سی آئی اے پولیس کے ہاتھوں گرفتار نوجوان کی لاش برآمد، پولیس کا موقف بھی آگیا

سی آئی اے پولیس کے ہاتھوں گرفتار نوجوان کی لاش برآمد، پولیس کا موقف بھی آگیا
سی آئی اے پولیس کے ہاتھوں گرفتار نوجوان کی لاش برآمد، پولیس کا موقف بھی آگیا

  

ٹنڈو الہیار (ویب ڈیسک) سی آئی اے پولیس ٹنڈوالہیار کی جانب سے گرفتار کیے جانے والے نوجوان کی جوڈیشل لاک اپ اے سیکشن پولیس سٹیشن ٹنڈوالہیار میں پھندا لگی لاش برآمد ہوئی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ٹنڈوالہیار اے سیکشن پولیس سٹیشن میں قائم جوڈیشل لاک اپ سے جمعرات کی صبح ساڑھے نو بجے نوجوان بابر خانزادہ ولد شبیر خانزادہ کی اس طرح سے پھندا لگی لاش برآمد ہوئی کہ اس کے دونوں پیر، زمین پر لگے ہوئے تھے اور ایک ہاتھ لاک اپ کی گرل پر لگا ہوا تھا۔واقعے کے متعلق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو آگاہ کیا گیا جنھوں نے سول جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ آصف نوتکانی کو انکوائری کی ہدایت دی، سول جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ آصف نوتکانی نے فوری طور پر جوڈیشل لاک اپ پہنچ کر اپنی نگرانی میں نعش کو اتروا کر پوسٹ مارٹم کے لیے سول ہسپتال منتقل کیا، اس دوران بابر کے گھر والوں کو اطلاع مل جانے کے باعث بابر کے لواحقین بہنیں و دیگر رشتہ دار جوڈیشل لاک اپ کے باہر پہنچ گیے جہاں اس کی بہن نے زار و قطار روتے ہوئے پولیس پر قتل کا الزام عائد کیا۔

بہن کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز اس کو بابر نے کھانے کیلیے پاپے دیے اور یہ کہہ کر نکلا تھا کہ وہ اس کے لیے کھانا لے کر آئے گا لیکن پھر اطلاع ملی کہ اس کے بھائی کو پولیس نے پکڑ لیا ہے جس کے بعد رات میں عرفان ڈاھری نامی پولیس والا گھر آیا اور اس نے دس ہزار روپے رشوت طلب کی اور کہا کہ اگر پیسے نہیں دیے تو بڑا نقصان ہو گا۔

پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی جسے لواحقین کیریا شاخ کے مقام پر رکھ کر دھرنا دے کر بیٹھ گیے چار گھنٹے تک دھرنا دیا،معروف وکیل علی پلھ ایڈوکیٹ بھی موقع پر پہنچ گئے، انھوں نے ورثا کو یقین دہانی کرائی کہ وہ انھیں انصاف دلانے تک ان کا ساتھ دیں گے جس کے بعد دھرنا ختم کر کے میت کو سپرد خاک کر دیا گیا۔

دوسری جانب ایس ایس پی ٹنڈو الہیار رخسار کھاوڑ نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ روز بابر خانزادہ کو سی آئی اے سینٹر میں تعینات اے ایس آئی سکندر علی بھنو نے گرفتار کیا اور اس کے قبضے سے مین پوری برآمد ہوئی تھی جس پر اس کے خلاف پی ایس اے سیکشن ٹنڈو الہ یار پر مقدمہ درج کیا گیا۔جوڈیشل لاک اپ کے ڈیوٹی آفیسر اے ایس آئی اصغر علی بھرگڑی، ہیڈ کانسٹیبل یعقوب بجرانی کو معطل جبکہ جوڈیشل لاک اپ کے سنتری پی سی حاجی خان اور ورثا نے جس پولیس اہلکار کی نشاندہی عرفان ڈاھری کو معطل اور لاک اپ کر دیا گیا ہے۔

ایکسپریس کے مطابق خانزادہ برادری سے تعلق رکھنے والے عمائدین کا کہنا ہے کہ جو تصویر سامنے آئی ہے اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم کی دونوں ٹانگیں زمین پرٹکی ہوئی ہیں اور ہاتھ لاک اپ کی گرل پر ہے تو بھلا وہ کسے خودکشی کر سکتاہے۔

مزید :

علاقائی -سندھ -ٹندو الٰہ یار -