پراپرٹی ٹیکس کے قانون میں پراپرٹی کی تعریف ہی موجود نہیں ،قذافی سٹیڈیم کیس میں ہائی کورٹ نے نشاندہی کردی

پراپرٹی ٹیکس کے قانون میں پراپرٹی کی تعریف ہی موجود نہیں ،قذافی سٹیڈیم کیس ...
 پراپرٹی ٹیکس کے قانون میں پراپرٹی کی تعریف ہی موجود نہیں ،قذافی سٹیڈیم کیس میں ہائی کورٹ نے نشاندہی کردی

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے قذافی سٹیڈیم پر 6 کروڑ 4 لاکھ 14ہزار پراپرٹی ٹیکس عائد کرنے خلاف دائر 9 برس پرانی درخواست پر تفصیلی بحث سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا، عدالتی کارروائی کے دوران پنجاب حکومت کی ناقص قانون سازی کا بھی پول کھل گیا ، جس قانون کے تحت پراپرٹی ٹیکس کے نوٹس بھجوائے جاتے ہیں اس قانون میں لفظ پراپرٹی کی تعریف ہی موجود نہیں۔ مسٹر جسٹس عباد الرحمان لودھی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی 9 برس پرانی درخواست پر سماعت کی، پی سی بی کے وکیل تفضل رضوی نے موقف اختیار کیا کہ قذافی سٹیڈیم کی زمین پنجاب حکومت کی ملکیت ہے اور قانون کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومت کی ملکیتی اراضی پر پراپرٹی ٹیکس ادا نہیں کیا جا سکتا ،انہوں نے استدعا کی کہ محکمہ ایکسائز کی طرف سے بھجوائے گئے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے نوٹسز معطل کئے جائیں، پنجاب حکومت کی طرف سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل انوار حسین نے موقف اختیار کیا کہ پی سی بی کے وکیل عدالت میں قانون کی غلط تشریح کر رہے ہیں، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل انوار حسین نے بتایا کہ قانون کے مطابق اگر پنجاب حکومت کسی زمین کی مالک ہو اور اس کا انتظام بھی حکومت کے پاس ہو تو اس پر پراپرٹی ٹیکس عائد نہیں ہو سکتا ، پنجاب حکومت نے پی سی بی کو قذافی سٹیڈیم کی زمین لیز پر دی تھی ، جب تک لیز پی سی بی کے پاس ہے تب تک زمین کی عبوری ملکیت اور اس کا مکمل انتظام پی سی بی کے پاس ہے ، اس لئے قذافی سٹیڈیم پر پراپرٹی ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے، سرکاری وکیل نے عدالت کو مزید آگاہ کیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ قذافی سٹیڈیم کے اندر اور باہر کمرشل سرگرمیاں کررہا ہے، قذافی سٹیڈیم میں میچوں کی ٹکٹوں کی فروخت اور سٹیڈیم کے باہر پی سی بی کی طرف سے بنوائی گئی دکانوں اور شادی ہالز سے کروڑ وں روپے کی آمدن اکٹھی کی جا رہی ہے اور قانون کے مطابق کمرشل سرگرمیوں پر پراپرٹی ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے، انہوں نے بتایا کہ محکمہ ایکسائز کے ریکارڈکے مطابق پی سی بی کی طرف سے 1999ءسے اب تک 6 کروڑ 4 لاکھ 16 ہزار کا پراپرٹی ٹیکس واجب الادا ہے، دوران کارروائی عدالت نے پنجاب حکومت کی ناقص قانون سازی پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ محکمہ ایکسائز جس قانون کے تحت پراپرٹی ٹیکس کے نوٹس بھجوا رہا ہے، اس قانون میں لفظ پراپرٹی کی تعریف ہی موجود نہیں ہے، عدالت نے وکلاءکے تفصیلی دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

مزید : لاہور