صوبہ بھر کے نجی تعلیمی ادارے آج اور کل احتجاجا بند رہینگے

صوبہ بھر کے نجی تعلیمی ادارے آج اور کل احتجاجا بند رہینگے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پبی ( نما ئندہ پاکستان) صو با ئی حکو مت کے ظا لما نہ فیصلوں کے خلاف صوبہ بھر کے نجی تعلیمی ادارے بطور احتجاج آج23 اپریل اور 24 اپریل کو بند رہے ینگے اخبارات میں شا ئع قوا نین پر مبنی اشتہارات تعلیمی ایکٹ سے متصادم ہے آئی ایم یو سر کاری سکولوں کے لئے ہو نا چا ہئے تعلیم کی فر اہمی ریاست کی ذمداری ہے لیکن اپنی مجر ما نہ غفلت چھپا نے کے لئے نجی شعبہ کو زیر عتاب لا کر اپنی کمزوری اور نا اہلی کو چھپا نے کی کوشش کر رہی ہے حکو مت 5 سال سے تعلیمی ایمر جنسی کا دعویٰ کر رہی ہے لیکن کار کردگی صفر ہے جس کا غصہ نجی تعلیمی اداروں پر نکال رہی ہے حکو مت کے ان ظالما نہ اقدا مات کو کسی صورت نجی تعلیمی اداروں کے ما لکان نہیں ما نتے جس کے خلاف 23 اور24 اپریل کو صو بہ بھر میں احتجا جی ہڑتال ہو گی اور تمام نجی تعلیمی ادارے بند رہے نگے ان خیا لات کا اظہار (پیماں) کے مرکزی صدر اور ریگو لیٹری اتھا ر ٹی کے سر پرست اعلیٰ غلام نبی سینانے پبی پر یس کلب میں میڈ یا کے نما ئندوں سے بات چیت کر تے ہو ئے کیا انہوں نے کہا کہ صو بہ بھر کے تنظیموں پیماں ،آل پا کستان پر ائیویٹ سکولز ایسو سی ایشن ،پین وغیرہ نے مشتر کہ فیصلہ کیا ہے کہ صو با ئی حکو مت کے ان ظا لما نہ فیصلوں کے خلاف متحد ہو کر ایک پلیٹ فارم سے جدو جہد کر ینگے انہوں نے کہا حکو مت نجی سیکٹر کو اپنی جا گیر سمجھتی ہے انہوں نے کہا کہ دیگر صو بوں کی نسبت خیبر پختو نخوا میں طلبہ کے لئے شعبہ تعلیم میں ایسا کو ئی کام نہیں ہوا کہ جس پر عوام فخر کریں انہوں نے کہا کہ ہم عد لیہ کے فیصلوں کے خلاف نہیں بلکہ ریگولیٹر ی اتھا رٹی کی ذمداری بنتی تھی کہ وہ نجی سیکٹر کو کیس میں فریق بنا کر ان کے تحفظات عد لیہ کے سا منے رکھتی انہوں نے کہا کہ ضلعی سکرو نٹی کے نو ٹیفکیشن مین ڈی ایم او کو چیئر مین بنا نا سراسر بد نیتی پر مبنی ہے ہمارے مخا لفت کے باوجود این جی او ز اور بیور کریسی کی ایماء پر من ما نے فیصلے کروانا ہمیں کسی صورت منظور نہیں انہوں نے خد شہ ظا ہر کیا کہ اگر ریگو لیٹری اتھا رٹی یو نہی غلط فیصلے کر تی رہی تو آئندہ ایک سال میں 90 فیصد نجی تعلیمی ادارے بند ہو جا ئینگے جس کا بڑا نقصان قوم کو پہنچے گا انہوں نے کہا کہ فیسوں کے حوا لے سے ہا ئی کورٹ میں نظر ثا نی کے لئے اپیل جمع کرا ئینگے اور اس کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ آف پا کستان سے بھی رجوع کر ینگے