میشا شفیع اور علی ظفر کے معاملے پر وفاقی محتسب برائے ہراسیت کشمالہ طارق بھی میدان میں آگئیں، واضح ہدایت کردی

میشا شفیع اور علی ظفر کے معاملے پر وفاقی محتسب برائے ہراسیت کشمالہ طارق بھی ...
میشا شفیع اور علی ظفر کے معاملے پر وفاقی محتسب برائے ہراسیت کشمالہ طارق بھی میدان میں آگئیں، واضح ہدایت کردی

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان میں وفاقی محتسب برائے ہراسیت بمقامِ کار کشمالہ طارق نے کہا ہے کہ وہ خواتین جنہیں کام کی جگہوں پر ہراسیت کا سامنا ہے وہ آگے بڑھیں اور ہراسیت کے خلاف آواز اٹھائیں، انہیں انصاف ملے گا۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ میشا شفیع اور علی ظفر کے درمیان سوشل میڈیا پر حال ہی میں منظر عام پر آنے والے اس واقعہ پر کسی قسم کی رائے کا اظہار نہیں کر سکتیں کیونکہ یہ معاملہ ابھی عدالت تک نہیں پہنچا ہے اور ان کے دفتر پہنچنے کے بعد بھی وہ اس پر اس وقت تک رائے نہیں دے سکتیں جب تک تحقیقات مکمل ہو کر فیصلہ سامنے نہ آجائے۔ کشمالہ طارق نے کہا کہ ہراسگی کا شکار مرد ہوں یا خواتین خاموش رہنا حل نہیں ہے۔ وفاقی محتسب کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی بات دوسروں تک پہنچائی جا سکتی ہے تاہم انصاف کے حصول کے لیے درست پلیٹ فارم ملک بھر میں قائم خصوصی عدالتیں ہیں جو کام کی جگہوں پر ہراسیت سے متعلق شکایات سنتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف ایک ماہ میں ہی انہیں مختلف اداروں سے ہراسگی سے متعلق 60 سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں جن کی سماعت جاری ہے۔

کشمالہ طارق نے کہا کہ ہراسگی کے زیادہ تر مقدمات خواتین کی جانب سے سامنے آتے ہیں تاہم شکایت کنندگان میں مرد بھی شامل ہیں جنہیں اپنی خاتون یا مرد باس یا ساتھی ہراساں کر رہے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے خواتین نہایت آسان ہدف اس لیے بنتی ہیں کہ وہ ہراسیت کی شکایت کریں گی اور پھر ان کے کردار، ان کے لباس پر تنقید کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے لیکن ضروری ہے کہ خواتین بلا خوف سامنے آئیں ، ان کے مطابق کردار کشی بذات خود ہراسیت کی ایک قسم ہے۔ کشمالہ طارق کے مطابق اس قانون میں ترامیم کی گنجائش موجود ہے اور اس مقصد کے لیے تجاویز پہلے ہی متعلقہ فورم پر بھیجی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب اس قانون میں خواجہ سراﺅں کو ہراساں کیے جانے کے مقدمات بھی سنے جا سکیں گے جس کیلئے ترمیم کی جارہی ہے۔

وفاقی محتسب نے جواب میں کہا کہ اس رویے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ خواتین سمجھتی ہیں کہ عدالتی کارروائی کئی سالوں پر محیط ہوگی، ان کی کردار کشی کی جائیگی اور وہ وکیلوں کی اخراجات نہیں اٹھا سکیں گی جبکہ ان کے اردگرد موجود افراد بھی ان کی حمایت میں سامنے نہیں آتے تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ محتسب کے پاس ہراساں کیے جانے کا مقدمہ 60 روز میں نمٹایا جاتا ہے، فیصلے کے خلاف اپیل صدرِ پاکستان کے پاس کی جاسکتی اور اس صورت میں بھی یہ ایکٹ ہراسگی کا مقدمہ دو ماہ میں نمٹانے کا پابند بناتا ہے۔ اس قانون کو اس قدر آسان کر دیا گیا ہے کہ شکایت کنندہ کو کسی وکیل کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔

ان کے مطابق ہراسیت کا سامنا کرنے کی صورت میں مرد و خواتین آن لائن بھی شکایت درج کرا سکتے ہیں جبکہ مقدمات کی سماعت بھی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ چند برسوں میں، خصوصاً خواتین اپنے حقوق سمجھتے ہوئے اس قدر بااختیار ہوجائیں کہ ہمیں ان قوانین کی ضرورت ہی نہ رہے اور اسی وجہ سے ہم نے ہراسیت سے متعلق ملک بھر میں آگاہی مہم شروع کی ہے تاکہ لوگ جان سکیں کہ ان کے تحفظ اور فوری انصاف کی فراہمی کیلئے ملک میں قوانین موجود ہیں۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -پنجاب -