دینی مدارس اسلام کے مضبوط قلعے ہیں ،مولانا عزیز الرحمان

دینی مدارس اسلام کے مضبوط قلعے ہیں ،مولانا عزیز الرحمان

  

شیرگڑھ(نامہ نگار)جمعیت علماء اسلام ازاد کشمیر کے امیرمولانا سعید یوسف اور پیر طریقت مولانا عزیز الرحمان ہزاروی نے کہا ہے کی دینی مدارس اور علماء کرام پاکستان کے امین اور اسلام کے مضبوط قلعے ہیں دین اسلام اور علماء کرام کے خلاف مغربی طاقتیں مل کر سازشیں کر رہی ہے مگر جس دین کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے اس دین کے خلاف تمام سازشیں ناکام ہوں گی علماء کرام نے ہر فورم پر اسمبلی کے اندر اور باہر اسلام دشمن قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور آئندہ بھی کریں گے 1973کا آئین متفقہ اور اسلامی ہے اگر1973کا آئین اپنی اصل روح میں نافذ کیا گیا تو ملک وقوم کو بہت فائدہ ہوگا دین اسلام امن اور اشتی کا درس دیتا ہے دین اسلام میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں اسلام نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے کابل میں دینی مدرے پر امریکی بمباری کھلی دہشت گردی اور بے گناہ معصوموں کا قتل ہیں جس پر اقوام متحدہ کی خاموشی معنی خیز ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز دار العلوم اسلامیہ عربیہ شیر گڑھ کے66واں جلسہ دستاربندی ،ختم بخاری شریف سے اپنے خطاب میں کیا اس موقع پر358فضلاء اور حفاظ کرام کی دستار بندی کی گئی جلسے سے سابق سینیٹر راحت حسین،مولانا امانت شاہ حقانی اور مفتی قاسم (بجلی گھر ) نے بھی خطاب کیا جبکہ سابق ایم این اے مہتمم دار العلوم شیر گڑھ مولانا محمد قاسم نے بخاری شریف کی آخری حدیث کی تشریح کرکے ختم کرائی اس موقع پر کشمیر اور پنجاب سے آئے ہوئے نعت خوانوں نے نعت خوانی کی انہوں نے کہا کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے قرآن ،حدیث میں زندگی کے تمام شعبوں کی ہدایت کی تشریح مو جود ہے سیاست کو مذہب سے الگ نہیں کیا جاسکتا اگر علماء کرام پارلیمنٹ میں نہ ہو تے تو غیر اسلامی قوانین کا راستہ کون روکتے علماء کرام کے ہوتے ہوئے اسمبلی میں کوئی بھی غیر اسلامی قوانین پاس نہیں کراسکتے یہی وجہ ہے کہ اسلام دشمن قوتیں علماء کرام کی کردار کشی اور سیاست میں علماء کرام کی شمولیت پر طرح طرح کے پروپیگنڈے کر رہے ہیں مگر اللہ کے فضل اور عوام کے تعاون سے ان کے تمام سازشیں ناکام ہوں گے اور آئندہ الیکشن میں صوبے میں ایم ایم اے کلین سویپ کریگا جس سے اسلام دشمن قوتوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملیں گے بھٹو کے دور میں علماء کرام کی قربانیوں اور کوششوں سے قادیانیوں کو اقلیت قرار دیکر ہمیشہ کے لئے انکا راستہ روک لیا گیا کچھ عرصہ پہلے اسلام اباد میں خواتین کا جلوس نکالا گیا جس میں کتبوں اور بینروں پر میرا جسم میرا مرضی کے نعرے درج تھے مگر ان کے خلاف کسی نے بھی نوٹس نہیں لیا گیا جو قابل افسوس ہے ایک اسلامی ملک میں اس قسم کی جلوس نکالنا اسلامی قوانین کی خلاف ورزی ہے جمیعت علماء اسلام اقتدار میں آکر تمام غیر اسلامی قوانین ختم کردیں گے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -