر قادر ہوں تو ہمیں یقین نہیں آتا ،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے.... ترجمہ(اللہ ہی تو ہے روزی دینے والا مضبوط اور قوت والا)(الذاریات58)اللہ تعالیٰ نے سورة النحل آیت نمبر 112میں ایک بستی کا ذکرفرمایا ہے.... ترجمہ(اور اللہ تعالیٰ نے ایک بستی کی مثال دی ،جو امن اور چین میںچلی آتی تھی،اس کو ہر جگہ سے روزی ملتی تھی اور روزی کی فراغت تھی ،پھر انہوں نے اللہ کے احسانوں کی ناشکری کی ،اللہ تعالیٰ نے ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا، بسبب اس کے کہ جو کچھ وہ کرتے تھے۔ایک بستی امن و سکون میں اور خوشحال تھی،بستی پر چاروں طرف سے رزق کے دروازے کھلے تھے ،لیکن پھر یہ ہوا کہ بستی والوں نے اللہ کی نعمتوں کو ٹھکرایا اور بغاوت اور منافقت کا راستہ اختیار کیا اور اللہ نے ان کے اعمال بد کے نتیجے میں ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا)۔

قران عظیم الشان کی ہر آیت ہر دن وقت اور زمانے کے لئے تروتازہ ہے ،پہلے انسان سے لیکر قیامت تک آنے والے آخری انسان کے لئے بھی اللہ کا یہی پیغام حتمی اور آخری ہے۔،قرآن پاک کے مطالعہ سے بعض اوقات تو بالکل یوں محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ابھی ابھی ہمارے لئے ہی نازل فرمائی ہے ۔جس بستی کی اللہ تعالیٰ نے مثال دی ہے اس میں رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے امن چین اور وافر رزق دے رکھا تھا ،کوئی غم اور پریشانی نہیں تھی ،بروقت بارشیں ،خوبصورت موسم ،بیماری تھی نہ بھوک اور نہ جنگ وجدل ،سب لوگ انتہائی اطمینان سے عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے تھے ۔لیکن ان تمام نعمتوں اور آسائشوں کی فراوانی کے باوجود بستی والوں نے شکر کی بجائے کفر،بغاوت اور منافقت کا رویہ اختیار کیا،جس کی سزا انہیں یہ دی گئی کہ ان سے وہ تمام نعمتیں چھین لی گئیں اور ان پر بھوک اور خوف کو مسلط کردیا ۔

آج پاکستان کا بھی یہی مسئلہ ہے ،چاروں طرف بھوک اور خوف ہے ،ملک و قوم مہنگائی ،بے روزگاری اورطرح طرح کے خطرات میں گھری ہوئی ہے ۔قرآن کریم کی سورة البقرہ میں اللہ ذوالجلال نے بنی اسرائیل پر بھی اپنے بے شمار احسانات کا تذکرہ فرمایا ہے اور انہیں کہا ہے کہ (اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان کو یاد کرو)بنی اسرائیل غلام تھے ،اللہ تعالیٰ نے ان کو فرعونوں کے ظلم و ستم سے آزادی دی ،فرعون ان کے بیٹوں کو ذبح کروادیتا اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رکھتا ،اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے رزق کا مسئلہ بھی حل کردیا اور آسمان سے ان کے لئے من و سلوی ٰ نازل فرمایا ،انہیں چھت کی بھی ضرورت نہیں تھی آسمان ان پر سایہ کرتا تھا ،نیل کو ان کے لئے پھاڑ دیا اور انہیں گزرنے کا رستہ دیکر فرعون کو اس کی فوجوں سمیت غرق کردیا ،ان کے لئے میٹھے پانی کے بارہ چشمے جاری کئے ،سب سے بڑی بات یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو امامت عطاءفرمائی ۔

ہر طرف مزے ہی مزے تھے ،لیکن جب موسیٰ ؑ نے ان سے کہا کہ اب میرے ساتھ جہاد پر چلو توکہنے لگے کہ ہم تو یہ کام نہیں کرسکتے ،تم اور تمھار اخدا جاکر کافروں سے لڑو ،ہم تو یہاں بیٹھے ہیں !آپ جانیں اور آپ کا رب !بلکہ انہوں نے تو ایک جادو گر کے تیار کئے گئے بچھڑے کو پوجنا شروع کردیا !تذکرہ بنی اسرائیل کا ہے لیکن سمجھایا تو ہمیں اور ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کو گیا ہے کہ دیکھو!اگر تم نے بھی کفر اور سرکشی کا رویہ اختیار کیا تو جس طرح بنی اسرائیل اور اللہ کے احکامات کی پرواہ نہ کرنے اور ان کا مذاق اڑانے والی دوسری قوموں کو تباہ و برباد کردیا گیا ،تمھیں بھی ان حالات سے پالا پڑ سکتا ہے ۔قرآن عظیم الشان کہانیوں اور قصوں کی کتا ب نہیں ہے بلکہ ہماری عبرت اور ہدائت کے لئے تباہ شدہ قوموں کے واقعات کا ایک مجموعہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبردار کیا ہے کہ اگر تمھارے دلوں میں بھی کوئی ٹیڑھ ہے تو اسے دور کرلواور اس سے پہلے کہ تم بھی پکڑ لئے جاﺅ،سنبھل جاﺅ اور اپنے اعمال کو درست کرلو!ہر کہا نی میں ہمارے لئے ایک سبق اور درس عبرت ہے ۔اگر ہم بنی اسرائیل اور مذکورہ بستی کے لوگوں کے رویہ کا بغور جائزہ لیں تو اس نتیجے پر پہنچتے دیر نہیں لگتی ہے کہ آج ہماراحال بھی ان سے چنداں مختلف نہیں ہے ۔

آج پاکستان کا مسئلہ بھی یہی ہے ،ہم انگریزوں کے غلام تھے اللہ نے ہمیں آزادی کی نعمت سے سرفراز فرمایا،کیا قوم اپنی تاریخ بھول گئی ،1857ءمیں جب پھانسی کے پھندے کم پڑ گئے تو انگریزوں نے درختوں کے ساتھ رسے باندھے اور مسلمانوں کو پکڑ پکڑ کر ان رسوں پر لٹکا کر پھانسیاں دی جانے لگیں ۔ایک ایک درخت پر کئی کئی مسلمانوں کو لٹکایا گیا ! چاروں طرف سے مسلمانوں کا محاصرہ کیا گیا ،ہمارے تعلیمی نظام ،تہذیب و تمدن کو بدل دیا گیا اور ہمارے بڑوں کو ذلیل کیا گیا ۔جب ہر طرح سے مسلمان ذلیل و خوار ہوگئے اور ان کا وزن تنکوں سے بھی کم رہ گیا تو اللہ تعالیٰ کو ان کی حالت زار پر رحم آگیا اللہ نے ان کی فریادوں کو سن لیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو نہ صرف آزادی دی، بلکہ ایسا ملک عطاءفرمایا جو دنیا بھر میں اپنے شاندار اسٹریٹجک محل وقوع کی وجہ سے اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔معدنیات سے مالا مال پاکستان ،محنتی اور جفا کش عوام ،اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے دنیا بھر میں لاثانی !پانچ دریاﺅں اوردنیا کے بہترین نہری نظام کا حامل ملک ،زرخیز زمینوں ،اونچے پہاڑوں اور وسیع میدانوں پر مشتمل ملک ،بہترین موسم اور آب و ہوا ۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں کیا کچھ عطا نہیں فرمایا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دنیا کی پہلی مسلمان ایٹمی قوت !

غرض یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہر اس نعمت سے نوازا جو اس دنیا میں عزت و وقار کی زندگی گزارنے کے لئے ضروری تھی ! ان سب نعمتوں کے شکر کے لئے ہم سے بس اتنا تقاضا ہوا کہ اپنی زندگی میرے احکامات کے مطابق گزارو،میرے نظام کو اپنا نظام حیات بنالو،تمھارے تعلیمی اداروں ،نظام عدالت ،نظام معیشت اور سیاست میں میرے احکامات کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہئے۔جبکہ ہم نے بنی اسرائیل کے بچھڑا پوجنے کی طرح اسلامی سوشل ازم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانے کی بات کی !ہم نے تمام احسانات کو بھلا کر روٹی کپڑے اور مکان کا مسئلہ اٹھا لیا۔ہم نے بھی مسلسل بے وفائی ،غداری اور بغاوت کا رویہ اختیار کیا ،قوم جسد واحد اور پاکستانی بننے کی بجائے پنجابی سندھی بلوچی پٹھان اور بنگالی کے نسلی اور علاقائی تعصبات میں پڑ کر تقسیم ہوگئی ،پھر وہ وقت آیا کہ اللہ تعالی ٰ نے ہم سے اپنی نعمتیں واپس لینا شروع کردیں ،آدھا ملک ہاتھ سے نکل گیا ،اور باقی ماندہ میںبدامنی اور دہشت گردی نے ڈیرے ڈال لئے ۔

اس کے بعدبھائی بھائی کا گلا کاٹنے لگا ،دریاﺅں اور نہروں کے باوجود ہم پانی کی بوند بوند کو ترسنے لگے ،اخلاقی بیماریوں اور بے راہ روی نے ہم پر یلغار کردی !ہم وہ ماڈل پیش نہ کرسکے جس کا ہم نے اللہ سے عہد باندھا تھا ،ہمارے تعلیمی اداروں ،نظام عدالت و معیشت اور سیاست پر مغربی اور ہندوانہ کلچر کا غلبہ ہو گیا جن سے ہم نے بہت بھاری قیمت پر آزادی حاصل کی تھی ،68سال قبل ایک قوم نے ایک آزاد خطہ زمین کی تلاش میں خون کے دریا بہا دیئے تھے ،لاکھوں جانوں کا نذرانہ دیا ،بہنوں بیٹیوں کی عزت و عصمت قربان کردی لیکن آج وہ خطہ زمین اس عظیم قوم کی تلاش میں ہے جس نے اس کے لئے اتنی بے مثال قربانیاں پیش کی تھیں ،لیکن وہ قوم ڈھونڈے سے نہیں مل رہی !قائد اعظم ؒ نے کم از کم گیارہ مرتبہ سبی،چمن ،کوئٹہ اور کراچی سمیت ملک کے دیگر شہروں میں اپنے خطابات میں اعلان فرمایا تھا کہ ہم ملک میں اسلامی نظام نافذ کریں گے ،جب ان سے سوال کیا گیا کہ پاکستان کا آئین اور دستور کیا ہوگا تو انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے چودہ سو سال قبل قرآن کی شکل میں آئین اور دستور عطاءفرما دیا ہے ۔ہمیں کسی اوردستور کی ضرورت نہیں !

میں سمجھتا ہوں کہ حکمرانوں سمیت قوم کو انفرادی اور اجتماعی توبہ و استغفار کی ضرورت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر تم شکر کی روش اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھیں مزید عطاءفرمائے گا ۔توبہ کا آغاز سب سے پہلے اپنی ذات سے کرنا ہوگا ،اللہ تعالیٰ کا بھی یہی حکم ہے کہ اپنے آپ کو اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاﺅ(القرآن) ہم کب تک اپنے خالق و مالک سے بے اعتنائی کا رویہ اختیار کئے رکھیں گے ۔ہمیں امریکہ ،برطانیہ اور سعودی عرب کے کہنے پر تو اعتماد ہے کہ اگر وہ چاہیں تو ہم آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے چنگل سے نکل سکتے ہیں مگر ہمارا مہربان مولاہمیں پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اب بھی پلٹ آﺅ ،میرے بن جاﺅ میں تمھیں تمام ”خداﺅں “سے بے نیاز کردوں گا مگر ہم اتنے مہربان اور رحمان و رحیم پروردگار کے بلانے پراور بار بار یقین دلانے کے باوجود اس کی طرف جانے کو تیا ر نہیں !کھوئی ہوئی عزت و وقار کو پانے اور اپنی آزادی و خودمختاری کا تحفظ کرنے کیلئے ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ ہم اپنے مالک کے در پر جھک جائیں اور اس کو منا لیں ،پھر کسی آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی محتاجی نہیں رہے گی !

مزید :

کالم -