رام مادھو،چندر پرکاش کے بیانات کشمیریوں کیخلاف اعلان جنگ ہے :حریت رہنماؤ ں کا رد عمل

رام مادھو،چندر پرکاش کے بیانات کشمیریوں کیخلاف اعلان جنگ ہے :حریت رہنماؤ ں ...

سرینگر(آن لائن)مقبوضہ کشمیر میںآزادی پسند رہنماؤں اور تنظیموں نے بھارتی جنتا پارٹی کے جنرل سیکریٹری رام مادھو کے اس بیان کی شدید مذمت کی جس میں انھوں نے حالیہ انتخابی ڈرامے کے دوران بڈگام میں ایک نو جوان کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے بھارتی فوج کے مذموم اقدام کو درست قرار دیا ہے ۔ سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں رام مادھو کے بیان کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس بیان کو بھارتی حکومت کی پالیسی سے الگ نہیں دیکھا جاسکتا کیونکہ کہ مادھو حکومت کے پالیسی سازوں میں شامل ہیں اور وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے صف اول کے چار رہنماؤں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مادھو کا بیان نہتے کشمیری عوام کے خلاف اعلانِ جنگ کے مترادف ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوج کو کشمیر میں ہر قسم کا وحشیانہ طرز عمل اپنانے کی اجازت دی گئی ہے ۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ نہتے شہری کو جیپ سے باندھنے پر میجر کی تعریف کرنے اور یہ کہنے کہ ’’جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے‘‘ میں ایک بڑا خطرناک پیغام پوشیدہ ہے ۔ اسی طرح ایک اور بی جے پی رہنماء چندر پرکاش نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ کشمیری رہنماؤں کا علاج گولیوں سے ہی کیا جا سکتا ہے۔سید علی گیلانی نے آنے والے دنوں میں مقبوضہ علاقے میں بڑے پیمانے پر لوگوں کے قتل عام کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اقوم متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم پر زور دیا کہ وہ بھارتی حکمرانوں کے دھمکی آمیز بیانات کا نوٹس لیں اور کشمیریوں کی زندگیوں کے بچانے کیلئے کردار ادا کریں۔ حریت فورم کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے سرینگر میں جاری بیان میں رام مادھو کے بیان کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ نہتے کشمیریوں کے خلاف باقاعدہ طور پر جنگ چھیڑ دی گئی ہے اور کشمیریوں کی جائز آواز کو طاقت اور تشدد کے بل پر دبانے کا مذموم عمل جار ی ہے۔ انہوں نے جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند کشمیریوں کے ساتھ روا رکھنے جانے والے غیر انسانی سلوک پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسانی حقوق کے عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ نظر بندوں کی حالت زار کا نوٹس لیں۔جموں وکشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ نے ر ام مادھو کے اس بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان فرسودہ اور استعماری سوچ کی علامت ہے اور اقوام عالم کی ذمہ داری ہے کہ وہ جموں کشمیر میں انسانی جانوں سے ہونے والی کھلواڑ کا موثر نوٹس لیں۔انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے کٹھ پتلی وزیر چندر پرکاش گنگا کے بیان بھی سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے رہنماؤں کو یاد رکھنا ہوگا کہ اس طرح کی دھمکیوں سے مرعوب ہوکر کشمیری اپنی جد وجہد سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ چندر پرکاش نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ کشمیری مظاہرین کا علاج گولیوں سے ہی کیا جاسکتا ہے۔جموں وکشمیرلبریشن فرنٹ کے چیئر مین محمد یاسین ملک نے رام مادھو اور پرکاش گنگا کے بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہٹلر اور مسولینی نے لاکھوں انسانوں کا قتل عام کیا اور اس پر کسی بھی قسم کی کوئی شرم محسوس نہیں کی اورٹھیک اسی طرح اس وقت ہندو انتہا پسند تنظیموں بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے رام مادھو اور گنگا کشمیریوں پر گولیاں برسانے اور انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کو جائز ٹھہرارہے ہیں۔ حریت رہنماؤں حسن علی موسوی الصفوی ‘ بیرسٹر عبدالمجید ترمبو ‘بلال صدیقی ، محمدرمضان خان ،محمد اقبال میر، قطب عالم اور سجاد ایوبی نے بھی اپنے بیانات میں ہندو انتہا پسندجماعتوں کے رہنماؤں کے بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیری میں ہاری ہوئی جنگ لڑ رہا ہے اور کشمیریوں کے عزم و ہمت نے اسے بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے۔کشمیرہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے بھی سرینگر میں جاری بیان میں چندر پرکاش گنگا اور رام مادھو کے بیانات پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔دریں اثنائمقبوضہ کشمیرمیں بھارتی پولیس نے ضلع شوپیان میں چھاپوں کے دوران بیسیوں بے گناہ نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے گاگرن ،میمندر ،راولپورہ ،دانگام ،کاجنی الر اور دیگر دیہات میں رات کے وقت گھروں میں گھس کر نوجوانوں کو گرفتار کیا۔مزید برآں مقبوضہ کشمیر میں ایک عدالت نے تحریک حریت جموں وکشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے صدر رئیس احمد میر کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بندی کالعدم قرار دیتے ہوئے انکی فوری رہائی کے احکاما ت دیے ہیں۔ بھارتی پولیس نے رئیس احمد میر کو بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں احتجاجی مظاہروں کا انعقاد اور انکی قیادت کرنے کی پاداش میں گزشتہ برس گرفتار کیا تھا ۔ ان پر 7ستمبر2016 کے روز کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کیا گیا۔ رئیس احمد میر کے وکیل ایڈووکیٹ بشیر احمد ٹاک نے سرینگر میں میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ جسٹس علی محمد ماگرے نے انکے موکل کے خلاف کالاقانون قانون پبلک سفیٹی ایکٹ جمعہ کے روز کالعدم قرار دیتے ہوئے انکی رہائی کا حکم دیا۔

حریت رہنماء

مزید : کراچی صفحہ اول