وہ عرب ملک جس کے ہزاروں شہری دراصل کسی ملک کے شہری نہیں، یہ کونسا ملک ہے اور ایسا کیوں ہے؟ حقیقت جان کر آپ کو بھی بے حد افسوس ہوگا

وہ عرب ملک جس کے ہزاروں شہری دراصل کسی ملک کے شہری نہیں، یہ کونسا ملک ہے اور ...
وہ عرب ملک جس کے ہزاروں شہری دراصل کسی ملک کے شہری نہیں، یہ کونسا ملک ہے اور ایسا کیوں ہے؟ حقیقت جان کر آپ کو بھی بے حد افسوس ہوگا

  

بغداد (مانیٹرنگ ڈیسک)موصل شہر کے مشرق میں 30کلومیٹر کی دوری پر خاردار تاروں کے حصار میں پناہ گزینوں کا ایک شہر آباد ہے۔ یہاں 33 ہزار سے زائد عراقی پناہ گزین آباد ہیں جو گزشتہ سال نومبر سے اس صحرائی علاقے میں مقیم ہیں۔ ان پناہ گزینوں میں ایک بڑی تعداد ان بدقسمت بچوں کی ہے جو داعش کے زیر قبضہ علاقے میں پیدا ہوئے اور اب عملاً وہ کسی بھی ملک کے شہری نہیں کیونکہ ان کی پیدائش کا ریکارڈ کہیں بھی موجود نہیں۔ یہ ہزاروں بچے جون 2014ءکے بعد داعش کی خود ساختہ خلافت میں پیدا ہوئے اور عراقی حکومت کے پاس ان کا کوئی اندراج نہیں ہے۔ قانونی دستاویزات کے بغیر یہ بچے نہ صرف خوراک اور رہائش جیسی حکومتی امداد سے محروم ہیں بلکہ مستقبل میں تعلیم اور روزگار کا حصول بھی ان کیلئے کسی طور ممکن نہیں ہوگا۔

’یہ دیکھو مسلمان پیرس حملوں کے بعد خوشی منارہے ہیں‘ برطانوی سیاستدان نے ویڈیو جاری کردی، لیکن دراصل اس ویڈیو میں پاکستانی کس چیز کا جشن منارہے ہیں؟ حقیقت سامنے آئی تو پوری دنیا کے سامنے خود ہی شرم سے پانی پانی ہوگیا

پناہ گزینوں کی بحالی کیلئے کام کرنے والی سویڈن کی ایک این جی او کے نمائندے نے بتایا ”جب داعش نے موصل پر قبضہ کیا تو یہاں 20 لاکھ سے زائد آبادی تھی۔ شماریاتی طور پر دیکھا جائے تو یہاں ہر سال 50 ہزار سے زائد بچوں کی پیدائش ہوئی۔ انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق موصل کے نواح میں قائم خاضر کیمپ میں ہزاروں بچے موجود ہیں، جن کی پیدائش کا ریکارڈ حکومت کے پاس نہیں ہے۔ اس کے علاوہ دیگر پناہ گزین کیمپوں میں بھی ایسے بچوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

عراقی حکومت نے ان بچوں کی شہریت کا مسئلہ حل کرنے کیلئے تاحل کوئی لائحہ عمل اختیار نہیں کیا۔ عراق میں سیاسی عدم استحکام اور خانہ جنگی کی صورتحال جلد ختم ہوتی نظر نہیں آتی اور ایسی صورت میں یہ خطرہ سنگین ہوگیا ہے کہ یہ ہزاروں بچے آنے والے وقت میں بھی شناخت سے محروم رہیں گے۔“

مزید : عرب دنیا