فیصلے کے بعد

فیصلے کے بعد
 فیصلے کے بعد

  

سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اعزا و اقربا کے خلاف دائر درخواستوں کا فیصلہ سنا چکا۔ عمران خان، شیخ رشید اور سراج الحق یہ فریاد لے کر عدالت تک پہنچے تھے کہ وزیراعظم نواز شریف کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا جائے، کیونکہ پانامہ لیکس اور اس کے حوالے سے کی جانے والی تقریروں میں(مبینہ تضاد) کے حوالے سے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔ ایڑی اور چوٹی کا زور لگایا جا رہا تھا کہ نواز شریف کا یوسف رضا گیلانی بنا دیا جائے، اور سپریم کورٹ وہ کام کر گزرے، جو انتخابات(2013ء) کے ذریعے، اور بعد میں دیے جانے والے دھرنا نمبرI اور نمبرII کے ذریعے ممکن نہیں ہو سکا تھا۔ حکومت کے آگ بگولہ ترجمان بار بار اعلان کر رہے تھے کہ ہار اور جیت کا دارومدار ایک نکتے پر ہے۔ اگر وزیراعظم نااہل قرار پا گئے تو ہم ہار گئے، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو پھر اور جو بھی ہو، اسے ہم جیت سمجھیں گے۔شیخ رشید ببانگِ دہل اسے ’’نون‘‘ اور ’’قانون‘‘ کا مقابلہ قرار دے رہے تھے، ڈنکے کی چوٹ کہہ رہے تھے کہ عدالت سے نون کا تابوت نکلے گا، یا قانون کا۔۔۔مطلب یہ کہ اگر ’’نون‘‘ کا تابوت نہ نکلا تو سمجھ لیجئے کہ قانون نے بھری عدالت میں آخری ہچکی لے لی۔سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے سے انکار کر دیا، اس پر مسلم لیگی رہنما اور کارکن جوش سے بھر گئے۔ عابد شیر علی تو احاطۂ عدالت ہی میں سجدہ ریز ہو گئے۔انہوں نے اسے ’’فتحِ مبین‘‘ قرار دے کر جشن منایا، مٹھائیاں کھائیں اور کھلائیں، لیکن کرنا خدا کا یہ ہوا کہ عمران خان، اور اُن کے رفقا نے بھی اسے اپنی شکست ماننے سے انکار کر دیا۔ یہ جو جج حضرات کی طرف سے کہا جا رہا تھا کہ فیصلہ تاریخی ہو گا، اور اسے بیس سال تک (یا اس سے بھی زیادہ) یاد رکھا جائے گا اس لحاظ سے واقعی تاریخی قرار پایا تھا کہ فریقین بغلیں بجا رہے تھے، کوئی بھی بغلیں جھانکنے کے لئے تیار نہیں تھا۔

پانچ رکنی بنچ کے تین ارکان نے وزیراعظم کو نااہل قرار دینے سے انکار کر دیا تھا،جبکہ دو نے یہ استدعا منظور کر لی تھی۔ اکثریتی فیصلہ صادر کرنے والوں نے البتہ پانامہ اور اس سے متعلق امور کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی) بنانے کا حکم دیا تھا۔ یہ ٹیم جسے سات روز کے اندر اندر تشکیل پانا ہے، براہِ راست سپریم کورٹ(کے ایک نئے بنچ) کی نگرانی میں کام کر کے 60روز کے اندر اندر اپنی رپورٹ پیش کر دے گی۔ اسے ہر دو ہفتے کے بعد اپنی کار گزاری سے مذکورہ بنچ کو مطلع کرنا ہو گا۔ یہ ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کے عہدے کے حامل (کسی بھی شخص) کی سربراہی میں کام کرے گی، اور اس میں پانچ قومی اداروں۔۔۔ نیب، سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، سٹیٹ بنک، آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس۔۔۔ کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد سپریم کورٹ اِس بات کا جائزہ لے گی کہ وزیراعظم اور ان کے کسی شریک کار کے خلاف کوئی ایسا مواد ریکارڈ پر آ گیا ہے یا نہیں، جس کی بنیاد پر ان کی نااہلی کا ریفرنس دائر کیا جا سکے۔

ابتدائی اظہارِ مسرت کے بعد عمران خان اب کچھ پیچھے ہٹتے نظر آ رہے ہیں۔ ان کی طرف سے یہ مطالبہ سامنے آ گیا ہے کہ وزیراعظم کو اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہئے، کہ ان کی موجودگی میں سرکاری اداروں کے اہلکار غیر جانبدارانہ تحقیقات نہیں کر سکیں گے۔ آصف علی زرداری اور ان کے ہمنوا بھی اس مطالبے میں شریک ہو گئے ہیں۔ زرداری صاحب نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ نواز شریف کو گھر نہیں کہیں اور بھجوایا جائے گا۔انہوں نے دو ججوں کے فیصلے پر خوب داد کے ڈونگرے برسائے، لیکن تین رکنی فیصلے کے بارے میں سخت تنقیدی الفاظ استعمال کیے،اور یہ بھی فرمایا کہ دو سینئر ججوں کے فیصلے کو (تین پر) فوقیت حاصل ہے۔عمران خان کو ناتجربہ کار قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ جانے کے ان کے فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے اپنی انگلی ان کی خدمت میں پیش کی ہے کہ اسے پکڑ کر وہ منزل کے قریب جلد پہنچ سکتے ہیں۔زرداری صاحب کا خیال ہے کہ عمران خان ان کے تجربے کی رہنمائی میں چلیں گے تو جلد انجام کو پہنچیں گے۔ پیپلزپارٹی اور اس کے ہم نواؤں نے جے آئی ٹی کو مسترد کر دیا ہے۔ اعتزاز احسن نے تو آئی ایس آئی کے سربراہ پر بھی انگلی اٹھا دی ہے، جس پر فوجی ترجمان نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اہلِ سیاست کو اظہارِ رائے کرتے ہوئے احتیاط سے کام لینا چاہئے کہ پاکستانی معاشرے میں کسی خاندان کو کسی ایک پیشے یا شعبے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ ایک دوسرے سے قربت اور قرابت رکھنے والے افراد مختلف شعبوں میں فرائض ادا کر سکتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ایک دوسرے کے آلۂ کار ہیں۔ بلند عدالتی مناصب پر فائز حضرات کے بھی مختلف سیاست دانوں سے قریبی رشتے ہیں، ایک ہی خاندان کے مختلف افراد مختلف سیاسی جماعتوں میں سرگرم عمل ہیں، ان کو ایک دوسرے سے باندھ کر ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانکا جا سکتا۔ فاطمہ بھٹو، بلاول بھٹو زرداری کی فرسٹ کزن ہیں، غنویٰ بھٹو اور آصف علی زرداری بھی ایک دوسرے کے رشتہ دار کہلاتے ہیں، خود اعتزاز احسن صاحب کے مرحوم برادرِ نسبتی میجر مبشر اللہ سابق صدر جسٹس رفیق تارڑ کے داماد تھے۔ اس بنا پر ان دونوں جاٹ صاحبان کو ایک ترازو میں تو نہیں تولا جا سکتا۔ اگر کسی خاندان کا کوئی فرد فوج یا سول سروس میں ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ پورے خاندان سے اس حوالے سے معاملہ کیا جائے۔ اس ایک نکتے سے قطع نظر وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے کا وزن ابھی تک محسوس نہیں کیا جا سکا۔ یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر وزیراعظم نواز شریف کی جگہ مسلم لیگ(ن) کا کوئی اور رہنما یہ منصب سنبھال لے تو بھی اعتراض برقرار رہ سکتا ہے کہ مبینہ اثرو رسوخ کے حوالے سے اس پر بھی الزام لگانے والے موجود ہوں گے، اسے بھی نواز شریف کے مفادات کی نگرانی کا مرتکب قرار دے دیا جائے گا۔

وزیراعظم سے استعفے کے مطالبے کا جو بھی اخلاقی یا سیاسی جواز پیش کیا جائے، ایسا مطالبہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق نہیں ہے۔ عدالت نے وزیراعظم کو کام کرنے سے روکنے کے بجائے جے آئی ٹی کو اپنی نگرانی میں لے لیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کیا جانے والا یہ اقدام اِس لحاظ سے بھی بے نظیر ہے کہ اس میں فوجی اداروں کے نمائندے شریک ہیں۔ پاکستان کی دستوری حدود کے اندر رہتے ہوئے تحقیق و تفتیش کا جو بھی با اعتبار نظام وضع کیا جا سکتا تھا، سپریم کورٹ نے اس کا اہتمام کر دیا ہے۔ دھما چوکڑی مچانے کے بجائے اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے، اور انصاف کو بروئے عمل آنے کا موقع ملنا چاہئے۔ پاکستانی سیاست کی بقا اور فلاح دستورِ پاکستان ہی سے وابستہ ہے۔ اس کے دائرے سے نکل کر کام کرنے والے جتنے بھی نیک نیت ہوں، انجام کے اعتبار سے فسادی ہی سمجھے جائیں گے۔

(یہ کالم روزنامہ ’’پاکستان ‘‘ اور روزنامہ ’’دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

مزید : کالم