عدالتی فیصلے کو بازیچۂ اطفال نہ بنائیں

عدالتی فیصلے کو بازیچۂ اطفال نہ بنائیں

وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پاناما لیکس پر عدالتی فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہے جے آئی ٹی کی تشکیل پر تمام جج متفق ہیں، جبکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے نگران بھی جج ہی ہیں، عدالتی فیصلے لوگوں کی خواہش نہیں،قانون کے مطابق ہوتے ہیں، عدالتی فیصلے کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے ابھی پاناما کا مکمل فیصلہ آیا ہی نہیں، اِس سے رہنمائی اور عبرت حاصل کرنی چاہئے۔ پاناما لیکس کے بارے میں معلومات دینے والے اکثر ممالک سے پاکستان کا معاہدہ نہیں، وزیر داخلہ کا کہنا تھا عدالتی فیصلوں پر بھی ’’عدالتیں‘‘ لگ رہی ہیں، جے آئی ٹی بنانے پر پانچوں ججوں کے دستخط موجود ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ معاملہ اب بھی عدالت میں ہے اور اسے عدالت پر ہی چھوڑ دینا چاہئے، الزام لگانے والوں کے پاس شواہد موجود نہیں، وزیراعظم نواز شریف کے خلاف اُلٹی گنگا بہائی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ثبوت بھی وہ خود دیں، اپوزیشن رہنما شروع سے جے آئی ٹی بنانے کا کہہ رہے تھے،لیکن جب سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کا حکم دیا تو اس پر شور مچایا جا رہا ہے۔ مَیں نے پہلے بھی عمران خان کو کہا تھا کہ اپنے پسندیدہ افسروں کے نام دے دیں ان پر مشتمل جے آئی ٹی بنا دیں گے۔

سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی تشکیل کے حوالے سے فیصلے پر عملدرآمد کے لئے اس کی نقول ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین نیب، چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، گورنر سٹیٹ بنک، ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایم آئی کو بھجواتے ہوئے انہیں مجوزہ جے آئی ٹی کے لئے اپنے نمائندے نامزد کرنے کی ہدایت کی ہے، ممکنہ طور پر جے آئی ٹی عدالتی فیصلے کی روشنی میں سات دن کے اندر تشکیل پا کر کام شروع کر دے گی۔ اس جے آئی ٹی میں متعلقہ اداروں کے جو نمائندے نامزد ہوں گے، اُن کی منظوری سپریم کورٹ دے گی اور تحقیقات کے سارے مرحلے کی نگرانی بھی سپریم کورٹ کا بنچ ہی کرے گا، اِس لئے یہ تاثر پھیلانا کہ جے آئی ٹی حکومت کے زیر اثر رہے گی چنداں درست نہیں، کیونکہ سپریم کورٹ خود براہِ راست نگرانی کر رہی ہو گی۔

عمران خان سمیت درخواست گزاروں نے پہلے تو فیصلے پر مٹھائیاں بانٹیں اور بعد میں جے آئی ٹی کو مسترد کر دیا، اُن کی جانب سے یہ بالغ نظری کا مظاہرہ نہیں ہے بہتر تھا یہ پہلے جلد بازی نہ کرتے اور اگر انہوں نے فیصلے کو پڑھ کر مٹھائیاں کھا لی تھیں تو پھر جے آئی ٹی مسترد کرنے کی حکمت سمجھ میں نہیں آتی، سپریم کورٹ نے پوری حکمتِ عملی اور دانش مندی سے اِس مقدمے کو آگے بڑھا دیا ہے اور جس معاملے کی تحقیق مطلوب ہے اُس کے لئے ماہرین سمیت ایسے تفتیش کاروں کی ٹیم بنانے کا اہتمام کر ڈالا ہے، جس کے نتیجے میں امکان ہے کہ حقائق تک پہنچا جا سکتا ہے اس پر مستزاد یہ ہے کہ جو ٹیم بھی تفتیشی ذمہ داری نبھا رہی ہو گی وہ براہِ راست سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہو گی اور اس کی رپورٹ پر ہی سپریم کورٹ کوئی فیصلہ کرے گی۔اس فیصلے کا انتظار ضروری ہے۔

اپنی درخواستوں میں درخواست دہندگان کا موقف تھا کہ وزیراعظم کو اُن کے بیانات میں تضاد کی وجہ سے قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا جائے، اب یہ کوئی ایسا مطالبہ تو نہیں ہے جسے سرسری طور پر منظور کر لیا جاتا اس کے لئے ثبوتوں کی ضرورت تھی جو درخواست دہندگان عدالت کے اطمینان کے مطابق نہیں دے سکے، اگر انہوں نے اپنے موقف کے حق میں ٹھوس دستاویزی شہادتیں دے دی ہوتیں تو کسی جے آئی ٹی کی ضرورت نہ تھی یہ حکم بذاتِ خود اِس امر کی شہادت دیتا ہے کہ درخواست گزار ایسے شواہد پیش کرنے میں ناکام رہے اِس لئے عدالت نے اِس معاملے کی تحقیقات کے لئے ٹیم بنانے کا فیصلہ دے دیا۔

پیپلزپارٹی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے اور استرداد کے مطالبے کے حق میں تقریریں کرتے ہوئے ایسا جذباتی انداز اپنایا ہے جو فی نفسہٖ تضادات سے اَٹا ہوا ہے اِس پارٹی کے مقررین ایک طرف تو یہ کہتے ہیں کہ انہیں تاریخی طور پر عدالت سے فیصلے کی امید ہی نہیں تھی،دوسرے ہی سانس میں ان کا فرمانا یہ ہے کہ جے آئی ٹی کی بجائے جوڈیشل کمیشن بنایا جاتا تو اچھا تھا اب ان صاحبانِ فہم و فراست سے کوئی پوچھے کہ وہ عقل کے پیچھے لٹھ لے کر دوڑنے پر کیوں تُل گئے ہیں اور بدیہی طور پر مضحکہ خیز موقف کیوں اپنا رہے ہیں؟یعنی سپریم کورٹ سے تو آپ کو انصاف کی امید نہیں اور مطالبہ آپ یہ کر رہے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن بنا دیا جاتا تو بہتر تھا۔ کیا یہ جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ سے ماورا کسی جج یا ججوں پر مشتمل ہوتا؟ایسی ہی باتوں کی وجہ سے چودھری نثار علی خان یہ کہنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ فیصلے پر سیاست نہ کی جائے اور حتمی فیصلے کا انتظار کِیا جائے ہم اس میں تھوڑا سا اضافہ کریں گے کہ سیاست دان فیصلے کو بازیچۂ اطفال نہ بنائیں اور اپنے کہے ہوئے الفاظ کی حرمت و آبرو کا لحاظ رکھتے ہوئے جے آئی ٹی کی رپورٹ اور اس پر سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کا انتظار کریں۔

سیاسی جماعتوں اور درخواست دہندگان کی طرف سے یہ ردعمل غالباً کسی آفٹر تھاٹ کا نتیجہ لگتا ہے پہلے تو انہوں نے یہ امید لگا رکھی تھی کہ فیصلے کے نتیجے میں فوری طور پر وزیراعظم نواز شریف حکومت سے باہر ہو جائیں گے،حالانکہ اس کا قانونی جواز تو کہیں دور دور تک نظر نہیں آتا تھا ،اور ہُوا بھی وہی، جن الزامات کے تحت نواز شریف کو نااہل قرار دلوانا مقصود تھا۔ فاضل عدالت نے انہی کی تحقیقات کا تو حکم دیا ہے،لیکن جو لوگ عدالت جاتے ہوئے اپنی گاڑیوں کی ڈگیاں مٹھائی سے بھر کر لے گئے تھے اُنہیں جب نواز شریف کو نہ ہٹانے کے فیصلے سے دھچکا لگا تو فوری طور پر مٹھائیاں تقسیم کرنا بھول گئے پھر انہوں نے جے آئی ٹی کے بارے میں اپنا پینترہ بدل لیا، انہیں اب جے آئی ٹی کی تشکیل اور اس کی تحقیقات کا صبر و تحمل سے انتظار کرنا چاہئے یہ ٹیم اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کے بنچ کو پیش کرے گی تو اس پر جو بھی فیصلہ صادر ہو گا وہی سپریم کورٹ کا حتمی حکم ہو گا۔ بے صبری کے مظاہرے اور امیچور طرزِ عمل کا اظہار نامناسب ہے۔

مزید : اداریہ