مشال خان قتل کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش، اے این پی نے اپنے ضلعی ناظم کو نوٹس جاری کردیا

مشال خان قتل کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش، اے این پی نے اپنے ضلعی ناظم کو ...
مشال خان قتل کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش، اے این پی نے اپنے ضلعی ناظم کو نوٹس جاری کردیا

  

مردان (ڈیلی پاکستان آن لائن) توہین مذہب کے الزام میں عبدالولی خان یونیورسٹی میں ساتھی طلبہ کے ہاتھوں مارے جانے والے طالبعلم مشال کے قتل کیس میں اہم موڑ آگیا۔ عوامی نیشنل پارٹی نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرنے والے اپنے ہی ضلع ناظم کو شو کازنوٹس جاری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق ضلع ناظم مردان حمایت مایار خان نے مشال قتل کیس پر پوری طرح اثر انداز ہونے کی کوشش کی جس پر پارٹی قیادت نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے۔ شوکاز نوٹس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ حمایت مایار خان نے بحیثیت ضلعی ناظم مشال قتل کیس میں وہ متحرک کردار ادا نہیں کیا جس کی ان سے توقع کی جا رہی تھی بلکہ انہوں نے کیس پر غلط طریقے سے اثر انداز ہونے کی کوشش کی ۔

مشال خان کو کمرے سے کس نے نکالا اور گولی کس نے چلائی ؟ایسی خبر آئی گئی کہ عمران خان کے پیروں تلے سے زمین نکل جائے گی

حمایت مایار خان نے بعض لوگوں کو چھڑانے کی کوشش کی اور اس مقصد کیلئے خود ڈی پی او اور ڈی آئی جی کے دفتر بھی گئے تھے۔ پارٹی کی جانب سے نوٹس کا تین روز میں جواب طلب کیا گیا ہے اور اگر حمایت مایار خان قیادت کو مطمئن نہ کر پائے تو ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی ۔

واضح رہے کہ مشال خان قتل کے حوالے سے اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے انتہائی سخت موقف دیا تھا اور ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مشال کے قاتلوں کو ہر صورت انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ اگر ان کا اپنا بیٹا بھی اس کیس میں ملوث ہے تو اسے بھی پھانسی کے پھندے پر لٹکا یا جائے۔

مزید : مردان /اہم خبریں