’میری شادی کو 8 برس ہوگئے، 2 بچے ہیں لیکن مجھے اپنا شوہر اتنا برا لگتا ہے کہ اس کی شکل دیکھنے کو بھی دل نہیں کرتا، اس کے باوجود اسے چھوڑ نہیں سکتی کیونکہ۔۔۔‘ خاتون نے ایسی بات کہہ دی کہ ہنگامہ برپاہوگیا

’میری شادی کو 8 برس ہوگئے، 2 بچے ہیں لیکن مجھے اپنا شوہر اتنا برا لگتا ہے کہ اس ...
’میری شادی کو 8 برس ہوگئے، 2 بچے ہیں لیکن مجھے اپنا شوہر اتنا برا لگتا ہے کہ اس کی شکل دیکھنے کو بھی دل نہیں کرتا، اس کے باوجود اسے چھوڑ نہیں سکتی کیونکہ۔۔۔‘ خاتون نے ایسی بات کہہ دی کہ ہنگامہ برپاہوگیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سڈنی(نیوز ڈیسک)شادی جیسا رشتہ میاں بیوی کے باہمی اخلاص اور اعتبار کے بغیر بے معنی ہے لیکن ایک آسٹریلوی خاتون نے اپنی شادی کے متعلق ایک ریڈیو شو میں یہ کہہ کر ہر کسی کو حیران کر دیا ہے کہ وہ اپنے خاوند کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی لیکن مالی سہارے کی خاطر اسے برداشت کرنے پر مجبور ہے۔ اس خاتون نے گزشتہ روز کائل اینڈ جیکی ریڈیو شو میں اپنے جذبات کو لگی لپٹی رکھے بغیر اظہار کیا تو سننے والے حیرت زدہ رہ گئے۔
میل آن لائن کے مطابق اس خاتون کا کہنا تھا کہ ”میری شادی کو آٹھ سال ہو چکے ہیں اور میری دو بیٹیاں ہیں ۔مجھے اپنے خاوند سے کوئی محبت نہیں اور اب تو حال یہ ہے کہ میں اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی لیکن مجھے اس کی مالی مدد کی ضرورت ہے۔جب وہ میرے ساتھ بستر میں ہوتا ہے تو بھی میرے تصورات میں کسی اور کا چہرہ ہوتا ہے۔ میں ہر ممکن کوشش کرتی ہوں کہ اس کے ساتھ ازدواجی تعلق استوار نا کروں، اور اگر کبھی کرنا ہی پڑے تو میں اپنے چہرے کو ڈھانپ لیتی ہوں تا کہ وہ میرے جذبات اور احساسات کا اندازہ نا کر پائے۔ میں بڑی پریشان کن صورتحال میں مبتلاءہوں۔ اگر میں اس کے ساتھ رہتی ہوں تو یہ میرے لئے مسلسل ذہنی تشدد جیسی کیفیت ہے اور اگر اسے چھوڑتی ہوں تو میرے اور بچوں کے اخراجات کا کیا ہو گا۔ میں نوکری نہیں کرتی اور مجھے پتا ہے کہ علیحدگی کی صورت میں وہ مجھے بچیوں کا خرچ نہیں دے گا۔“
ریڈیو شو میں کال کرنے والے سامعین نے اس خاتون کی معاملے کو عجیب و غریب قرار دیا۔ اگرچہ کچھ خواتین نے اس کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا لیکن اکثر کا کہنا تھا کہ اگر یہ اپنے خاوند سے محبت نہیں کرتی تو اسے دھوکہ کیوں دے رہی ہے۔ ایک خاتون کالر نے کہا کہ دھوکہ بازی کی بجائے اسے چاہئیے کہ اپنے خاوند سے علیحدٰہ ہو جائے اور بچوں کی کفالت کے لئے سرکاری فنڈ سے مدد لے، یا وہ بے شمار دیگر خواتین کی طرح کام کر کے بھی باعزت طریقے سے اپنے بچوں کی پرورش کر سکتی ہے۔