چیل گوشت بیچنے والا کارپوریشن کی ’’گدھوں ‘‘کا شکار ، تشدد سے گردے ناکارہ

چیل گوشت بیچنے والا کارپوریشن کی ’’گدھوں ‘‘کا شکار ، تشدد سے گردے ناکارہ

  

لاہور( خبر نگار)بیمار بیٹی مریم کے علاج اور دیگر چار بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے راوی پل پر دس روپے فی شاپر صدقے کا گوشت فروخت کرنے والے محنت کش پر کار پوریشن اہلکاروں کا وحشیانہ تشدد گردے ناکارہ کردیئے۔تشویشناک حالت میں محنت کش ہسپتال منتقل گھروالوں کی وزیر اعلیٰ سے سخت نوٹس لینے کی اپیل ۔ تفصیلات کے مطابق بیمار بیٹی مریم کے علاج اور دیگر بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے سبزہ زار لاہور کارہائشی محنت کش محمد یوسف راوی پل پر دس روپے فی شاپر صدقے کا گوشت فروخت کر رہا تھا کہ کارپوریشن اہکاروں نے اسے پکڑ کر وحشیانہ تشدد کا نہ صرف نشانہ بنایا بلکہ اسکے نازک حصوں پر ’’ٹھڈے‘‘ مارتے تھانہ شاہدرہ موڑ لے گئے تشدد کا شکار محنت کش جب تھانہ داخل ہوا تو تھانہ گیٹ پر معمور سنتری نے بھی گھونسو، مکوں اور تھپڑوں سے محنت کش کا استقبال کر کے حوالات بند کر دیا اور 188، 46ای ایل جی او کے جرم کے تحت حوالات بند کردیا ۔ کارپوریشن اہلکاروں اور پولیس شیر جوان کے تشدد کی وجہ سے محنت کش کاپیشاب بند ہو گیا اور پیشاب کی جگہ محنت کش کو خون آنا شروع ہوگیا جسکی اطلاع جب رحمدل ایس ایچ او کو ہوئی تو اس نے فوری طور پر محنت کش کو ہسپتال منتقل کردیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا محنت کش کے گردے ناکارہ ہوگئے ہیں ڈاکٹروں نے جو نہی محنت کش کو ادویات دیں اور پیشاب والی نالی بیگ لگایا پولیس اہلکار پھر جبراً محنت کش کو تھانہ لے گئے اور حوالات میں بند کر دیا جسکے خلاف رات گئے ایک روحانی سلسلہ سے منسلک افراد نے احتجاج کیا جبکہ انسانی حقوق کی تنظیم کے ارکان نے محنت کش یوسف سے تھانہ حوالات میں ملاقات بھی کی جنکو ہاتھ میں پیشاب والا بیگ پکڑے شدید تکلیف میں مبتلا محنت کش یوسف نے آنسو بہاتے بتایا وہ اپنی بیمار بیٹی مریم کے علاج اور دیگر چاربچوں کا پیٹ پالنے کیلئے راوی پل پر صدقے کا گوشت فروخت کرتا ہے۔

مزید :

علاقائی -