پاکستان سے پکڑے گئے القاعدہ رہنماءکو موریطانیہ میں 20سال قید کی سزا

پاکستان سے پکڑے گئے القاعدہ رہنماءکو موریطانیہ میں 20سال قید کی سزا
پاکستان سے پکڑے گئے القاعدہ رہنماءکو موریطانیہ میں 20سال قید کی سزا

  

اسلام آباد، نواکشوط(مانیٹرنگ ڈیسک) موریطانیہ کی ایک عدالت نے پاکستان سے پکڑے گئے القاعدہ کے سینئر عہدیدار کو امریکہ،یورپ اور آسٹریلیا میں دہشت گردی کے حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں قصوروار قرار دے کر20 سال قید کی سزا سنا دی ، یونس الموریتانی کو 2011ءمیں کوئٹہ سے گرفتارکیاگیا تھا۔

عرب میڈیا کے مطابق امریکہ اور پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے کوئٹہ میں ایک مشترکہ کارروائی کے دوران ان کے علاوہ القاعدہ کے دو اور لیڈروں کو بھی گرفتار کیا تھاجنہیں مئی 2013ءمیں موریتانیہ کے حوالے کیا گیا تھا۔

موریتانیہ کے عدالتی ذرائع کے مطابق یونس موریتانی کے خلاف دارالحکومت نواکشوط میں بند کمرے میں مقدمے کی سماعت کی گئی ہے جبکہ پاکستان آرمی نے موریتانی کی گرفتاری کے بعد ایک بیان میں کہا تھا کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن نے اس کو امریکہ ،یورپ اور آسٹریلیا میں اقتصادی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے منصوبہ بندی کی ہدایت کی تھی اور وہ گیس اور تیل کی پائپ لائنوں ،ڈیموں ،دکانوں اور تیل کے ٹینکروں کو بارود سے لدی تیزرفتار کشتیوں کے ذریعے دھماکوں سے اڑانے کی منصوبہ بندی کررہے تھے،دومغربی ممالک کے انٹیلی جنس حکام نے اس امر کی تصدیق کی تھی کہ یونس موریتانی القاعدہ کی اعلیٰ ٹیم کا حصہ تھا۔

موریتانی حکام نے اس کے خلاف بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔اس پر یہ بھی الزام تھا کہ اس نے دارالحکومت نواکشوط میں سنہ 2005ءمیں فوجی بیرکوں اور 2008ءمیں پولیس کے ساتھ ایک جھڑپ میں حصہ لیا تھا۔

مزید : بین الاقوامی