افغان آرمی کے کور ہیڈ کوارٹرز پر حملے میں مرنیوالوں کی تعداد 150ہوگئی ، دہشتگرد مشترکہ دشمن ہیں انہیں شکست دینگے ، جنرل قمر باجوہ

افغان آرمی کے کور ہیڈ کوارٹرز پر حملے میں مرنیوالوں کی تعداد 150ہوگئی ، ...

راولپنڈی228 کابل ( مانیٹرنگ ڈیسک / آن لائن) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان آرمی کے کور ہیڈ کوارٹر زپر دہشتگردوں کے حملے کے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔آئی ایس پی آرکے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں افغان سکیورٹی فورسز اور برادر افغان قوم سے اظہار یکجہتی کیا۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ دہشتگرد ہمارے مشترکہ دشمن ہیں اور ہم انہیں شکست دیں گے۔واضح رہے نماز جمعہ کے دوران افغان طالبان کے 10 جنگجوؤں نے آرمی کی وردیاں پہن کر مزار شریف میں واقع افغان نیشنل آرمی کی 209 ویں شاہین کور پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا . ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔طالبان کی جانب سے افغان فوج کے تربیتی کیمپ پر حملے میں ہلاک اہلکاروں کی تعداد 150 ہو گئی۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے شمالی صوبہ بلخ کے صدر مقام مزار شریف میں فوجی وردیوں میں ملبوس تقریباً 10 حملہ آوروں نے فوجی کیمپ پر حملہ کیا تھا اور دہشت گردوں نے پہلے مسجد ،بعدازاں کھانا کھانے کے مقام پر فوجیوں پر گولیاں برسائیں متعدد زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق فوجی تربیتی مرکز پر فوجی لباس میں ملبوس دہشت گرد گاڑی میں بیٹھ کر داخلی دروازے پر کلئیرنس لینے کے بعد دوسرے دروازے تک پہنچے جہاں اہلکار نے ان سے پوچھ گچھ کی تو ایک حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑالیا جبکہ گاڑی میں موجود دہشت گرد فوجی کیمپ کے اندرونی احاطے میں داخل ہوگئے جہاں ان میں سے ایک گروپ نے مسجد میں نماز پڑھنے والے فوجیوں کو نشانہ بنایا جبکہ دوسرے گروہ نے کھانا کھانے کے مقام پر اہلکاروں پر فائرنگ کی۔حکام کے مطابق 10 میں سے 7 حملہ آور فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے جبکہ 2 نے خود کو دھماکے سے اڑایا اور ایک کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔یاد رہے کہ طالبان نے اپنے بیان میں فوجی تربیتی کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی جبکہ اس سے قبل گزشتہ ماہ داعش نے کابل کے فوجی ہسپتال پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 50 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔حملہ میں یک سو فوجی زخمی ہوئےْ طالبان نے دعویٰ کیا کہ اس میں "دشمن فوج کے 500 کے لگ بھگ فوجی بشمول افسران ہلاک و زخمی ہوئے۔یاد رہے کہ طالبان ایسے حملوں میں جانی نقصان کو اکثر بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اطلاعات کے مطابق افغان فورسز کی کارروائی میں کم از کم آٹھ حملہ آور بھی مارے گئے۔ر حالیہ برسوں میں ملک میں طالبان کا کسی فوجی اڈے پر سب سے بڑا حملہ ہے۔افغانستان میں نیٹو اور ریزلیوٹ اسپورٹ مشن کے کمانڈر جنرل جان نکلسن نے افغان نیشنل آرمی کی 209ویں کور کے اڈے پر حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے ’’مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے‘‘ اور کھانا کھانے کے مقام پر افغان فوجیوں کو ہلاک کیا۔’’افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سکیورٹی فورسز اور افغان عوام کو میں ذاتی طور پر یہ یقین دہانی کراتا ہوں کہ ہم اْن کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔‘‘جنرل نکلسن نے کہا کہ ’’دہشت گردی کے خلاف ہم اپنے اہم دوستوں اور اتحادیوں کی مدد کرتے ہیں۔اْنھوں نے حملے کے بعد دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے والے افغان کمانڈوز کو بھی سراہا۔

آرمی چیف۔ افغانستان

اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم نواز شریف نے مزار شریف میں دہشتگردوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی افسوس ہوا ۔ ہمارے دل دہشتگردی کا شکار ہونے والے افراد کے خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے افغانستان کے شہر مزار شریف میں دہشتگردوں کے حملے کی مذمت کی اورکہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں افغان حکومت اور عوام کے ساتھ ہیں۔ قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے ہم اس بزدلانہ حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خود دہشتگردی کا شکار رہا، افغان بھائیوں کا دکھ سمجھتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کو مل کر دہشتگردی کا خاتمہ کرنا ہو گا۔

نواز شریف

مزید : صفحہ اول