چل چنبلی باغ میں

چل چنبلی باغ میں
چل چنبلی باغ میں

  

صبح صبح پارک میں آج کل بہت رونق ہوتی ہے، ایک تو مختلف پھولوں کی خوشبو اوپر سے خواتین و حضرات کے کپڑوں سے نکلتی مختلف پرفیومز کی خوشبو پورے ٹریک کو معطر رکھتی ہے۔ کل تو ہم بھی ’’چنبیلی‘‘ کی خوشبو لگا کے گئے۔

امید یہی تھی کہ دوست خوشبو کی تعریف کریں گے، مگر افسوس یہ حسرت پوری نہ ہو سکی۔ گو کہ ہم نے بہت سے دوستوں کی تعریف بھی کی کہ واہ کیا خوشبو لگا رکھی ہے۔

امید یہی تھی کہ ہماری تعریف میں بھی کچھ کہا جائے گا، مگر بدقسمتی سے ہم نے جس دوست کی خوشبو کی تعریف کی، سب نے ہمارے منہ پر کہہ دیا کہ جناب ہم نے تو کوئی خوشبو نہیں لگائی،بلکہ اگر کوئی خوشبو لگا کے ہمارے پاس سے گزرے تو ہمیں تو اس سے بھی ’’الرجی‘‘ ہو جاتی ہے، شکر ہے تم نہیں لگاتے۔

ہم روزانہ دس چکر لگاتے ہیں۔ ’’چنبیلی‘‘ کے چکر میں پندرہ چکر لگائے، مگر مراد پوری نہ ہو سکی۔ سو تھک ہار کے پارک کے گوشے میں موجود سیاسی بنچ کے دوستوں کے پاس جا بیٹھے۔ اچھی خاصی رونق لگی ہوئی تھی۔

بھٹی صاحب، رانا صاحب،باری صاحب سب موجود تھے۔ شیخ صاحب چوکڑی مار کے سپیکر کی کرسی سنبھالے بیٹھے تھے۔ ہم بھی اپوزیشن کے سٹیج پر بیٹھ گئے۔

رانا صاحب مونچھوں کو تاؤ دے کر بتا رہے تھے کہ چیف جسٹس نے کے پی کے آئی جی پولیس کی تعریف میں یہاں تک کہہ دیا کہ اگر میں چیف جسٹس نہ ہوتا تو آپ کو ’’سلیوٹ‘‘ مارتا۔ اور پھر فرمانے لگے کہ یہ ہے عمران خان کا کمال کہ انہوں نے کے پی کے میں پولیس کو ایسا سیدھا کیا ہے کہ چیف جسٹس جیسی شخصیت بھی انہیں سلیوٹ مارنے کے لئے بے تاب ہے۔

رانا صاحب کی اس بات پر شیخ صاحب نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ اب پارلیمنٹ کو چاہیے کہ وہ آئین میں یہ ’’شق‘‘ بھی ڈال دے کہ اگر کسی چیف جسٹس یا جج کو کسی کا کام اچھا لگے تو انہیں ’’سلیوٹ‘‘ مارنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

آخر چیف جسٹس کا بھی تو دل کرتا ہے کہ وہ کسی کے اچھے کام پر انہیں ’’سلیوٹ‘‘ مارے۔ بھٹی صاحب نے کہا کہ میرے خیال میں ایک پنجابی محاورہ ہے کہ ’’الارائے مارا مکو جیاّ‘‘ یعنی کسی کو مارنے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ منہ پر تھپڑ مارا جائے۔

بس اگر صرف ہاتھ اٹھا لیا جائے تو اس کا مطلب بھی تھپڑ مارنا ہوتا ہے، سو میرے خیال میں چیف جسٹس نے آئی جی کو سلیوٹ مار دیا ہے، بلکہ عمران خان نے آئی جی کے پی کے کے حوالے سے جو ٹویٹ کیا ہے، اس کا مطلب تو یہی ہے کہ دیکھو ہمارے صوبے کے آئی جی پولیس کی کارکردگی۔ چیف جسٹس جیسی شخصیت بھی ان کی تعریف یعنی سلیوٹ پر مجبور ہو گئی ہے۔

مگر ’’باری صاحب‘‘ بضد تھے کہ عمران خان نے ’’آدھی‘‘ بات کی ہے اور چیف جسٹس نے جو ’’پوری بات‘‘ کی ہے، وہ انہوں نے بیان نہیں کی، چیف جسٹس نے جہاں آئی جی پولیس کی تعریف کی ہے، وہاں وزیراعلیٰ کے پی کے کی ’’کلاس‘‘ بھی لی ہے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ سے کہا کہ میں نے تو سنا تھا کہ کے پی کے میں بہت کام ہو رہے ہیں۔ آپ لوگ عوام کی بہت خدمت کررہے ہیں۔

بڑے بڑے ڈیم تیار کئے ہیں، کروڑوں درخت لگا رہے ہیں، سڑکیں بنا رہے ہیں، ہسپتال ٹھیک کر رہے ہیں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کررہے ہیں، مگر یہاں تو بیڑہ غرق ہوا پڑا ہے، وہی پرانے کا پرانا کے پی کے ہے۔

پانی جیسا بنیادی مسئلہ تو آپ لوگوں سے حل نہیں ہو سکا تو اور آپ نے کیا کرنا ہے۔ ان سوالات کے جواب میں وزیراعلیٰ کے پی کے نے تاریخی جملہ کہا:

’’حضور ہم جو کررہے ہیں اس کے نتائج بیس سال بعد سامنے آئیں گے‘‘

سو اخلاقی طور پر عمران خان کو چاہیے تھا کہ وہ چیف جسٹس اور اپنے وزیراعلیٰ کے درمیان ہونے والے ’’مکالمے‘‘ میں سے بیس سال کا ذکر ضرور کرتے، مگر وہ یہ گول کر گئے، کیونکہ وہ حقیقت بیان کرنے سے کتراتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ کے پی کے ایک بدلا ہوا صوبہ ہے، جہاں انہوں نے جنت کے باغ لگا دیئے ہیں، سو انہوں نے اس حوالے سے ابھی تک خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

خیبرپختونخوا کے حالات دوسرے صوبوں سے مختلف بالکل نہیں ہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کے پی کے عوام بہت سے مسائل کی وجہ سے بہت مشکل میں ہیں اور وہ اس پر احتجاج بھی کرتے ہیں۔

کرپشن کا یہ حال ہے کہ رشوت دینے والوں نے سینٹ کے الیکشن میں خود عمران خان کو رشوت کے کروڑوں روپے کی پیش کیش کی ہے، جس کا اظہار خود عمران خان نے پریس کانفرنس میں کیا ہے اور مزید یہ بھی کہا ہے کہ ہمارے بیس ایم پی اے بکے ہیں۔ عمران خان اب ان ایم پی ایز کے خلاف نیب کی کارروائی کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔

یہ دوسری بات ہے کہ جواباً ان ایم پی ایز نے قرآن پر حلف دیا ہے کہ عمران خان جھوٹ بول رہے ہیں اور یہ سب کچھ اس وقت کیا جا رہا تھا کہ جب محترم چیف جسٹس کے پی کے موجود تھے۔

خیال یہی تھا کہ محترم چیف جسٹس سوموٹو ایکشن کے تحت عمران خان اور اسمبلی ایم پی ایز کی طلبی فرماتے اور کے پی کے کے آئی جی کو حکم دیتے کہ زرا ان کو تو پکڑ کے لاؤ، مگر ابھی تک کوئی سوموٹو کا ایکشن سامنے نہیں آیا اور میرے خیال میں تو کرپشن اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے اور خود عمران خان بھی کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں تو پھر کرپشن تو کے پی کے میں سب سے زیادہ ہے اور عمران خان کے ناک کے نیچے ہو رہی ہے۔

سّو اب اس سارے معاملے پر تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ:

چل چنبیلی باغ میں جھولا جھلائیں گے

تم اپنی سناؤ گی ہم اپنی سنائیں گے

مزید :

رائے -کالم -