پشتون تحفظ موومنت کا لاہور میں جلسہ ریلی ،12مئی کو کراچی میں جلسے کا اعلان

پشتون تحفظ موومنت کا لاہور میں جلسہ ریلی ،12مئی کو کراچی میں جلسے کا اعلان

  

لاہور (بی بی سی )پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین نے لاہور میں جلسے سے خطاب میں ماورائے عدالت قتل اور گمشد ہ افراد کی واپسی کیلئے 'ٹْرتھ اینڈ ری کنسیلئیشن کمیشن (یعنی حقائق اور مفاہمتی کمیشن) کے قیام کا مطالبہ کیا اور ساتھ ساتھ کراچی میں جلسہ کر نے کا اعلان کیا۔لاہور کے تاریخی موچی دروازے سے ملحق موچی باغ میں پی ٹی ایم کے حمایتیوں سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے سربراہ نے کہا کہ 'ہم ماورائے عدالت قتل، گمشدہ افراد اور دیگر مسائل کے حل کے لیے 'ٹرتھ اور ری کنسیلیئشن کمیشن' (یعنی حقائق اور مفاہمت کمیشن) کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں اور آرمی پبلک سکول کے شہدا کے ورثا کو بھی اسی کمیشن سے انصاف دلوائیں گے۔'ڈائس پر آنے سے قبل منظور پشتین کے لیے والہانا استقبال کیا گیا اور اپنی تقریر کا آغاز انھوں نے اردو زبان میں کیا۔اپنے مطالبات کی فہرست دہراتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم نے کراچی میں ماورائے عدالت قتل میں مارے جانے والے نقیب اللہ محسود کو انصاف دلانے کا تقاضہ کیا اور پولیس افسر راؤ انوار کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔'ہمارے مطالبے کو پورے پاکستان نے دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ اس کا نتیجہ کیا نکلا۔'ماورائے عدالت قتل کے خاتمے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں ہے کہ 'جو کوئی غلطی کرے اسے عدالت میں پیش کرو، لیکن ہزاروں پشتونوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا'۔اس کے علاوہ منظور پشتین نے جبری گمشدگی کے خلاف بھی اپنے احتجاج کا ذکر کیا۔'مختلف طریقوں سے لوگوں کو مارا گیا۔ ہم آپ کو گاؤں کا نام، اور تاریخ بتاتے ہیں آپ جا کر معلوم کر لیں کیا کیا ہوا ہے۔ ہم جھوٹے گندے لوگ نہیں ہیں جو بے بنیاد الزام لگائیں۔ ہم سچے لوگ ہیں اور ہمیشہ سچ بیان کریں گے۔'اپنی تنظیم اور اپنے بارے میں کی جانے والی تنقید کو جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انھیں اور ان کے والد، بھائی اور دوستوں کو بھی دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔'دو دو شہریتیں رکھنے والے ہماری شہریت پر شک کرتے ہیں۔ ہم لوگ بہت پر امن لوگ ہیں ۔اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں بتاتے ہوئے منظور پشتین نے اعلان کیا کہ وہ اگلے ماہ کی 12 تاریخ کو کراچی میں جلسہ کریں گے۔'ہم کراچی میں جلسہ کریں گے اور اس دن کریں گے جس دن مشرف نے لوگوں کا قتل کیا تھا۔‘جلسے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جس میں خواتین اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے بھی شامل تھے۔گمشدہ افراد کی رہائی کے لیے مہم چلانے والی آمینہ جنجوعہ نے بھی اپنے خطاب میں کہا کہ وہ اس جلسے میں گمشدہ افراد کی حمایت میں شریک ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ کئی سالوں سے اپنے شوہر کی واپسی کے لیے جدو جہد کر رہی ہیں لیکن ابھی تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے۔ قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرادری سمیت دیگر سیاستدانوں نے پشتون تحفط موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے بنیادی حق کی حمایت کی تھی۔مریم نواز نے ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ گرفتار کیے جانیوالے پشتون بھائیوں کو رہا اور ریلی کی اجازت دی جانی چاہیے۔ پشتون بھائیوں کو فوری رہا کیا جانا چاہیے اور جلسہ کی اجازت دی جانی چاہیے۔ یہ ملک اتنا ہی ان کا ہے جتنا ہم سب کا۔انہوں نے کہا کہ ’یہ ملک اتنا ہی ان کا بھی ہے جتنا کہ یہ ہمارا ہے‘۔مریم نواز نے ایک علیحدہ ٹوئٹ میں کہا کہ ’ظلم و زیادتی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو زبردستی دبانے کی کوشش نہ کبھی کامیاب ہوئی ہے اور نہ ہوگی، وجوہات کا سد باب کیا جائے‘۔ ظلم و زیادتی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو زبردستی دبانے کی کوشش نہ کبھی کامیاب ہوئی ہے نہ ہو گی۔ وجوہات کا سدِباب کیا جائے۔پشتون بھائیوں کو فوری رہا کیا جانا چاہیے اور جلسہ کی اجازت دی جانی چاہیے۔ یہ ملک اتنا ہی ان کا ہے جتنا ہم سب کا۔بعد ازاں سابق وفاقی وزیر اطلاعات اور مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے پشتون تحفظ موومنٹ کے حق میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے لاہور میں پشتون اجتماع پر پابندی عائد کرنا تکلیف دہ آمر ہے، یہ وقت ان کے زخم بھرنے کا ہے۔ حکومت پنجاب نہ صرف لاہور میں بیان کیے جانے والے دکھوں اور تکلیفوں کو سنے بلکہ ان کی آوازوں کو بند کرنے کے بجائے ان کے مسائل حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ہر پاکستانی کو احتجاج کا حق ہے اور ’پی ٹی ایم علیحدہ نہیں ہے‘، اور انہوں نے ساتھ ہی ’ووٹر کو عزت دو‘ کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔علاوہ ازیں لاہور پولیس نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پی ٹی ایم کے جلسہ منتظمین میں سے کسی کو حراست میں نہیں لیا بلکہ پشتون تحفظ مومنٹ کے جلسہ منتظمین کو سیکیورٹی پر مذاکرات کے لیے بلایا گیا تھا۔پی ٹی ایم کا کہنا تھا کہ ہمارے تمام کارکن چھوڑ دیئے گئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ان کے کارکنان اور رہنماؤں کو تین سے چار گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا تھا۔پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی جانب سے اتوار کو ممکنہ طور پر موچی گیٹ پر ریلی کے انعقاد کے اعلان کے بعد گزشتہ رات پنجاب پولیس نے جامع پنجاب اور مقامی ہوٹلوں میں پی ٹی ایم اور عوامی ورکر پارٹی (اے ڈبلیو پی) کے کارکنوں اور رہنماؤں جبکہ متعدد پشتون طلبہ کو مختلف چھاپوں میں گرفتار کرلیا تھا۔مذکورہ گرفتاریوں پر پی ٹی ایم کے رہنما منظور پشتین نے سوشل میڈیا کے ذریعے ملک بھر میں احتجاج کرنے کا مطالبہ کیا۔جس کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ’پشتون لانگ مارچ‘، ’پی ٹی ایم کے کارکنوں کو رہا کرو‘ اور ’پنجاب پولیس پر شرم آتی ہے‘ کے ہیش ٹیگ سب سے زیادہ مقبول ہوئے۔

مزید :

صفحہ آخر -