وی آئی پیز کی سکیورٹی پر ماہانہ3 ارب سے زائد خرچ آتا تھا ،چیف جسٹس

وی آئی پیز کی سکیورٹی پر ماہانہ3 ارب سے زائد خرچ آتا تھا ،چیف جسٹس

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور (نامہ نگار)چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے کہ وی آئی پیز کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں پر ماہانہ 11 کروڑ 52 لاکھ 50 ہزار کا خرچ آتا تھا ،یہ رقم صحت اور تعلیم کے لئے خرچ کی جاسکتی تھی۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے ہفتہ وار تعطیل کے باوجود اتوار کے روز مفاد عامہ کے معاملات پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ازخود نوٹس کیسوں کی سماعت کی، عدالتی سماعت کے موقع پرچیف جسٹس نے بتایا کہ 4ہزار 610اہلکاروں پر ماہانہ 11 کروڑ 52 لاکھ اور 50 کا خرچ آتا تھا اور ایک سال میں یہ اخراجات ایک ارب 38 کروڑ سے زائد کے بنتے ہیں۔چیف جسٹس نے بتایا ان اخراجات میں ابھی پٹرول اور گاڑیوں کے اخراجات شامل نہیں ہیں ،کارروائی کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ اگر تمام اخراجات کو اکھٹا کیا جائے تو یہ رقم 3 ارب سے زائد کی بنتی ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ اگر یہی رقم صحت اور تعلیم پر خرچ کی جاتی تو اس کے کیا نتائج ہوتے۔یاد رہے کہ ہفتہ کے روز سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ کو آئی جی پنجاب پولیس کی جانب سے آگاہ کیا گیا تھا کہ وی آئی پیز کی سیکیورٹی مامور مذکورہ بالا پولیس اہلکاروں کو واپس بلایا گیا ہے۔

اہلکار واپس