تم نے اپنے بچوں کو سونے کا نوالا دینے کے لئے ہمارے بچوں سے گیہوں تک چھین لیا

تم نے اپنے بچوں کو سونے کا نوالا دینے کے لئے ہمارے بچوں سے گیہوں تک چھین لیا
تم نے اپنے بچوں کو سونے کا نوالا دینے کے لئے ہمارے بچوں سے گیہوں تک چھین لیا

  

میں کب کہتا ہوں کہ دہشت گردی ایک اچھا فعل ہے – میرے نزدیک اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے لیکن میں آپ کے اس عمل کو کیا کہوں کہ آپ مسجدوں ، مدرسوں اور تعلیم گاہوں پہ یوں حملہ آور ہیں کہ جیسے آپ کے منہ کو لگا خون اب ان اقدار سے بے نیاز ہو چکا ہے – خون کا پیاسا نہ عمر دیکھتا ہے ، نہ جنس اور نہ ہی موقع محل ،اسے تو لاشیں گرانے سے مطلب ہے  کیونکہ جواب میں بھی تو مسلمان ہی مرتے ہیں اور مسلمان کا خون اتنا ارزاں ہے کہ جب مرضی بہا لو اور  شیطانی پیاس بجا لو، بس موت کا ایک کھیل ہے جس میں برسوں سے جانیں جا رہی ہیں اور  کوئی حل نکلے اس میں شاید دنیا کی سپر پاورز کو کوئی  د ل چسپی  نہیں  ہے-

دیکھئے  شمالی صوبہ قندوز شہر دشت ارچی اور اس کا ایک دینی مدرسہ جن میں  قرآن مجید کو اپنے سینوں میں بسائے حفاظ کرام اپنی دستار بندی  کے لئے جمع ہیں – مائیں اپنے جائیوں پہ پھولے نہ سما رہی ہیں – قرآنِ حکیم کی آیات نے  فضاؤں میں اپنے مقدس رنگ بکھیرے ہوئے ہیں- بچوں کو گھیرے ہر فقہ اور طرزِ زندگی کے لوگ ہیں- چشمِ زدن میں یہ مدرسہ قبرستان بنا دیا گیا ہے-شہید حفاظ جن کی عمریں دس سے گیارہ سال کے درمیان ہیں خون میں نہلائے   جان خالقِ حقیقی کو وار چکے ہیں- قرآن مجید سے منور یہ سینے ظلم و بربریت کے سامنے  زندگیاں ہار چکے ہیں- کوکھ جلی مائیں ان حفاظ کی دستار کو ہی  کفن بنائے نہایت دلیری سے انہیں رخصت  کر رہی ہیں -افغان  حکومت کے ترجمان کے مطابق  یہ امریکی حملہ  طالبان  کے  تیس  فائٹرز اور نو کمانڈروں کو  صفحہء ہستی سے مٹا دینے کے لئے تھا - طالبان کے بیانیئے کے مطابق اس جلسے میں طالبان تھے ہی نہیں بلکہ صرف مدرسے کے بچے تھے- بچوں کی کٹی پھٹی جلی لاشیں بتا رہی ہیں کہ  ان پہ ظلم ڈھانے والا کوئی جلاد صفت انسانیت کے چہرے کا بد نما داغ ہے-

یہ کو نسی نئی بات ہے امریکہ کے ہاتھوں افغانستان کا کون سا حصہ محفوظ ہے- اپنے نئے حلیف انڈیا کے ساتھ مل کے اس نے کونسی دہشت گردی نہیں کی ویسے بھی موساد ، را اور  این ڈی ایس کا تو کام ہی نہتوں اور بچوں کو اپنی  جنگ میں نشانہ بنانا ہے- ان کے نزدیک ان بچوں کی کیا اہمیت ہے- لاوارث روز مرتے ہیں- امریکہ کے احکامات کو بجا لاتے ہوئے افغان ائر فورس کی یہ بمباری   اور لاشے کس  سے وفاداری  اور کس سے محبت کا اظہار ہے یہ تو کہنا مشکل نہیں لیکن اس میں ہمارا کردار کیا ہے یہ قابلِ غور ہے- اسلامی ممالک کی سپرایٹمی  پاور جس کی طرف ساری مسلم دنیا دیکھتی ہے اس کا طرزِعمل کیا ہے- مخالفین  اور بچوں سے ایسا بہیمانہ سلوک- عام شہریوں  میں ان کی دستار بندی پہ بانٹی جاتی یہ موت- کیوں بے حس ہے یہ دنیا – افغانی مسلمانوں پہ ایک لیبل لگا کر اس کی تشہیر کردی گئی ہے اور اس کی آڑ میں جو دل میں آئے کرو اور تحفے میں ماؤں کو ان کے حفاظ بیٹوں کی لاشیں دو- میں تو کہتا ہوں قندوز مدرسے پہ حملہ اس تعلیم پہ حملہ ہے جس کا پرچار کرتے آپ تھکتے نہیں ہیں- یہ ان ننھی کلیوں پہ حملہ ہے جن کو ان کے بچپن میں ہی منوں مٹی تلے  یوں  دبا دیا گیا کہ  دنیا سے اپنی زندگی کا حق مانگ ہی نہ سکیں- کون سا بین الاقوامی قانون  مدرسوں پہ حملوں کی اجازت دیتا ہے- ہم تو اس مذہب کے ماننے والے ہیں جو کسی دشمن کے گھر پناہ لینے والے پہ بھی رحم کا حکم دیتا ہے لیکن آج جب مسلم دنیا کو خاموش دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات- امریکہ افغانستان میں شکست کھا چکا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اب ان سرزمینوں پہ ننھے بچوں کے یوں قبرستان بچھائے کہ آنے والا کل اس کے لئے فقط لعن طعن ہی لکھے- دکھ غیروں کا نہیں اپنوں کا ہے- ہم نے کون سا مذمتی بیان دے دیا- ہم تو پکی دوستی نبھانے میں یوں جان و عزت تج کے بیٹھے ہیں کہ جو بھی توہین آمیز سلوک ہو ہمیں قبول ہے اور روز ڈومور کے جواب میں ہم آنکھیں بند کئے تعمیل میں مصروف ہیں- کل پشاور کے بچے تھے تو آج یہ بھی ویسے ہی جیتے جاگتے مسلمان بچے ہیں اور ان کا قاتل بھی وہی ہے جس نے ہمارے سکولوں کو خون میں نہلایا تھا- ظلم کشمیر میں ہو یا شام میں موت فلسطین میں بٹے یا یمن میں مرنے والا رب اور اس کے رسول کا نام لیوا ہے – ہمارا جرم کیا ہے  کہ اقوام متحدہ بھی  چپ سادھے  مرلی بجا رہا ہے- کیوں کسی سے زندہ رہنے کا حق چھینا جا رہا ہے- کس نے کس کو یوں آزادی دی ہے کہ  وہ جو من میں آئے کرے – اتنے کمزور ہو کہ لڑ نہیں سکتے لیکن برا جانتے ہوئے چند کلمات تو ادا کر سکتے ہو- میں یہ کہتا ہوں کہ یہ بچے بلا تقصیر شہید کئے گئے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب رب کے حضور یہ ہم سے اور مارنے والوں سے اپنا قصور پوچھیں گے کیا جواب ہو گا اس دن-

افغانستان میں زمیں خون سے نہلا چکی- سارے عالم پہ  اس کے منافقت  ہونےکا داغ لگا چکی- نظریاتی تنازعات اور تضادات  جو میز پہ حل ہو سکتے ہیں ان میں پاکستان اور افغانستان میں جو قربانیاں دی گئیں   اس کے بعد اب حل میز ہے- پاکستان کی قربانیوں – ہمارے مجاہدوں کے سینوں میں اتری ہوئی گولیوں اور ہر گھر کے حصے میں  آیا کم از کم ایک شہید اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ موت کا رقص بہت ہو چکا- راولپنڈی میں شہدا کو اعزازات کی  تقریب میں جب جوان روتی بیوائیں دیکھیں تو دل بھر آیا، ایک عمر ہے ان کے سامنے اکلاپے کی  اور ہم اپنے اداروں پہ تیر کمان کھینچے  یوں مچانوں میں ڈٹے بیٹھے ہیں کہ اپنے سوا کسی کی پرواہ ہی نہیں- وہ وقت گیا -صاحب  ہماری آنکھوں نے اتنا خون  دیکھا ہے کہ ہماری آنکھوں کے خشک ہوئے آنسو  ہمیں سچ بات کہنے سے نہیں روک سکیں گے- ملکی معیشیت کو کمبوڈیا کے برابر لے جانے والے حساب دیں گے کہ کیسے تم نے اپنے بچوں کو سونے کا نوالا دینے کے لئے ہمارے بچوں سے گیہوں تک چھین لیا- اب غیر جانبدارانہ احتساب تک نہ قلم رکے گا اور نہ  ہی سیاہی خشک ہوگی کیونکہ مجھے ہے حکمِ اذاں لا الہ الا اللہ- شکریہ      

۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ