نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

  

آ ج کی صورت حال عکاس ہے اس ترقئی معکوس  کی جس کے سائے ہماری اقدار پہ  سیاہ بادلوں کی طرح چھائے  ہوئے ہیں اور   سوچیں اسے  صوابدیدی جوابات  کا ایک ایسا جامہ پہنائے ہوئے ہیں کہ ہر کوئی تذبذب کا شکار ہے-پسماندہ بستیوں  سے بنگلوں کا سفر ہو یا  بچوں  کا  ماں باپ کے سامنے  فر فر انگریزی بولنے پہ شادمانی کا منظر - والدین ایدھی ہومز کے باسی ہوں  یا قول و فعل  میں تضاد کے کچھ سیاسی مقاصد- دولت حلال کی کمائی ہو یا  کالے دھندے  کی  صفائی – تہذیب ، اقدار وثقافت  یا عبادت  جب ان میں بھی خودنمائی اور اپنی بڑائی ملحوظِ خاطر ہو تو انسانی ترقی کے بدلتے معیارکب معاشرے کی  نمودکو متاثر نہیں کرتے اور پھر ان میدانوں میں لگی دوڑ احساس مروت، بھائی چارے اور  اخوت کے اٹوٹ جذبات کی موت بن جایا کرتی ہے- ان کی جگہ جنم لیتے جذبہ ءحسد و رقابت  اپنی تسکین اور دوسرے کی تذلیل  کرکے  بشر کو معاشرہ میں نمایاں اور  ممتاز مقام دلوانے میں کمر بستہ نظر آتے ہیں- ہمارے اجداد کے بھولے ہوئے سبق اگر کوئی یاد دلانے کی کوشش بھی کرے تو  وہ دقیا نوسی  اورقنوطی سوچ کا مالک کہلاتا ہے-اقبال کے شاہین کا افتخار و کردار بھولی یہ قوم   کرگس کےپنجوں میں  جکڑی ایک مکڑی کے جالے کا شکار نظر آتی ہے- وہ یہ درس فراموش کر چکی ہے کہ             

پرواز  ہے دونوں کی اسی ایک  فضا میں

کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور

اقبال کی دانا سوچ اور تصور سے ابھرتا شاہین ایک  پرندہ نہیں بلکہ اسلامی فخر کی  کُل خصوصیات کا مظہر ہے-خودداری ، غیرت مندی،خلوت پسندی ، پرواز کی بلندی اور دور بینی  کے اوصاف سے مالا مال شاہین قناعت کا خو گر نہیں – یہ وہ مردِ مومن ، مردِ کامل ہے جسے حرکت میں برکت سے بہتر کچھ اور نظر نہیں آتا – جہد مسلسل  زندگی کا  وہ راز ِ سر بستہ ہے جس سے حیات اور  نمو کے کواکب نمودار ہوتے ہیں – مایوسی اور درد کے بادل چھٹتے ہیں  تو ایک ایسی صبح   آنکھ کھولتی ہے کہ ستاروں سے آگے  کےجہاں بھی دست قدرت سے دورنہیں رہتے- حوصلہ اور قوتِ برداشت کا پیکر ہے  - اقبال کا  مردِ مومن جیسے بھی حالات  ہوں  نبرد آزما ہے  - کب ہار مانتا ہے  وہ جانتا ہے کہ اندھیروں کو خاک میں ملانے اور تاریکی کا پردہ چاک کرنے تک فطرت جان کنی کے کن مراحل  سے گزرتی ہے- سحر کے اجالے اس زمین پہ بکھیرنےکے لئے کتنے ستارے قربان ہوتے ہیں تب جاکے مشرق سے چمکتا آفتاب طلوع ہوتا ہے جس کی روشن جمالی خطہء ارض  پرالفتوں کا پیام پھیلاتی ہے -کوشش اور عمل سے جنم لیتی یہ زندگی ایک  ایسی کشمکش کا نام ہے  جو زمیں سے آسمانوں کی پرواز کو یقینی بناتی ہے- عیش کوشی اور لذت طلبی اقبال کے مردِ مومن کا شعار نہیں – محلوں کی زندگی  پر وہ چٹانوں کی سختی سے پنجہ آزمائی کو فوقیت دیتا ہے-ساری دنیا اس کے قدموں میں ہیچ اور منزل وہ نیلگوں آسمان ٹھہرتا ہے  کہ  اقوامِ عالم کی سرداری کا سجا تاج اسے ہی زیب دیتا ہے-بیابانوں کی تیز و تند ہوائیں ہوں یا طوفانوں کے تھپیڑوں  سے لڑ جانے کی جرات و خود اعتمادی  اس کی سرشت بن جاتی ہے-                                                                                                    

خودار و غیرت مند مردِ کامل  بھو ک اور چھیتڑوں میں تو لپٹا ہو سکتا ہے خلعت سلطانی کانیازمند نہیں  ہوتا- رزق ِحلال ہی اس کے پیٹ کا ایندھن بنتا ہے – اپنے ہاتھ خدا کی بجائے وہ دوسروں کے سامنے پھیلا دے اسے کب گوارا ہے – جھپٹ پلٹ کے  اپنا خون گرم رکھنے والا شاہین فقیر منش ضرور ہے لیکن کسی  در کا بھکاری  نہیں  -سارا عالم اس کا تخت ِ شاہی ہے  وہ کسی کا درباری نہیں وہ اپنے شکار کا خود شکاری ہے   اور  وہ مالِ حرام جس سے اس کی قوتِ پرواز  متاثر ہوتی ہو اس پہ موت کو ترجیح دیتا ہے- جہانِ گلشن سے دور وہ بیابانوں  کا خلوت پسند   شاہین  اپنی خودی کا محافظ ہے  اسی لئے اقبال بھی اپنے مردِ مومن کے لیے خلوتوں کی دنیا کا انتخاب کرتے پھولے نہیں سماتے ہیں اور شاہین کی زبان میں فرماتے ہیں-                                                                           

بیاباں کی خلوت خوش آتی ہے مجھ کو

ازل  سے ہے فطرت میری  راہبانہ

خیابانوں  سے   ہے  پرہیز   لازم

ادائیں  ہیں  ان  کی  بہت  دلبرانہ

ہوائے بیاباں سے ہوتی  ہے کاری

جواں  مرد  کی  ضربتِ    غازیانہ

شاہین دور بیں ہوتا ہے اور تلاش و جستجو میں کامل – اس لئے وہ  ایسی خصوصیات کا حامل ہوتا ہے  کہ شکار پہ لپکتے  اس کی مہارت کا زمانہ معترف ہے – اقبال بھی اپنے  جوانوں کی آنکھ میں وہی چمک اور تیزی  دیکھنا چاہتے ہیں کہ انہیں  اپنی منزلیں آسمانوں میں دکھائی دیں-

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے  ان کو  اپنی  منزل  آسمانوں میں

آئیے ہم بھی اقبال  کاشاہیں بن کر جئیں اور اتحاد و اتفاق کا ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں  جس سے ہمارے تن مردہ میں زندگی کے   وہ اوصاف ابھریں کہ ہم دنیا ئے عالم میں خودی کی ایک تصویر بن کے عزت و وقار سےحکمرانی  کریں-

 ۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ