ہمارے پاسپورٹ کی کہانی

ہمارے پاسپورٹ کی کہانی
 ہمارے پاسپورٹ کی کہانی

  

میَں پہلی مرتبہ پاکستان ،1950 میں براستہ دہلی پہنچا تھا۔ اُس وقت میری عمر 15 سال تھی۔ 1947ء سے 1950ء تک میَں اپنے والد صاحب کے ساتھ رہا جو اِنڈین آرمی سے بطور میجر ریٹائرمنٹ کے بعد ہندوستان کی سوِل سروس میں 1946 میں شامل ہو چکے تھے اور دہلی میں تعینات تھے۔ میَں اپنی پیدائش سے دسمبر 1947ء تک اپنے دادا کے ساتھ جگراؤں ضلع لدھیانہ میَں رہا، کیونکہ میری والدہ میری پیدائش کے چند ہفتوں بعد ہی فوت ہو چکی تھیں۔ 1947 میں میرے دادا مجھے میرے والد صاحب کی تحویل میں دے کر پاکستان آچکے تھے۔ میری دوسری والدہ دھلی کے ایک معزز گھرانے سے تھیں اور اس وجہ سے والد صاحب نے اپنی ملازمت کے لئے پاکستان کو منتخب نہیں کیا تھا، لیکن اُنہیں 1950ء تک یہ محسوس ہو چکا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آئندہ نسلوں کا مستقبل زیادہ محفوظ نہیں ہے۔ لہٰذا میٹرک کرنے کے بعد اُنہوں نے مجھے پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا اور میرے لئے پاکستانی ہائی کمیشن دہلی سے ایک پرمٹ حاصل کیا جس کی وجہ سے میَں براستہ گنڈا سنگھ والا بغیر کسی پاسپورٹ کے پاکستان میں داخل ہو گیا۔

آج میَں اپنے پرانے سفری کاغذات دیکھ رہا تھا۔ مجھے پُرانے ریکارڈ میں میرا پہلا پاکستانی پاسپورٹ نظر آگیا۔ سبز رنگ کی ایک پٹی کے ساتھ بسکُٹی(Beige) رنگ کا کتابچہ، جس میں میرا نام ، ولدیت، پتہ(پاکستان ائیر فورس HQ)تاریخ پیدائش پوچھا گیا تھا۔ مذہب کا خانہ نہیں تھا۔ تمام کوائف انگریزی اور اُردو زبان میں پوچھے گئے تھے۔ بنگالی زبان پاسپورٹ کے صرف ٹائٹل پر درج تھی۔ خیال رہے پاکستان کو وجود میں آئے ہوئے 3 سال ہو چکے تھے اور مشرقی بنگال پاکستان کا حصہ تھا جو اکثریتی صوبہ بھی تھا۔ ابھی لیاقت علی خان حیات تھے اور پاکستان میں جمہوریت تھی۔ میرے پاسپورٹ پر کسی قسم کا ویزا تو نہیں لگا تھا، لیکن اس پاسپورٹ پر UK میں 26جنوری 1951ء میں میرے داخلے کی مہر لگی ہوئی تھی۔ (مجھے RPAF کی طرف سے 3 سالہ ٹریننگ کے لئے بطور اپرینٹس (Apprentice) انگلستان بھجوا دیا گیا تھا)۔ 1954ء میں مجھے ائیر فورس کی طرف سے والدین کو ملنے کے لئے ہندوستان جانے کی رخصت ملی تھی۔ میَں نے دیکھا کہ میرے اس یادگاری پاسپورٹ پر ہندوستان کا کوئی ویزا وغیرہ نہیں لگا تھا صرف ایک مہر داخلہ تھی جو اَٹاری (امرتسر)بارڈر پر میرے پاسپورٹ پر لگائی گئی تھی۔ یہ سادہ سا پاسپورٹ بہت زیادہ متاثر کُن نہیں تھا۔ پاسپورٹ کے کتابچے کی جلد پر پاکستان کے دو جھنڈے X کی شکل میں چھپے ہوتے تھے۔ ایسے غیر متاثرکن پاسپورٹ تو تھرڈ کلاس ممالک کے بھی نہیں تھے۔ لگتا ہے کہ ہمارے پہلے پاسپورٹ کا ڈیزائن وزارت داخلہ کے کسی بوڑھے سیکشن آفیسر نے اپنی جمالیاتی حس کے مطابق منظور کر دیا ہو گا۔ اب 67 سال کے بعد جب میَں نے اس پاسپورٹ کو دیکھا تو مجھے تجسس ہوا کہ میَں معلوم کروں کہ پاکستانی پاسپورٹ کا رنگ سبز کب ہوا، پاسپورٹ کے صفحات پر بنگالی زبان میں کوائف کی تفصیل کب درج ہوئی۔ 1954ء تک تو پاسپورٹ میں بنگالی زبان نہیں تھی۔

پاکستانی پاسپورٹ کے ٹائٹل پرکئی قسم کے لوگو(Logo) وقتاً فوقتاً بدلتے رہے۔ پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز کو کتنے ممالک ائیر پورٹ پر ہی بوقتِ داخلہ ویزا جاری کر دیتے تھے، پاکستانی سیاسی سوچ کے اُتار چڑھاؤ، ریاستِ پاکستان کا اکثریتی صوبے، مشرقی بنگال کے ساتھ سُلوک اور ریاستِ پاکستان کا مذہب کی طرف جھکاؤ کب شروع ہوا۔ اِن تمام سوالوں کے جواب مجھے Google تو نہیں دے سکتا تھا،لیکن ہمارے پاسپورٹوں کی تاریخی روئداد ضرور دے سکتی تھی۔ فکر اور سوچ رکھنے والے کسی بھی طالبِ علم کے لئے اِن پاسپورٹوں کے اجراء کے مطالعہ سے پاکستان کی اندرونی اور خارجہ پالیسی کی تاریخ لکھنے کے لئے کافی مواد مِل جاتا ہے۔ مثلاً یہی کہ ہمارے پاسپورٹ کا مکمل سبز رنگ 1951ء تک، بلکہ 1954ء تک نہیں ہوا تھا۔ سبز رنگ کو چونکہ دینِ اِسلام کی علامت سمجھا جاتا ہے، اِس لئے ہمارے پاسپورٹ کے علامتی سبز رنگ کے کئی Shade بدلتے رہے۔ ہلکے طوطے رنگ کا پاسپورٹ متوازن مذہبی پالیسی کی غما زی کرتا تھا۔یہ ایوب خان کا زمانہ تھا۔ پاسپورٹ کے اندرونی صفحات پر بنگالی زبان 1960ء کے بعد آگئی تھی۔ ٹائٹل پر پاکستان کے دو جھنڈے مغربی اور مشرقی پاکستان کی علامت کے طور پرقائم تھے۔ 1954ء تک پاسپورٹ پر صرف حکومتِ پاکستان اُردو اور بنگالی میں لکھا ہوتا تھا۔ 1960ء میں ہی پاسپورٹ پر ریپبلک آف پاکستان لکھا جانے لگا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ 1965ء تک ہمارے پاسپورٹ کی دنیا کے اکثر ممالک میں قدر تھی۔ سوائے روس اور کمیونسٹ مشرقی یورپ کے۔ ہمیں ویزا On Arrival ہی مل جاتا تھا۔ یہاں تک کہ ہندوستان کا ویزا بھی بارڈر پر لگ جاتا تھا۔ تمام یورپی ممالک بشمول امریکہ اور کینیڈا 1970ء تک ہمیں ویزا ائیر پورٹ پر ہی جاری کر دیتے تھے۔1979ء تک چین بھی ہمیں ویزا ائیر پورٹ پر ہی اسٹمپ کر دیتا تھا۔ 1972ء کے بعد ہمارا پاسپورٹ درمیانہ سبز ہو گیا۔ بنگالی زبان ہٹا دی دی گئی تھی۔ یہ بھٹو صاحب کا زمانہ تھا۔ 1984ء میں جنرل ضیاء الحق نے ہمارے پاسپورٹ کا رنگ گہرا سبز کر دیا اور اُس کے ٹائٹل پر اسلامک ریپبلک آف پاکستان تحریر کئے جانے کا حکم دیا۔ 1980ء میں عرب ممالک نے ہمیں ائیر پورٹ پر ،ویزا دینا بند کر دیا۔

شو میء قسمت دیکھئے کہ وہ پاکستانی پاسپورٹ جو 1970ء تک تمام ممالک کو قبول تھا سوائے اسرائیل کے کیونکہ ہمارا پاسپورٹ ہمیں اسرائیل کا سفر کرنے کی اِجازت اُس وقت بھی نہیں دیتا تھا اور اب بھی نہیں دیتا۔ آج 2017 ء میں صرف پندرہ یا بیس ممالک ہیں جو ہمیں اپنی ائیر پورٹ پر ویزا جاری کر دیتے ہیں۔ یہ ممالک بالکل غیر اہم اور قریباً غیر معروف ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ ہمارا وہ پاسپورٹ جو نہایت ہی مؤقر اور محترم تھا اب حقارت سے دیکھا جاتا ہے۔ میَں قریباً 45 سال سے بین الاقوامی سفر کر رہا ہوں(1951ء میں UK کے تربیتی سفر کے علاوہ) ۔ میَں نے اپنے پاسپورٹ کی توقیر میں رفتہ رفتہ کمی ہونے کا مشاہدہ کیا ہے۔ وجوہات تو آپ قارئین کو معلوم ہی ہیں۔ ہم عوام نے بھی اپنے پاسپورٹ کی بے توقیری میں حصہ ڈالا ہے، لیکن ہماری غیر مؤثر خارجہ پالیسی نے بھی ہمارے پاسپورٹ کی قدر وقیمت گھٹائی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہندوستان میں دہشت گردی کے واقعات ہم سے تین گُنا زیادہ ہوتے ہیں، لیکن مذہبی شدت پسندی کا الزام ہم پاکستانیوں پر لگتا ہے۔ ہم اپنے ہمسائے میں عرب ممالک کو ’’برادر اسلامی‘‘ممالک کہتے نہیں تھکتے، لیکن وہ ہمیں گھاس نہیں ڈالتے وہ صرف اپنی غرض کے لئے کبھی کبھی ہماری طرف دیکھتے ہیں۔ جاپان جو اِتنا پُرامن اور دوست ملک ہے وہاں جب میں ٹوکیو ائیر پورٹ پر 2007ء میں اُترا تو میرے سبز پاسپورٹ کو دیکھتے ہی جاپانی سیکیورٹی اہلکار نے مجھے قطار سے نکال کر ایک کمرے میں تنہا بیٹھا دیا اور میرا پاسپورٹ لے کر کمرے سے باہر چلا گیا ،حالانکہ میرے پاسپورٹ پر جاپانی ویزا چسپاں تھا۔ میَں اپنے حُلئے اور عمر سے بھی کوئی مشکوک مسافر نظر نہیں آرہا تھا۔ 15 منٹ بعد وہ جاپانی آیا اور میرے پاسپورٹ پر Entry کی مہر لگوا کر مجھے باہر جانے کی اِجازت دی۔ اسی دوران میرے اس سیکیورٹی کمرے میں دو پاکستانی اور کچھ عرب بھی بٹھا دیئے گئے تھے، جو ظاہر ہے اپنی Clearance کا انتظار کرتے رہے۔ امریکہ جو 1970ء تک ہمیں ائیر پورٹ پر ویزا دے دیتا تھا، اب پچھلے 20 برسوں سے ہمارے سبز پاسپورٹ کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہمارا خاص سیکیورٹی چیک اَپ ہوتا ہے۔ ہمارے سامان کو کتوں سے سنگھوایا جاتا ہے۔ کوئی بھی مسافر جو پاکستان سے امریکہ جائے وہ ڈائریک فلائیٹ کے ذریعے امریکہ کی کسی ائیر پورٹ پر نہیں اُتر سکتا۔ یہاں تک کہ PIA بھی امریکہ ڈائریکٹ نہیں جا سکتی۔

ہمارے پاسپورٹ کی بے توقیری میں مزید اضافہ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے زمانے سے ہونا شروع ہوا۔ ان دونوں جنرنیلوں کی حکومت میں دہشت گرد، منشیات فروش اور اِنسانی سمگلرز کی غیر قانونی آمد و رفت شروع ہوئی۔ منشیات فروش اگر پاکستانی نہیں بھی ہوتے، وہ چند ہزار روپے دے کر ہمارا سبز پاسپورٹ حاصل کر لیتے ہیں،اور جب یہ پکڑے جاتے ہیں تو ظاہر ہے کہ وہ پاکستانی کہلاتے ہیں۔ لاکھوں افغان، پاکستانی پاسپورٹ پر عرب ممالک میں ملازمتیں کر رہے ہیں اور جب جرائم میں پکڑے جاتے ہیں تو ہمارا پاسپورٹ مزید بدنام ہوتا ہے۔

ایوب خان کا دور معاشی اور خارجی تعلقات کے حوالے سے ہمارا اَب تک کا بہترین زمانہ رہا ہے۔ میرے بیانیے سے اکثر لوگ متفق نہیں ہوں گے،لیکن آپ غور کریں کہ ہماری معیشت کے اہم اِدارے ایوب کے زمانے سے ہی شروع ہوئے اور پایۂ تکمیل تک پہنچے۔ PIA ہو یا PIDC ،پانی کے بڑے ڈیم ہوں یا زراعتی ریسرچ یا صنعتی ترقی، بین الاقوامی تعلقات ہوں یا اندرونی نظم و نسق ہو۔ اِن تمام امور میں ہمارا بڑا نام ہو گیا تھا۔ اسی تناسب سے ہمارا پاسپورٹ بھی باعثِ فخر اور احترام تھا۔ کچھ سال پہلے تک سری لنکا ہماے سبز پاسپورٹ پر اپنی ائیر پورٹ پر ہی ویزا لگا دیتا تھا، لیکن وہ بھی اَب On-line ویزا دیتے ہیں، جس طرح ہمارے مُلک کا بین الاقومی اثر و رُسوخ آہستہ آہستہ منفی ہوتا گیا اُسی طرح ہمارے پاسپورٹ کی توقیر میں بھی کمی آتی گئی۔ ایک وقت تھا جب میَں اپنا سبز پاسپورٹ کسی بھی یورپی مُلک کی ائیر پورٹ کے اہلکار کے سامنے رکھتا تھا وہ مسکرا کر سر ہلاتا تھا جیسے خوش آمدید کہہ رہا ہو اور فوراً ویزے کی مہر لگا دیتا تھا۔ یہی حال فارایسٹ کے ممالک کا تھا۔ ہمارے پاسپورٹوں میں ہمارے مُلک کی سیاسی، معاشی اور بین الاقوامی تاریخ پنہاں ہے۔

مزید : کالم