چارسدہ شوگر ملزکے کروڑوں روپے ملکیتی اراضی پر پھڈا

چارسدہ شوگر ملزکے کروڑوں روپے ملکیتی اراضی پر پھڈا

چارسدہ (بیورو رپورٹ) چارسدہ شوگر ملزکے کروڑوں روپے ملکیتی اراضی پر پھڈا پڑ گیا ۔ ایم پی اے فضل شکور خان کی قیادت میں مظاہرین نے اراضی پر ہاؤسنگ سوسائٹی کی تعمیر روک دی ۔ ہاؤسنگ سو سائٹی مالکان نے میڈیا کے سامنے اراضی کی ملکیت کے دستاویزات پیش کر دئیے ۔ ہاؤسنگ سوسائٹی مالکان کا پولیس کی موجودگی میں ایم پی اے اور اس کے ساتھیوں کی بے جا مداخلت پر اظہار افسوس۔تفصیلات کے مطابق چارسدہ کے سلیم شوگر ملز کے کروڑوں روپے ملکیتی اراضی پر ہاؤسنگ سو سائٹی کے تعمیر کے خلاف ایم پی اے فضل شکور خان کی قیاد ت میں اراضی کے سابق مالکان نے احتجاجی ریلی نکال کر زیر تعمیر ہاؤسنگ سکیم بند کر دی ۔ اس حوالے سے ایم پی اے فضل شکور خان ، فقیر حسین ، نواز خان غنی خیل ،سیف علی خان اور دیگر نے کہا کہ 1960میں ہمارے اباؤ اجداد نے صنعتوں کے قیام کیلئے قیمتی اراضی دی تھی جس پر چارسدہ شوگر ملز بن گیا جو بعد ازاں مختلف لوگوں کے ہاتھوں فروخت ہو کر 1992میں بند ہو گیا جو تاحال بند ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سیکشن فور کے تحت حاصل کر دہ اراضی پر حکومت صرف عوام کے فلاح و بہبود کے منصوبے بنا سکتی ہے مگر اب اس پر ہاؤسنگ سکیم قائم کی جا رہی ہے جو ہر لحاظ سے خلاف قانون ہے ۔ دوسری طرف ہاؤسنگ سکیم کے مالکان مظہر باچا ، سید محمد ناصر ، فاروق سید باچہ ، طاہر امین اور ہارون خان نے میڈیا کو مذکورہ اراضی کے ملکیتی دستاویزات پیش کر تے ہوئے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے مذکورہ اراضی سلیم شوگر ملز کے مالکان سے باقاعدہ ٹرانسفر ڈیڈ کے ذریعے حریدی ہے۔اگر ایم پی اے فضل شکور خان وغیرہ کے پاس کوئی قانونی دستاویزات موجود ہے تو ہمارے خلاف عدالت سے رجوع کر یں ۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ فضل شکور خان اور ان کے ساتھیوں نے بلا جواز ہمارے کام میں مداخلت کی اور پولیس کے ذریعے ترقیاتی کام روک دیا ۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کے ذریعے تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں مگر ایم پی اے اور اس کے ساتھیوں نے زیادتی کرکے قانون ہاتھ میں لینے کی کو شش کی ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر