مرزا غالب کا کھلا خط ۔۔۔ چاند اور عید کے حوالے سے

مرزا غالب کا کھلا خط ۔۔۔ چاند اور عید کے حوالے سے
مرزا غالب کا کھلا خط ۔۔۔ چاند اور عید کے حوالے سے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 کہو میاں !

کیسے تیور ہیں رویتِ ہلال پنچ کے؟

 پنج شنبہ اور آدینہ کی درمیانی شب کو ہلال اپنا دیدار کراوئے گا یا نہیں ؟

اس بار بھی ملک میں دو عیدیں ہوویں گی یا طول و عرض میں ہمہ گیر عید ہووے گی ؟

آلِ سعود تو ہلالِ عید کو دید میں لا چکی ہے اور وہاں سلسلۂ دید وادید شروع ہو چکا ہے۔

ایک ہم ہیں کہ اندیشہ ہائے دور دراز میں مبتلا ہیں کہ یار کو کب مہماں کیا جاوے اور جوشِ قدح سے کب سروِ چراغاں کیا جاوے۔ خیر تا بکے۔۔۔۔۔۔۔؟ اول نہیں تو آخر عید ہے ، اور جانو اس میں لطف مزید ہے کہ ناصبور دیدارِ سعید ہے۔
 اے نورِ نظر ! مہینے بھر کے روزوں کے بعد تم سے ملنا ٹھہر گیا ہے۔ خدا نے عبادت و ریاضت کے بدلے تم کو ہمیں انعام میں دیا ہے۔ تم کہو ، آپ آؤ گے یا بندہ چلا آوے ؟ بس کہ ملاقات پر بڑا لطف ہو گا ، گلوں میں بہار کی بو باس ہنوز باقی ہے ، جاڑے کی کار گزاری کے باوصف دلوں میں ساز و سوز باقی ہے۔ 
 میرن !گیہوں کی فصل پک چکی ہے، کسان تیاری پکڑ چکے ہیں مگر آموں کی فصل میرے اور تمھارے ملنے کا انتظار کر رہی ہے۔ تم آوؐگے تو شاہی باغ میں آموں کی سیر کو نکلیں گے۔ اور ہاں ! اب کہ میں تم کو چھینٹ کا فرغل پہنے نہ دیکھوں۔ میرے پاس مالیدے کے سوا جامہ دار کے نئے چوغے موجود ہیں۔ آج ہی اردلی کو دے کر تمھاری طرف روانہ کرتا ہوں۔ 
چہار شنبہ 
غالب 
محلّہ بَلّی ماراں ، دہلی

مزید :

ادب وثقافت -