مظفرآباد،نورفاطمہ بداخلاقی کیس ، تفتیش کے مراحل میں داخل

مظفرآباد،نورفاطمہ بداخلاقی کیس ، تفتیش کے مراحل میں داخل

  

مظفرآباد(بیورورپورٹ)نورفاطمہ بداخلاقیکیس ، تفتیش کے مراحل میں داخل ، نورفاطمہ کا ہی میڈیکل چیک اپ ہوا ۔عوامی حلقوں میں میڈیکل کے حوالے سے پائی جانے والی چہ میگوئیاں ختم ، نورفاطمہ کے میڈیکل چیک اپ میں ابہام کی بڑی وجہ نورفاطمہ اوراسکی چھوٹی بہن روبا ب کا ہم شکل ہونا پائی ، ایس پی ضلع جہلم ویلی چوہدری ذوالقرنین سرفراز نے عوامی حلقوں اورمیڈیا میں نورفاطمہ کومیڈیکل کے لیے پیش نہ کیے جانے کی خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے ، متاثرہ خاندان کو نورفاطمہ اورروباب کے ہمراہ طلب کرلیا ، اس موقعہ پر میڈیا پرسنز بھی موجود ۔متاثرہ خاندان نے نورفاطمہ بداخلاقی کیس کے مبینہ ملزم کی عبوری ضمانت منسوخی کے عدالتی ٹرائل کے لیے وزیراعظم آزادکشمیر اورچیف جسٹس آزادکشمیر سے مفت قانونی معاونت فراہم کیے جانے کا مطالبہ کردیا ۔ ڈی ایس پی جہلم ویلی مقصود خان عباسی اورنورفاطمہ بداخلاقی کیس کے تفتیشی آفیسر راجہ یاسرعلیخان نے نورفاطمہ ، روباب اورانکی والدہ رفتتاج بی بی کے بیانات قلمبند کیے ،کم سن بچیوں نے اپنے نام سے اپنی شناخت کروائی ، اتنی ہم شکل کہ اپنا نام نہ بتائیں تو اسکا تعین کرنا مشکل نورفاطمہ کونسی ہے اور روباب کونسی ،رفتتاج بی بی نے میڈیا پرسن کے ایک سوال کے جواب میں اس بات کی تصدیق کی کہ وہ نورفاطمہ کو بداخلاقی کے بعد علاج کے لیے باغ کہ ایک اسپتال میں لیکر گئی ، ڈی ایس پی مقصود خان عباسی نے بھی میڈیا پرسنزکی موجودگی میں یہی سوال رپیٹ کیا رفتتاج بی بی کا یہی جواب ، متاثرہ خاندا ن اب بھی ڈر اورخوف میں مبتلا ،تفتیشی ٹیم سے بہت کچھ چھپانے کی کوشش ، پولیس کی موجودگی میں بھی ملزم کا نام لیتے ہوئے انکی زبان لڑکھڑاتی نظرآئی ۔ نورفاطمہ کے والد زبیر اوروالدہ رفتتاج نے میڈیا پرسنز سے گفتگوکرتے ہوئے کہا سوشل میڈیا اورپرنٹ میڈیا نے حقائق پر مبنی رپورٹنگ کی ، نورفاطمہ کے ساتھ ہونے والی بداخلاقی سوشل اورپرنٹ پروائرل نہ ہوتی تو نورفاطمہ بداخلاقی کیس پربھی جرگہ داری کا لبادہ پہنا کر دفنایا جارہا تھا ، ایک نورفاطمہ کی وجہ سے ہزاروں نورفاطمہ وحشی جنسی درندوں سے بچ جائیں گی، پولیس حکام اور میڈیا ہمارے ساتھ ہونے والی بداخلاقی پر بھر پور تعاون فراہم کررہا ہے جس پر ہم انکے شکرگزارہیں ، انھوں نے کہا میڈیا واقعی غریب اورمظلوم کے لیے ڈھال کا کردار ادا کررہا ہے ،والد زبیر اورنورفاطمہ کے چچا نے کہا ہمیں اب بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں مل رہی ہیں ، زبان بند رکھنے کا کہا جارہاہے ، ملزم کی عبوری ضمانت کیے جانے سے ہمارے لیے اورخطرات بڑھے ، اپنے آبائی گاؤں کٹکیر بالا میں غیر محفوظ تھے اپنے بیوں بچوں کو لیکر مظفرآباد پناہ حاصل کرلی ہے ، انھوں نے کہا ہماری جان ومال کو شدید خطرات لاحق ہیں ، ضلع جہلم ویلی پولیس حکام کو اپنے جان ومال کے تحفظ کے لیے باضابط درخواست دے دی ہے کہ وہ ہمیں تحفظ فراہم کریں ہمارے ساتھ کچھ بھی ہوسکتاہے ۔ انھوں نے کہا ہم غریب لوگ ہیں حکومت ہمیں عدالتی ٹرائل کے لیے مفت قانونی معاونت فراہم کرے ،چیف جسٹس آزادکشمیر ہمیں مفت قانونی معاونت فراہم کرنے کے انتظامات کریں انھوں نے کہا وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فارورق حیدرخان اورآئی جی آزادکشمیرنے نورفاطمہ بداخلاقی کیس کا فوری نوٹس لیا جس پرہم انکے شکرگزار ہیں ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -