مودسا نے ملائیشیا میں فلسطینی سائنس دان قتل کر دیا

مودسا نے ملائیشیا میں فلسطینی سائنس دان قتل کر دیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کوالا لمپور(آن لائن) اسرائیلی خفیہ ایجنسی ’موساد‘ نے ملائیشیا میں فلسطینی راکٹ سائنس دان کو قتل کردیا۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں پیش آیا جہاں نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد مسجد سے گھر جاتے ہوئے نامعلوم مسلح ملزمان نے فلسطینی سائنس دان پروفیسر فادی محمدالبطش کو گولیاں مار دیں جبکہ اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے گذشتہ روز ملائیشیا میں ایک فلسطینی سائنسدان ڈاکٹر فادی البطش کی نامعلوم افراد کے ہاتھوں شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ کوالالمپور پولیس کے سربراہ مزلان لازم نے بتایا کہ موٹرسائیکل سوار 2 ملزمان نے پروفیسر پر براہ راست فائرنگ کی، ملزمان نے مقتول پر 10 گولیاں فائر کیں جس میں سے 4 ان کے جسم میں پیوست ہوگئیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ملائیشیا کے ڈپٹی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ مشتبہ ملزمان کا تعلق ایک غیر ملکی خفیہ ایجنسی سے بتایا جارہا ہے جب کہ ملائیشیا میں فلسطینی سفیر کے مطابق عینی شاہدین نے انہیں بتایا کہ فائرنگ کرنے والے ملزمان چہرے سے یورپی باشندے لگ رہے تھے۔مقتول کے اہل خانہ نے بھی البطش کے قتل کا ذمہ دار موساد کو قرار دیا ہیاور ملائیشین حکومت سے مقتول کا جسد خاکی غزہ بھیجنے کی بھی اپیل کی ہے۔حماس نے کہا ہے کہ ڈاکٹر البطش کی شہادت میں صہیونی ریاست اور اس کا خفیہ ادارہ موساد ملوث ہوسکتا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر فادی البطش کی شہادت پوری فلسطینی قوم کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ حماس کی قیادت، کارکن اور پوری فلسطینی قوم اس واقعے پر گہرے دکھ اور صدمے سے دوچار ہے۔ بیان میں کہا گیاہے کہ ڈاکٹر البطش اللہ کی کتاب کے حافظ، ایک محب وطن شہری، سائنسدان، عالم اور قوم کے ہیرو تھے۔ ان کی شہادت میں صہیونی ریاست کے ملوث ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ اسرائیلی دشمن فلسطینی قوم کے ہیروز کو ماضی میں بھی اندرون اور بیرون ملک چن چن کر نشانہ بناتا رہا ہے۔خیال رہے کہ ملائیشیا کے دارالحکومت کولالمپور میں ہفتے کو علی الصباح نامعلوم افراد نے فلسطینی سائنسدان ڈاکٹر فادی البطش کو گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔ نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے انہیں اس وقت گولیاں ماریں جب وہ نماز فجر کے لیے جا رہے تھے۔ حملہ آوروں نے انہیں 14 گولیاں ماریں جن میں سے چار گولیاں ان کے سر اور سینے پر لگیں جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ ان کے اہل خانہ نے اس مجرمانہ واقعے کی ذمہ داری صہیونی ریاست پرعاید کی ہے۔ دوسری طرف اسرائیل اس واقعے پر خاموش ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ اس مجرمانہ واقعے میں اسرائیل ہی ملوث ہے۔

مزید :

عالمی منظر -