آرمینیائی باشندوں کی ’نسل کشی‘ کے بیان پر ترکی اور آسٹریا میں سفارتی تناؤ،ترکی اپنا سفیر واپس بلا لیا

آرمینیائی باشندوں کی ’نسل کشی‘ کے بیان پر ترکی اور آسٹریا میں سفارتی ...
آرمینیائی باشندوں کی ’نسل کشی‘ کے بیان پر ترکی اور آسٹریا میں سفارتی تناؤ،ترکی اپنا سفیر واپس بلا لیا

  

انقرہ(آئی اےن پی ) آرمینیائی باشندوں کی ’نسل کشی‘ کے بیان پر ترکی اور آسٹریا میں سفارتی تناؤ پیدا ہوگیا،ترکی نے آسٹریا سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا۔ عالمی میڈیا کے مطابق انقرہ حکومت کا کہنا ہے کہ ویانا حکومت کی جانب سے آرمینیائی باشندوں کے قتل کو ’نسل کشی‘ قرار دینا ایک غلطی ہے اور ویانا سے سفیر کی واپسی بھی اسی بیان کا رد عمل ہے۔ 24 اپریل کو عثمانی دور میں پیش آنے والے اس واقعے کو100 سال پورا ہو رہے ہیں اور اسی مناسبت سے آسٹریا کی پارلیمان نے اس واقعے کو ’نسل کشی‘ قرار دیا تھا۔

ترک وزارت خارجہ کے مطابق اس بیان نے دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کو متاثر کیا ہے۔ اسی دوران یورپی کونسل کے سیکرٹری جنرل نے ترکی اور آرمینیا پر آپس میں سیاسی مذاکرات شروع کرنے کے لیے زور دیا ہے۔ آج جرمنی میں بھی مختلف تقریبات میں اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کو یاد کیا جا رہا ہے۔

مزید : بین الاقوامی