ملک وفاق شکن قوتوں کے نرغے میں

ملک وفاق شکن قوتوں کے نرغے میں
ملک وفاق شکن قوتوں کے نرغے میں

  

ایکا ایکی ایک دن ہم نے دیکھا کہ بلوچستان کے چند اسمبلی ارکان نے وزیرِاعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی۔ اس مشق بے سخن کے بعد وہ لوگ اپنی حکومت بنانے میں بھی کامیاب ہو گئے۔ یہاں تک تو جمہوریت کا حسن کہلاتا ہے۔

اس طرح کے کام مستحکم ممالک میں عام ہیں۔ اپنے ملک کے صوبہ بلوچستان میں بھی مطالبات بذریعہ کوہ پیمائی پیش کرنے کا رجحان کم ہو کر اگر بذریعہ اسمبلی پیدا ہو چکا ہے تو اسے ایک خوش آئند رجحان قرار دیا جا سکتا ہے۔

یہاں تک پہنچا تو تاریخ راستہ روکے کھڑی تھی کیونکہ ان محترم اصحاب نے بلوچستان کے حقوق کے لئے الگ سے ایک پارٹی بنانے کا اعلان کیا۔

1986ء میں جماعت اسلامی اور دیگر دینی جماعتوں کو لگام دینے کے لئے جوراستہ اختیار کیا گیا تھا، اس پر مزید کچھ لکھنا سودمند کام نہیں ہے۔

کراچی سے اس جماعت کے تین ارکان اسمبلی بشمول پروفیسر غفور احمد ، مولانا ظفر احمد انصاری (اللہ اللہ۔ اپنی اکیلی ذات میں انجمن) شاہ احمد نورانی، شاہ فریدالحق اور اس اعلیٰ پائے کے افراد کا زور توڑنے کے لئے جو کھیل کھیلا گیا ، اس پر بہت لوگوں نے بہت کچھ لکھا ہے۔

میری یکسوئی البتہ اس وقت پختہ ہوئی جب ملک کے کہنہ مشق صحافی جناب الطاف حسن قریشی صاحب کی گواہی مجھے ملی۔

چند سال قبل ایک کالم میں موصوف محترم نے لکھا کہ انہیں کسی فلاں صاحب کا فون آیا کہ گورنر ہاؤس کراچی میں ایک خصوصی اجلاس میں فلاں فلاں اہم شخصیات جمع ہو کر ایک نئی جماعت قائم کرنے کے خدوخال واضح کریں گی۔

قریشی صاحب نے فون سنتے ہی انکار کر دیا کیونکہ فون کرنے والا، اجلاس کے شرکا، گورنرہاؤس اور لب و لہجہ جو کچھ بتارہا تھا، قریشی صاحب جیسے جہاندیدہ شخص سے وہ کیسے پوشیدہ رہ سکتا تھا۔ وہ جماعت بنی۔ نتائج سب کے سامنے ہیں۔

کراچی کا شاید ہی کوئی گھرانہ ہو گا ،جس نے گورنر ہاؤس میں طے پانے والے اس ’’تاریخ ساز‘‘ فیصلے کے نتائج نہ بھگتے ہوں گے۔ 1986ء میں کون حکمران تھا، گورنر کون تھا؟ آگ سے کھیلنے والے بعض لوگ آج بھی مسکراتے ہوئے رقصِ ابلیس دیکھ رہے ہیں۔ آگ لگا کر اسے بجھانا پھر اپنے اختیار میں نہیں رہتا۔ کراچی سلگ رہا ہے۔

اب اس کھیل کی اگلی بازی کا پہلا حصہ بلوچستان اور دوسرا حصہ پنجاب میں شروع ہو چکا ہے۔

9 اپریل 2018ء کو مسلم لیگ (ن) کے نو دس ارکان (صوبائی و قومی) اسمبلی نے ا ستعفیٰ دے دیا۔یہ کوئی خبر نہیں ہے۔ ہر ملک میں انتخابات سے قبل یہ کچھ ہوتا رہتا ہے۔ البتہ ’’بیوٹی پارلر‘‘ چلانے والی محب وطن مہلائیں جمہوریت کو حسین سے حسین تر بنا رہی ہیں۔

جمہوریت کا حسن نکھر رہا ہے۔ سیاست میں کوئی کسی کا وفادار نہیں ہوتا۔ موقع کی مناسبت سے سیاست دان فیصلے کرتے رہتے ہیں۔ کل کو یہ لوگ کسی اور جماعت میں شامل ہو سکتے تھے۔ ہر ملک اور جمہوریت کی ہر نوع میں یہ سب کچھ قابل قبول ہوا کرتا ہے۔

اللہ غریق رحمت کرے آپا نسیمہ چوہدری نے تیسری جماعت میں ’’پانچ چوہے گھر سے نکلے کرنے چلے شکار‘‘ خوب یوں رٹوا کر مقابلہ شعر و شاعری میں بھیجا کہ پانچ پر آ کر پوری ہتھیلی سامعین کی طرف کرناہے۔ جب ایک چوہا پیچھے رہ جائے تو انگشت شہادت اوپر بلند کرنا ہے۔

باقی قیاس آپ کے ذمہ ! عمل کیا، انعام لیا تو آپا جی نہال ہو گئیں ،لیکن 1986ء میں گورنر ہاؤس کی آپا جی نے برخوردار کو کچھ اس طرح نظم یاد کرا کر تیار کیاکہ مَسیں بھیگتے ہی برخوردار اکڑ کر کھڑا ہو گیا۔ آگ لگی، ملک تباہی کے دہانے پر جا پہنچا ۔ستمبر 2013ء سے آگ بجھانے کا عمل شروع ہوا۔ کافی بہتری پیدا ہوئی، لیکن کراچی اب بھی سلگ رہا ہے۔

بلوچستان کے ارکان اسمبلی کسی اور جماعت میں شامل نہیں ہوئے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہمارا گروپ بلوچستان کے حقوق کے لئے ایک الگ پارٹی تشکیل دے گا۔

یہ لوگ مسلم لیگ سے الگ ہوئے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے کچھ مخالفین خوب جشن منا رہے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے منحرف ارکان کیوں پیچھے رہیں۔ یہ بھی مسلم لیگ (ن) کے منحرف ارکان ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی جدوجہد جنوبی پنجاب کے لئے ایک الگ صوبے کے لئے ہو گی۔ ہمارے پاس کوئی شہادت نہیں کہ ہم اس کام کے پیچھے کسی سازش کو تلاش کریں۔ ہاں! یہ ملحوظ رہے کہ شہادت کا نصاب و معیار عدالتی کارروائی کے لئے درکار ہوا کرتا ہے۔ یہاں توظاہر او ر ثابت پیچھے پیچھے ہیں۔استاد جگرمرادآبادی کچھ اور ہی فرما رہے ہیں:

خون وفائے بسمل، جرم نگاہ قاتل

ظاہر تو ہر جگہ ہے، ثابت نہیں کہیں سے

1986ء میں جن ’’محب وطن‘‘ قوتوں نے قومی سطح کی جماعتوں کو توڑنے کی خاطر، جس ’’حب الوطنی‘‘ کا مظاہرہ کیا تھا اور جس بچے جمورے کو پانچ چوہے والی نظم یاد کرائی تھی، بالغ ہوتے ہی اس نے ابتداً اپنے میرانیس کی پیروی میں مرثیے کو خوب فروغ دیا۔ اتنا فروغ دیاکہ یہ مرثیے لاکھوں یا کم از کم ہزاروں قبروں پر کند ہ ہیں۔ تب جا کر ان قوتوں نے مجبوراً اور محبوب کے ہرجائی پنے سے تنگ آ کر یزدی وحشی کی پیروی میں و ا سو خت پڑھنا شروع کر دیا۔

لوگ البتہ شہرآشوب پڑھ ر ہے ہیں۔ کراچی، ایک شہرِ آشوب! الف نکال کر اسے کرچی کرچی کر دیا گیا ہے۔آج کل انہیں قدرے فراغت ہے۔ ٹارنیڈونے بلوچستان کا رخ کر لیا ہے۔ اللہ رحم کرے۔ ایک لہر جنوبی پنجاب تک پہنچ چکی ہے۔

بڑی وفاقی جماعتوں میں سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) غنیمت ہیں کہ جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے پاکستان ؟؟؟ اللہ اللہ کسی کو لاہور کے حلقہ 120 کے انتخابات میں 591 کا ہندسہ یاد ہے؟

وفاق کو ایک لڑی میں پرونے والی ان علامتوں کو پہلے تو بے نظیر کی شہادت کے ذریعے بے جان کر دیا گیا۔ اب مسلم لیگ (ن) جو کسی نہ کسی حد تک اب بھی وفاقی جماعت تھی، یوں پارہ پارہ کر کے علاقائیت اور مقامی سطح کو فروغ دینے کا کون ذمہ دار ہے۔ رضار با نی کا کہنا بالکل درست ہے کہ’’ ملک میں غیر جمہوری طاقتوں نے ہمیشہ سیاسی پارٹیوں میں مداخلت کی ہے۔ ان پارٹیوں کو جنم دینے سے مرکزی دھارے کی سیاسی پارٹیاں توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے وفاق کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ ‘‘ یہ کام کون کر رہا ہے؟ ذرا غور کریں۔

جمہوریت کے حسن نے بلوچستان میں مرکز گریز قوتوں(centrifugal forces) کو گزشتہ دس سال میں بے دست و پا کر کے رکھ دیا تھا۔ جنوبی پنجاب کا نعرہ انتخابات سے قبل ہردفعہ لگایا جاتا ہے۔

اس صوبے نے نہ بننا ہے، نہ بن سکتا ہے۔ چھوٹے صوبے اکیلے پنجاب سے بعض امور پر شاکی رہتے ہیں۔ امکانی طور پر اس صوبے کے دو حصے ہو جانے پر سینٹ میں موجودہ پنجاب کی نمائندگی دُگنی ہو جائے گی۔

دیگر صوبوں کے سیاست دان اتنے بھولے نہیں ہیں کہ کسی ایسی آئینی ترمیم کا ساتھ دیں ،جس کے بعد انہیں ایک کی بجائے دو پنجابوں سے نمٹنا پڑے۔ ناممکنات پر مزید کیا عرض کروں۔البتہ پورے ملک میں از سرنو صوبہ بندی ہو سکتی ہے، جس کے لئے قومی اتفاق رائے ضروری ہے۔

پیپلز پارٹی گزشتہ انتخابات میں بری طرح ہار گئی، لیکن ایک وفاقی جماعت کے طور پر باقی رہی۔ آزادانہ، شفاف اور منصفانہ انتخابات میں بھلے مسلم لیگ (ن) کا بھی یہی حشر ہوتا ہے تو ہو،لیکن آج کل اس جماعت کی وفاقیت کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، اس سے تو لگتا ہے کہ کسی نئے شہرِ آشوب کی تیاری ہے۔

جنوبی پنجاب نے نہ صوبہ بننا ہے، نہ بن سکتا ہے۔ ملک ضرور کمزور ہو سکتا ہے کہ اس وقت اس میں مرکزگریز قوتوں کی خوب آبیاری ہو رہی ہے۔ اب یہ قوتیں کراچی کی طرح ایک خطے میں نہیں ہیں۔

ان لوگوں نے خوب ہوم ورک کر کے پورے ملک کو شہرِآشوب بنانے کی ٹھان لی ہے، لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ 1958ء میں ملک کے محسن اوّل ملک فیروز خان نون کو معزول کر کے جو سناٹا دیکھنے کو ملا تھا، اس کو پچاس سال کی مدت ہو چکی ہے۔ پچاس سال میں اب امت مسلمہ کی جگہ ’’امت گوگلیہ‘‘ جنم لے کر بالغ ہو چکی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -