پیپلزپارٹی کو معاشی کوریڈور کے روٹ پر اعتراضات ہیں، منصوبے سے کسی ایک علاقے کو نہیں ,تمام صوبوں کو فائدہ ہونا چاہئے :آصف علی زرداری

پیپلزپارٹی کو معاشی کوریڈور کے روٹ پر اعتراضات ہیں، منصوبے سے کسی ایک علاقے ...
پیپلزپارٹی کو معاشی کوریڈور کے روٹ پر اعتراضات ہیں، منصوبے سے کسی ایک علاقے کو نہیں ,تمام صوبوں کو فائدہ ہونا چاہئے :آصف علی زرداری

  

اسلام آباد (یوا ین پی)پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کو معاشی کوریڈور کے روٹ پر اعتراضات ہیں حکومت پارلیمنٹ میں معاشی کوریڈور کے روٹ کے زیربحث لائے منصوبے سے کسی ایک علاقے یا صوبے کو نہیں تمام صوبوں کو فائدہ ہونا چاہیے چین سے پیپلزپارٹی حکومت کے معاہدوں کو موجودہ حکومت نے جاری رکھا ہے. امید ہے مستقبل میں بھی ایسا ہی کیا جائیگا. پاکستان سعودی عرب کے تحفظ کو نظرانداز نہیں کر سکتا ۔ ایک انٹرویو میں آصف علی زر داری نے کہاکہ پاکستان ترقی اور خوشحالی پاکستان کی معاشی پالیسی کے تسلسل میں مضمر ہے۔ انہوں نے اس بات کو سراہا کہ چین سے پاکستان پیپلز پارٹی سابقہ حکومت میں کئے گئے معاہدوں کو موجودہ حکومت نے جاری رکھا ہے اور اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ایسا ہی کیا جائے گا۔ سابق صدر نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی کی بنیاد ویژنری لیڈر شہید ذوالفقار علی بھٹو اور موذے تنگ کے ڈالی تھی اور چوئن لائی نے بھی اس میں کردار ادا کیا تھا اور آج یہی دوستی توانا اور مستحکم ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت صدر انہوں نے چین کے 9 دورے کئے اور چین کے تمام علاقوں میں گئے تاکہ وہاں ترقی کے ماڈل دیکھ سکیں۔ اسی دورِ صدارت میں کرنسی کے تبادلے کا معاہدہ ہوا، پاکستان میں چائنا بینک قائم ہوا اور گوادر پورٹ چین کو دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی معاہدوں سے ناصرف یہ کہ ممالک مستفید ہوں گے بلکہ پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کو معاشی کوریڈور کے روٹ پر اعتراضات ہیں اور انہوں نے حکومت سے کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں معاشی کوریڈور کے روٹ کے زیربحث لائے تاکہ یہ معاشی کوریڈور حقیقی معنوں میں خطے میں گیم چینجر بن سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے کسی ایک علاقے یا صوبے کو فائدہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ تمام صوبوں کو فائدہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس کوریڈور میں مختلف معاشی پراجیکٹ میں شفافیت ہونی چاہیے اور اس کی بنیاد اتفاق رائے پر ہونی چاہیے۔ یمن کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی جانب سے بمباری روکنے کو خوش آمدید کہتا ہے اور پارٹی اس امید کا اظہار کرتی ہے کہ تمام مسائل پرامن طریقے اور بات چیت سے حل کر لئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور گلف کے ممالک میں تقریباً 20لاکھ پاکستانی کام کرتے ہیں اور پاکستان سعودی عرب کے تحفظ کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سعودی سفارتخانے جا کر سعودی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی میں بیٹھ کر تمام مسائل حل کئے جائیں اور سعودی عرب کے تحفظ کے خطرات ختم کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے میں چین ایک بہت بڑا ملک ہے اور چین اس خطے میں ایک بہت موثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

مزید : اسلام آباد