قبل از وقت انتخابات کا آپشن

قبل از وقت انتخابات کا آپشن
 قبل از وقت انتخابات کا آپشن

  

جیسے کہ توقع تھی پاناما کیس کے فیصلے سے سیاسی بحران اور بے چینی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ فیصلے سے پہلے عمومی طور پر یہی کہا جارہا تھا کہ سپریم کورٹ اس سارے معاملے کا جائزہ لینے کے لئے کوئی کمیشن بناسکتی ہے،چونکہ کمیشن کی اصطلاح پاکستان میں خاصی متنازعہ ہو چکی ہے، اس لئے کمیشن کی بجائے جے آئی ٹی بنانے کا حکم جاری کیا گیا۔ کمیشن تو ہمیشہ کسی حاضر یاریٹائر جج کی سربراہی میں بنتا ہے، تاہم جے آئی ٹی حاضر سروس افسران پر مشتمل ہوتی ہے اور ابھی تک جتنی بھی جے آئی ٹیز بنائی گئی ہیں، وہ سب کی سب سنگین نوعیت کے جرائم کی تحقیقات کے لئے بنی ہیں۔ اس جے آئی ٹی کی ساخت بھی وہی ہے، جو پہلے ایسی ٹیموں کی رہی ہے، یعنی ایف آئی اے، آئی ایس آئی، ایم آئی پر مشتمل، البتہ فرق یہ ہے کہ اس جے آئی ٹی میں پولیس شامل نہیں، نیب نیز سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن کے نمائندے بھی شامل کئے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ تو اب تبدیل ہونہیں سکتا، اس لئے اس فیصلے میں جو حکم دیا گیاہے، اس پر عملدرآمد کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ دو ججوں نے نواز شریف کو نااہل قرار دیا، باقی تین ججوں نے بھی وہی نکات اُٹھائے، لیکن آخر میں نااہلی کا فیصلہ دینے کی بجائے معاملے کو جے آئی ٹی کی رپورٹ سے مشروط کردیا۔ اعتزاز احسن جیسے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ تین ججوں کا فیصلہ ان کے متن سے لگانہیں کھاتا، انہیں بھی نواز شریف کی نااہلی کا حکم دینا چاہئے تھا۔ اب ایسی باتوں کا کیا فائدہ ہے؟ ان سے تو ابہام اورانتشار میں مزید اضافہ ہوگا، کوئی مسئلہ حل تو نہیں ہوسکے گا۔ جو فیصلہ آیا ہے، اسی کو اگلے مرحلے کی بنیاد بنایا جائے اور قانونی طور پر اگر وزیر اعظم کو گھر بھیجنا ہے تو جے آئی ٹی کی رپورٹ کا انتظار کیا جائے، مگر جو صورت حال بن رہی ہے، اس میں تو نہیں لگتا کہ یہ مرحلہ اسی طرح طے ہوسکے گا، جس طرح سپریم کورٹ کے فیصلے میں بتایا گیا ہے۔

اس فیصلے کے بعد مٹھائیاں بانٹنے اور مٹھائیاں کھانے کی جو بھونڈی ترکیب استعمال کی گئی، وہ ہماری سیاست کے کھوکھلے پن کو ظاہر کرتی ہے۔ صرف عوام کو یہ تاثر دینے کے لئے کہ ہم جیت گئے ہیں، ایسی حکمت عملی اختیار کرنے والوں نے ماحول کو خوامخواہ سیاسی حوالے سے گرمادیا۔ مٹھائی بانٹنے کی روایت ہمارے ہاں فوجی اقتدار کے وقت سے لے کر آج تک جاری ہے۔ جس طرح اس بات پر حیرانی ہوتی تھی کہ کسی آمرنے جمہوری حکومت کو ختم کرکے اقتدار پر ناجائز قبضہ کیا اور اس پر مٹھائیاں بانٹی گئیں۔ اسی طرح سپریم کورٹ کے فیصلے پر مسلم لیگ (ن) کی طرف سے مٹھائی بانٹنے کے عمل نے سب کو حیران کردیا ۔

مٹھائی تو باعزت بری ہونے پر بانٹی جاتی ہے، یہاں تو بریت کی بجائے وزیر اعظم نواز شریف کو قانون کے سامنے مزید کھڑا کردیا گیا کہ جے آئی ٹی سے مکمل تعاون کریں گے اور اس کے سامنے اپنی بے گناہی کے ثبوت دیں گے۔ مسلم لیگ (ن) والے مٹھائیاں بانٹنے میں جلدی نہ کرتے تو شاید اپوزیشن کو بھی وزیر اعظم سے استعفیٰ مانگنے کا اتنی جلد خیال نہ آتا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ فیصلہ تو پس پشت چلا گیا ہے اور وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔ صورت حال اس قدر گھمبیر ہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں شدید ہنگامے کے بعد ان کے اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیئے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی نے جلسوں کا اعلان کردیا ہے، جبکہ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی بھی وزیر اعظم کے مستعفی ہونے پرخم ٹھونک کر سامنے آگئی ہیں۔اُدھر وکلاء تنظیمیں بھی میدان میں آنے کے لئے پر تول رہی ہیں اور ان کا مطالبہ بھی یہی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کلین چٹ نہ ملنے پر نواز شریف کے پاس وزارتِ عظمیٰ پرفائز رہنے کا کوئی اخلاقی جواز موجود نہیں۔

سپریم کورٹ کے بنچ میں موجود ججوں نے کہا تھا کہ اس فیصلے کوکئی دہائیوں تک یاد رکھا جائے گا۔اب رفتہ رفتہ اس فیصلے کی جو پرتیں اور جہتیں سامنے آرہی ہیں،ان سے یہی لگتا ہے کہ واقعی اس فیصلے میں زندہ رہنے کی صلاحیت موجود ہے۔یہ فیصلہ ہمارے نظامِ انتخاب اور امیدوار کی اہلیت پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے، اس پر سینئر قانون دان غور کررہے ہوں گے۔اس فیصلے میں جن باتوں کی نشاندہی کرکے وزیر اعظم نواز شریف کے صادق و امین نہ ہونے کی سند دی گئی ہے، وہ باتیں مستقبل میں کسی پربھی لاگو ہو سکتی ہیں، اگر وہ اس قسم کے الزامات کی زد میں آتا ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ اکثریتی فیصلہ ہے،اس لئے وہ دو جج صاحبان جنہوں نے نواز شریف کے صادق وامین نہ ہونے پر وزارتِ عظمیٰ سے ہٹانے کا حکم دیا، اقلیتی قرار پائے اور تین ججوں کے فیصلوں کو نافذ کیا گیا ہے، جس میں نواز شریف پر لگنے والے الزامات کی مزید چھان پھٹک کا حکم دیا گیا ہے۔اس فیصلے کے آنے سے پہلے سبھی نے یہ اعلان کیا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ جو بھی ہوگا، اسے تسلیم کیا جائے گا۔فیصلہ سننے کے فوری بعد پہلا رد عمل بھی سب کا یہی تھا کہ فیصلہ تسلیم کرتے ہیں، مگر صرف چوبیس گھنٹے کے بعد صورت حال تبدیل ہوگئی اور جے آئی ٹی کے ذریعے تفتیش کرانے پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا گیا۔اگرچہ اس جے آئی ٹی کے لئے سپریم کورٹ نے بارہ سوالات بھی فریم کردیئے ہیں اور ٹائم فریم بھی دے دیا ہے، نیز یہ حکم بھی جاری کیا گیا ہے کہ جے آئی ٹی ہر پندرہ روز بعد اپنی پراگریس رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائے گی۔ گویا جے آئی ٹی عملاً سپریم کورٹ کی نگرانی میں کام کرے گی، مگر اس کے باوجود تمام اپوزیشن جماعتوں کا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ وزیر اعظم کی موجودگی میں ان کے ماتحت محکموں سے تعلق رکھنے والے افسران آزادانہ تحقیقات نہیں کرسکتے،اس لئے انہوں نے جے آئی ٹی کو اس مطالبے سے مشروط کردیا ہے کہ وزیر اعظم اپنے عہدے سے الگ ہوجائیں،اگر تحقیقات کے بعد جے آئی ٹی انہیں کلین چِٹ دے دے، تو وہ واپس اپنے عہدے پر آجائیں، ایک آئیڈیل صورت حال تو یہی ہو سکتی ہے، مگر پاکستان میں ایسی صورت حال کا روبہ عمل آنا ناقابل یقین بات ہے۔

سواب لگتا یہی ہے کہ اگلے انتخابات تک موجودہ حکومت کا باقی ماندہ آئینی عرصہ بھی سیاسی انتشار اور افراتفری کے عالم میں گزرے گا، سیاسی فضا پر بے یقینی چھائی رہے گی اور ہر روز کچھ نہ کچھ ہو جانے کا کھٹکا لگارہے گا۔ایک صاحب پوچھ رہے تھے کہ برطانیہ میں صورت حال اتنی خراب نہیں تھی، تب بھی وزیر اعظم برطانیہ نے تین سال پہلے انتخابات کرانے کا اعلان کردیا۔ پاکستان میں تو بہت کچھ ہو چکا ہے، انتہا درجے کی بے یقینی ہے، سیاسی نظام چل نہیں رہا، پارلیمنٹ اپنا کام کرنے سے قاصر ہے، وزیر اعظم الزامات کی زد میں ہیں اور ایک ایسی جے آئی ٹی کے سامنے انہیں پیش ہونا ہے، جو کسی بھی طرح ان کے منصب سے لگا نہیں کھاتی، کیا ایسے میں انہیں عوام کے پاس جانے کا آپشن استعمال نہیں کرنا چاہئے؟ جمہوریت میں آئیڈیل صورت حال تو یہی ہوتی ہے کہ جب کبھی ملکی امور ڈیڈ لاک کی شکل اختیار کرلیں تو عوام کے پاس جانے کو ایک احسن جمہوری اقدام سمجھا جاتا ہے،وزیر اعظم نواز شریف کو اس نکتے پر سنجیدہ سوچ بچار ضرور کرنی چاہئے۔ ان کے ساتھ جو لوگ اقتدار کے مزلے لوٹ رہے ہیں، وہ تو ہرگز نہیں چاہیں گے کہ اقتدار کا ایک دن بھی ضائع ہو، مگر وزیر اعظم نواز شریف کو یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ ایک سال بعد ویسے ہی اقتدار نے ختم ہو جانا ہے۔ پاناما لیکس کا آسیب اسی طرح چلتا رہتا ہے اور اقتدار کے آخری دنوں میں فیصلہ ان کے خلاف آجاتا ہے تو انتخابات میں ان کی جماعت کے لئے صورت حال کس قدر ناموافق ہوگی۔ سپریم کورٹ کے موجودہ فیصلے کی بنیاد پر اپوزیشن ان کی کردار کشی کرنے میں کوئی کسراٹھا نہیں رکھے گی اور استعفے کا مطالبہ زور پکڑتا جائے گا۔ ایک بڑا جرأت مندانہ سیاسی فیصلہ بازی کو پلٹ سکتا ہے، لیکن ایسے مشورے آسانی سے ہضم نہیں ہوتے، مگر سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے وزیر اعظم نواز شریف کو حالات کے جس کٹہرے میں لاکھڑا کیا ہے، کیا اس سے نکلنے کی کوئی تدبیر بھی سوچی گئی ہے یا صرف مٹھائی بانٹ کر سب اچھا ہوجانے کی اُمید باندھ لی گئی ہے۔ مٹھائی بانٹنے سے معجزے رونما نہیں ہوتے، الٹا یہ عمل جگ ہنسائی کا باعث بنتا ہے۔ ہم نیک وبد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں۔

مزید : کالم