’میں نے اپنی 4 ماہ کی بچی کو نالے میں پھینک دیا کیونکہ جب میں حاملہ تھی تو اس نے۔۔۔‘ خاتون نے پولیس والوں کو بیٹی قتل کرنے کی ایسی وجہ بتادی کہ ہر کسی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا

’میں نے اپنی 4 ماہ کی بچی کو نالے میں پھینک دیا کیونکہ جب میں حاملہ تھی تو اس ...
’میں نے اپنی 4 ماہ کی بچی کو نالے میں پھینک دیا کیونکہ جب میں حاملہ تھی تو اس نے۔۔۔‘ خاتون نے پولیس والوں کو بیٹی قتل کرنے کی ایسی وجہ بتادی کہ ہر کسی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا

  

نئی دلی (نیوز ڈیسک) بھارت کے شہر پرتاپ نگر میں ایک نوجوان خاتون نے سفاکیت کی حد کر دی، اپنی ننھی بچی کو نالے میں ڈبو کر مار ڈالا، اور پھر اس لرزہ خیز حرکت کی وجہ ایسی بیان کی کہ ہر کوئی حیران رہ گیا۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 24 سالہ پنکی سنگھ اپنی چار ماہ کی بچی لالی کو ہمسائے میں لے کر گئی اور اسے نالے میں ڈبو کر مارڈالا۔ اس کے شوہر مہندرا سنگھ نے بتایا کہ وہ گھر آیا تو اس کی اہلیہ چارپائی پر خاموش پڑی تھی۔ پھر وہ اچانک اٹھی اور چلانے لگی کہ اس کی بچی کو لمبے بالوں والی ایک دراز قد خاتون چھین کر لے گئی ہے۔ مہندرا سنگھ کا کہنا ہے کہ اس کی اہلیہ پر کسی بدروح کا سایہ ہے کیونکہ وہ دوران حمل بھی اسی طرح کی باتیں کیا کرتی تھی۔

پراسرار فون کال، پولیس والوں نے موقع پر پہنچ کر گھر کی تلاشی لی تو کموڈ سے نکلی ٹانگیں نظر آگئیں، اندر کون تھا اور یہ حالت کیسے ہوگئی؟ حقیقت دیکھ کر تمام پولیس اہلکار بھی کانپ اُٹھے

بچی کو غائب پاکر اس کی تلاش شروع کردی گئی اور پولیس کو بھی اطلاع کی گئی۔ دو دن تک ہر جگہ بچی کو تلاش کیا گیا اور بالآخر اس کی لاش نالے میں تیرتی مل گئی۔ پولیس افسر اسلام خان نے واقعے کے متعلق بتایا ”خاتون کا ابتدائی طور پر کہنا تھا کہ ایک دراز قد خاتون جو کہ سرخ لباس میں ملبوس تھی، اس کی بچی کو چھین کر لے گئی تھی۔ جب اہل علاقہ سے تفتیش کی گئی تو پتہ چلا کہ کسی نے بھی سرخ لباس میں ملبوس دراز قد خاتون کو آس پاس نہیں دیکھا تھا۔ ہم نے شکوک وشبہات کی بنا پر خاتون کو گرفتار کرلیا اور جب اس سے تفتیش کی گئی تو اس نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔“

پنکی سنگھ کی گرفتاری کے بعد اس کا شوہر ان کے سات سالہ بیٹے کی دیکھ بھال کررہا ہے۔ اس کا کہنا تھا ”میری اہلیہ جان بوجھ کر یہ جرم نہیں کرسکتی۔ وہ بے گناہ ہے کیونکہ اس پر بدروح کا سایہ ہے اور اسے پتہ نہیں چلتا کہ وہ کیا کررہی ہے۔ اگر عدالت اسے مجرم قرار دے دیتی ہے تو ہمارے پاس نتائج کو بھگتنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس