کٹاس راج مندر ازخود نوٹس کیس،عدالت میں موبائل میسجز کا بھی ذکر ، زیرزمین پانی کے استعمال کی اجازت دینے والے افسران طلب

کٹاس راج مندر ازخود نوٹس کیس،عدالت میں موبائل میسجز کا بھی ذکر ، زیرزمین ...
کٹاس راج مندر ازخود نوٹس کیس،عدالت میں موبائل میسجز کا بھی ذکر ، زیرزمین پانی کے استعمال کی اجازت دینے والے افسران طلب

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)کٹاس راج مندرازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کٹاس راج مندرسیمنٹ فیکٹریوں کی وجہ سے خشک ہوگیا،رات مجھے ایک پیغام آیا،ہوسکتا ہے کسی نے مذاق کیاہو،پیغام تھاکہ فیکٹری میری ریٹائرمنٹ کاانتظار کررہی ہے،ماحولیاتی ایجنسی کے جن افسروں نے اجازت دی انہیں نہیں چھوڑوں گا۔عدالت نے زیرزمین پانی کے استعمال کی اجازت دینے والے افسران کو کل  طلب کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کٹاس راج مندر ازخودنوٹس کی سماعت کی۔چیف جسٹس آف پاکستان نے دوران سماعت کہا کہ رات مجھے ایک پیغام آیا،ہوسکتا ہے کسی نے مذاق کیاہو،پیغام تھاکہ فیکٹری میری ریٹائرمنٹ کاانتظار کررہی ہے۔اس پر وکیل سیمنٹ فیکٹری نے کہا کہ یہ پیغام ہماری طرف سے نہیں ہوسکتا،ہم قدرتی چشمہ سے پانی کی ضرورت پوری کررہے ہیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ قدرتی چشمے پر کسی کاحق نہیں،قدرتی چشمے کاپانی استعمال کرناایک اورغیرقانونی اقدام ہے،ہمارامقصد معاملے کاحل نکالناہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سی پیک نہ ہوتا تو ایک لمحے میں فیکٹری بندکر دیتے،فیکٹری مالکان ہماری پوزیشن کااستحصال کر رہے ہیں۔

اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پوٹھوہارخطے میں چھوٹے ڈیم بنائے جاسکتے ہیں، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ فیکٹری عرصے سے زیر زمین پانی استعمال کررہی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ماحولیاتی ایجنسی کو زیرزمین پانی استعمال کرنے کی اجازت کااختیارنہیں،ماحولیاتی ایجنسی کے جن افسروں نے اجازت دی انہیں نہیں چھوڑوں گا،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ افسروں نے کس طرح اربوں روپے کے پانی کے استعمال کی اجازت دی؟۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہر سال 7 ارب روپے کاپانی فیکٹری استعمال کرتی ہے،جب سے فیکٹری لگی ہے،حساب کریں تواربوں کاپانی بن جاتاہے،یہ صرف کٹاس راج کامعاملہ نہیں،حکومت پنجاب قانون کے مطابق اختیار استعمال کرے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ فیکٹری مالکان حکومت سے مل کرمعاملے کاحل نکالیں،حل نہ نکلاتوفیکٹری بند کرنے کا آپشن بھی ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ فیکٹری مالکان کوآج معاملے کی نزاکت کااحساس ہواہوگا۔

اس پر سی ای او فیکٹری نے کہا کہ اداروں سے اجازت لے کرپانی استعمال کیا،چیف جسٹس نے کہا کہ جنہوں نے پانی کے استعمال کی اجازت دی انہیں لے آئیں،کیوں نہ معاملہ نیب کوبھیج دیں،اربوں کاپانی استعمال کیاگیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بنیادی حقوق کاسوال ہے،سیمنٹ فیکٹری سے آخری 3سال پانی کے استعمال کی قیمت وصول کریںگے،کٹاس راج مندرسیمنٹ فیکٹریوں کی وجہ سے خشک ہوگیا۔

عدالت نے سیمنٹ فیکٹری سے زیرزمین پانی کے استعمال کااجازت نامہ طلب کرتے ہوئے اجازت دینے والے افسران بھی طلب کر لیااور کٹاس راج مندرازخودنوٹس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -