کوئی مارشل لا نہیں، صرف جمہوریت

کوئی مارشل لا نہیں، صرف جمہوریت

  

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جنابِ جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ اگر شبخون مارا گیا تو سپریم کورٹ کے سترہ جج نہیں ہوں گے، یہ سترہ جج مارشل لا نہیں لگنے دیں گے۔ عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہے میرا وعدہ ہے ہم کسی کا دباؤ قبول نہیں کریں گے۔مَیں عوامی چیف جسٹس نہیں،بلکہ اس مُلک اور قوم کا چیف جسٹس ہوں، مَیں نے حقوق کے لئے علم بلند کیا ہے، لوگوں کو ان کے حقوق دِلا کر رہوں گا، کیا یہ غلط کر رہا ہوں؟ ووٹ کو عزت لوگوں کو اُن کا حق دینا ہے، اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو جو سب سے بڑا تحفہ دیا وہ زندگی ہے کیا یہ زندگی کسمپرسی میں گزارنے کے لئے دی ہے۔ جنابِ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اُس وقت حیرت ہوتی ہے جب بعض اینکروں کو بھونچال آتا ہے کہ مارشل لا آ رہا ہے، کون لگا رہا ہے مارشل لا؟ کس نے لگانے دینا ہے، کس میں ہمت ہے؟ جنابِ چیف جسٹس نے کہا کہ کسی جوڈیشل مارشل لا کا تصور نہ ذہن میں ہے اور نہ آئین میں ہے یہ کسی کی خواہش یا اختراع ہو سکتی ہے، ماورائے آئین کچھ کرنے کو تیار نہیں، عوام کی حمایت سے انصاف کے فیصلے کر رہے ہیں، جس روز عوامی حمایت ختم ہو جائے گی عدلیہ چلی جائے گی، وہ ایوانِ اقبال کمپلیکس میں یوم اقبال کی تقریب میں صدارتی خطاب کر رہے تھے۔

جنابِ چیف جسٹس اِس سے پہلے بھی دو ٹوک الفاظ میں جوڈیشل مارشل لا کے امکانات کو نہ صرف رد کر چکے ہیں،بلکہ یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ آئین میں جوڈیشل مارشل لا کا کوئی تصور نہیں اور عدلیہ کوئی بھی ماورائے آئین اقدام کسی کو نہیں کرنے دے گی،لیکن سیاسی یتیموں کی ایک کھیپ جسے اپنی بقا ہی مارشل لا کے اندر نظر آتی ہے، اب تک کسی نہ کسی انداز میں اپنی اِس خواہش کا اظہار کرتی چلی آ رہی ہے،اسی کو جنابِ چیف جسٹس نے ’’بعض اینکروں کے بھونچال‘‘ کے اندر دیکھا اور محسوس کیا،اور بہت بروقت اس کا نوٹس لے کر یہ واضح پیغام بھی دے دیا ہے کہ اگر کہیں ایسی سوچ موجود ہے تو اس کی اصلاح کر لی جائے۔

جناب چیف جسٹس مقدمات کی سماعت کے سلسلے میں چاروں صوبوں کا دورہ بھی کر چکے ہیں اور صوبائی حکومتوں کی گورننس پر اُن کا تبصرہ بھی سامنے آ چکا ہے۔اگر کسی حکومت کو اپنے بارے میں کوئی خوش فہمی یا غلط فہمی تھی تو وہ بھی جنابِ چیف جسٹس نے کِسی لگی لپٹی رکھے بغیر دور کر دی ہے، خاص طور پر خیبرپختونخوا کی حکومت پروپیگنڈے کے انداز میں یہ ڈھول پیٹتی رہی ہے کہ صوبے میں تبدیلی آ گئی ہے،لیکن جنابِ چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ سے جو مکالمہ کیا اس میں یہ صاف کہا کہ دعوے تو سنے تھے بہتری نہیں دیکھی،تعلیم اور صحت کے شعبے خاص طورو پر زیر بحث رہے اس سے پہلے جنابِ چیف جسٹس دوسرے صوبوں کے دوروں کے دوران بھی حسبِ موقعہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے۔انہوں نے اپنی حمایت میں لگنے والے ہورڈنگز اور بینرز اتروانے کا حکم بھی دیا تھا اور اِس ضمن میں خاص طور پر کہا کہ سپریم کورٹ اپنے فرائض منصبی ادا کر رہی ہے اسے کسی یکجہتی اور مدد کی ضرورت نہیں۔ بعض سیاست دان اس طرح کے بیانات بھی دیتے رہتے ہیں کہ وہ عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں،گویا عدلیہ کو ان کے سہارے کی ضرورت تھی،حالانکہ عدلیہ اپنے آئینی اختیارات کے ساتھ قائم و دائم ہے، کسی فرد یا افراد کی حمایت کی محتاج نہیں۔

وی وی آئی پی شخصیات کی جا وے جا تعریف و توصیف کے کلمات پر مبنی بینرز اور ہورڈنگز لگانے کاکلچر اگرچہ کافی پرانا ہے،لیکن کچھ عرصے سے اس میں جدت بھی آ گئی ہے اور دیکھا یہ گیا ہے کہ کسی مخصوص صورتِ حال میں یہ بینر راتوں رات اتنی کثیر تعداد میں لگ جاتے ہیں جیسے ایکا ایکی زمین سے اُگ آئے ہوں۔ جنرل(ر) راحیل شریف جب آرمی چیف تھے اور اُن کی ریٹائرمنٹ کے دن قریب آ رہے تھے تو اچانک اُن کی ملازمت میں توسیع کے بینرز مُلک کے مختلف شہروں میں انتہائی ترتیب و تنظیم کے ساتھ آویزاں کر دیئے گئے تھے۔ اس سے بھی ذرا پہلے مختلف شہروں میں ایسے بینرز بھی دیکھے گئے جن میں آرمی چیف کو مُلک کا نظم و نسق سنبھالنے کی دعوت دی گئی تھی یہ طرزِ عمل صرف جنرل(ر) راحیل شریف کے ساتھ مخصوص نہیں تھا،بلکہ مختلف اوقات میں دوسرے ادوار میں بھی ایسے پوسٹرز دیکھے گئے،لیکن چیف جسٹس نے اپنے بارے میں خوشامدانہ بینرز کو پسند نہیں کیا اور بروقت اُنہیں ہٹانے کا حکم دیا۔

بعض سیاست دان کبھی مارشل لا اور کبھی جوڈیشل مارشل لا کی باتیں کر کے گویا یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ باخبر ہیں یا پھر کسی نے ان کو اپنی ترجمانی پر مامور کر رکھا ہے،حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہے،بلکہ یہ حضرات کبھی آرمی چیف اور کبھی چیف جسٹس کی نظروں میں آنے کے لئے اس طرح کے بے سروپا اور لایعنی بیانات دیتے رہتے ہیں۔ جنابِ چیف جسٹس نے اِس سے پہلے بھی ان لوگوں پر واضح کر دیا تھا اور اب تو انہوں نے زیادہ کھل کر بات کر دی ہے اس لئے اُن لوگوں کو اپنی غلط فہمی دور کر لینی چاہئے،جنہیں اپنی سیاسی بصیرت اور سیاست پر تو کوئی بھروسہ نہیں،لیکن مارشل لا یا جوڈیشل مارشل لا کی بیساکھیوں کی خواہش ضرور پال رکھی ہے،جنابِ چیف جسٹس نے بروقت یہ بیساکھیاں توڑ دی ہیں۔

بعض ٹی وی چینل باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مسلسل سیاسی کنفیوژن پھیلانے میں کوشاں ہیں اور ڈس انفارمیشن کا ایک طوفان اٹھائے رکھتے ہیں۔ جنرل (ر) راحیل شریف اپنی ریٹائرمنٹ سے کچھ پہلے جب امریکہ کے دورے پر تھے تو ایک اینکر نے اپنی ویب سائٹ پر اُن کے بارے میں ایسی غلط خبریں پوسٹ کئے رکھیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہ تھا اور بالآخر اُن کی ریٹائرمنٹ پر یہ سب کچھ سو فیصد غلط ثابت ہو گیا،ڈس انفارمیشن کی اس مہم کا مقصد نواز شریف کی حکومت کو بدنام کرنا تھا، لیکن پیمرا نے یا کسی بھی سرکاری ادارے نے ان اینکرز سے تعرض نہ کیا،بلکہ یہ آج تک بے سروپا خبریں پھیلائے جا رہے ہیں۔کچھ اینکر ہیں، جنہوں نے مسلسل مارشل لا کا ہوّا کھڑا کیا ہوا ہے غالباً ایسے ہی کسی چینل کے کسی پروگرام پر جنابِ چیف جسٹس کی نظر پڑ گئی ہو گی،اِس لئے انہوں نے بہتر جانا کہ وہ علامہ اقبالؒ کی یاد میں منعقدہ تقریب میں یہ دو ٹوک اعلان کر دیں کہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے پاکستان میں وہی جمہوری نظام رائج ہو گا، جو انہوں نے مُلک کے لئے پسند کیا تھا۔اِس واضح اور واشگاف اعلان کی بہت زیادہ ضرورت بھی تھی، اب پیمرا کا فرض ہے کہ وہ جناب چیف جسٹس کے اِس اعلان کی روشنی میں اُن چینلوں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کرے جو بے بنیاد اور غلط خبریں،بلکہ دانستہ افواہیں پھیلا کر افراتفری کا ماحول پیدا کر رہے ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -