اسلام آباد ہائیکور ٹ نے فزیکل امتحانات کے خلاف درخواست پر فیصلہ سنا دیا 

اسلام آباد ہائیکور ٹ نے فزیکل امتحانات کے خلاف درخواست پر فیصلہ سنا دیا 
اسلام آباد ہائیکور ٹ نے فزیکل امتحانات کے خلاف درخواست پر فیصلہ سنا دیا 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )اسلام آباد ہائیکورٹ نے کورونا کے باعث اے ، او لیول کے طلبہ کے فیزیکل امتحانات کے خلا ف درخواست پر مستردکر دی ہے ۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کوئی ہدایت جاری نہیں کر سکتے ، درخواست این سی اوسی کو بھجوا دیتے ہیں ، عدالتوں کا کام نہیں ہے کہ ملک کے پالیسی معاملات میں مداخلت کریں ۔

کیمبر ج کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں، وفاقی وزارت تعلیم نے امتحانات کے ایس او پیز ترتیب دیئے ہیں ،برٹش کونسل کو بھی ایس او پیزسے آگاہ کر دیا گیاہے ، کیمبرج کوروناایس او پیزسے مطمئن ہے ، کورونا سے متعلق کراچی کے حالات لاہور سے بہتر ہیں ، کراچی میں امتحان ہوا، لاہور میں نہیں ہوا تو لاہور کے بچے پیچھے رہ جائیں گے ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا امتحانات ایک صوبے میں ہو سکتے ہیں ۔ وکیل کیمبرج نے کہا کہ امتحانات پورے ملک میں ایک ہی ساتھ کریں گے ، جو بچے بیمار ہوں گے ان کیلئے دیگر آپشنز کے ذریعے سہولت دیں گے ،جو بچے اس بار رہ جائیں گے ان سے اکتوبر اور نومبر میں امتحان لیا جائے گا ، ہم کسی بچے سے کورونا سرٹیفکیٹ نہیں مانگ رہے ہیں ، بچوں کو مکمل سہولت دینے کیلئے تیار ہیں ، پاکستان کے حالات بھارت سے بہتر ہیں ، امتحانات ملتوی کرنے سے متعلق بھارت کو فالو کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، جو طلباءاکتوبر نومبر میں آئیں گے ان سے اضافی فیس نہیں لی جائے گی ، پاکستان کو اپنے حالات کے مطابق فیصلہ کرنا ہے ،ہم متحدہ عرب امارات اور بھارت کو دیکھ کر فیصلہ نہیں کریں گ ے ، برٹش کونسل کو بھی ایس او پیزسے آگاہ کر دیا گیاہے ، کوروناایس او پیزسے مطمئن ہیں ، پشاور ہائیکورٹ میں برٹش کونسل نے جواب جمع کروایا ہے ، برٹش کونسل نے یقین دلایا ہے کہ ایس او پیز پر عمل کریں گے ۔وکیل کا کہناتھا کہ ہم طریقے سے طالبعلموں کو سہولت دے رہے ہیں۔ 

اسلام آباد ہائیکورٹ نے دلائل سننے کے بعد اے او لیول کے طلباءکے فزیکل امتحانات کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیاہے ، عدالت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہدایت جاری نہیں کر سکتے ، درخواست این سی او سی کو بھجوادیتے ہیں ، عدالتوں کا کام نہیں کہ ملک کے پالیسی معاملات میں مداخلت کریں ، کورونا معاملے پر این سی او سی پالیسی فیصلوں میں مداخلت نہیں کی ، حکومت کیمبرج کو کوئی ہدایت جاری نہیں کر سکتی ،حکومت امتحانات سے متعلق یہاں سہولت فراہم کر تی ہے ، کیاآپ چاہتے ہیں حکومت ان کوامتحان لینے سے روک دے ،درخواست میں ایسی کوئی چیزنہیں جو کیمبر کی پالیسی نہ ہو۔وکیل نے کہا کہ میری درخواست کیمبرج کے خلاف نہیں کیمبرج نے دو آپشن دیئے ہیں، سعودی عرب، تھائی لینڈاور بھارت نے فزیکل کی بجائے آن لائن امتحان لیے ۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہ نو پٹشنر ہزاروں طلباءکے نمائندے نہیں ہو سکتے ، امتحانات نہیں دینا چاہتے ،کیسے طلباءہیں جو امتحان نہیں دینا چاہتے ۔

مزید :

قومی -