میاں جی اونچے لمبے تڑنگے اور مضبوط جسامت کے حامل تھے، جب بھی ہم زرعی زمین پر چکر لگانے جاتے تو ان کے چلنے کی رفتار دیکھنے والی ہوتی

 میاں جی اونچے لمبے تڑنگے اور مضبوط جسامت کے حامل تھے، جب بھی ہم زرعی زمین پر ...
 میاں جی اونچے لمبے تڑنگے اور مضبوط جسامت کے حامل تھے، جب بھی ہم زرعی زمین پر چکر لگانے جاتے تو ان کے چلنے کی رفتار دیکھنے والی ہوتی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:80
میاں جی ماشاء اللہ 6 فٹ اونچے لمبے تڑنگے اور مضبوط جسامت کے حامل تھے۔ جب بھی ہم اپنی زرعی زمین پر چکر لگانے جاتے تو اس وقت ان کے چلنے کی رفتار دیکھنے والی ہوتی تھی اور میں ان سے عمر میں آدھا ہونے کے باوجود پیچھے رہ جاتا تھا اور وہ آگے آگے بھاگے چلے جاتے تھے۔ میں نے ان کو صبح سے شام تک بغیر کسی وقفے کے مسلسل کام کرتے دیکھا تھا۔ میں نے ان کو کبھی بیمار ہوتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ مگر نجانے ایسا کیا ہوا کہ 1977 میں، میں نے پہلی دفعہ ان کو اپنے پیٹ کے آس پاس درد کی شکایت کرتے ہوئے سنا۔ میرے بڑے بھائی ڈاکٹر افضل مغل نے ان کا علاج کیا مگر ان کو کوئی افاقہ نہ ہوا بلکہ درد بڑھتا ہی گیا۔ میں نے اور افضل نے ان کو اس بات پر راضی کر لیا کہ لاہور چل کر کسی اچھے اسپیشلسٹ کو دکھاتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنے کاروبار کی خاطر سفر سے اجتناب ہی کرتے رہے تھے لیکن ہمارے بے حد اصرار پر بالآخر وہ ہمارے ساتھ لاہور آنے پر آمادہ ہوگئے۔ اسپیشلسٹ ڈاکٹر ان میں کسی خاص بیماری کی تشخیص تو نہ کر سکے تاہم انھوں نے میاں جی کو میو ہسپتال کے نیوکلئیر میڈیسن ڈیپارٹمنٹ میں رجوع کرنے کا مشورہ دیا، تاکہ مشتبہ سرطان کے امکان کو رد کیا جاسکے۔ وہاں 2 دن تک ان کے ٹیسٹ اور طبی امتحانات ہوئے۔ رپورٹوں کو دیکھ کر متعلقہ ڈاکٹر نے مجھے علیٰحدگی میں ملنے کو کہا۔ پھر اس وقت ہمارے بد ترین خدشات کی تصدیق ہو گئی جب انھوں نے بتایا کہ ان کو جگر کا سرطان ہے۔ میں نے تنہا ہی اس بُری خبر کا سامنا کیا۔ بہت مشکل سے میں نے اپنے جذبات پرقابو میں رکھا اور میاں جی سے اس کا ذکر نہ کیا۔  پھر میں ان کو لے کر مسلم ٹاؤن اپنے گھر لوٹ آیا اور سارے راستے سوچتا آیا کہ اس ناپسندیدہ خبر کو میں گھر والوں سے کیسے چھپا پاؤں گا۔ گھر پہنچ کر سب سے پہلے میں نے ڈاکٹر افضل کو یہ روح فرسا اطلاع دی، وہ بھی یہ سن کر شدیدصدمے کی حالت میں چلے گئے۔ اس کے بعد ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم دونوں کے علاوہ اس حقیقت کی کسی کو خبر نہیں ہونے دی جائے گی۔ اور پھر ایسا ہی ہوا، اگلے 3 سال تک ہم نے اس بات کو خاندان کے دیگر افراد سے مخفی رکھا تاکہ ان کو اس پریشانی اور غم سے بچایا جا سکے۔ اس دوران ڈاکٹر افضل نے ان کاعلاج شروع کردیا جو بنیادی طور پر اس بات پر مرکوز رہا کہ ان کے بڑھتے ہوئے درد کو کیسے کم سے کم رکھا جا سکے۔ کبھی کبھار جب ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو جاتی تو کچھ اور علاج و معالجہ کی ضرورت بھی پیش آجاتی تھی۔ 
کچھ ماہ ملازمت میں گزارنے کے بعد مجھے احسا س ہوا کہ غیر ملکی مشیروں کی کمپنی جسے عالمی بینک کے منصوبے کے تحت لایا گیا تھا، میرے ابتدائی اندازے سے بھی زیادہ نا اہل نکلی۔ میں نے تہیہ کر لیا کہ اس کو جتنا جلد ہو سکتا ہے فارغ کر دیا جائے کیوں کہ اس کی موجودگی میں نہ صرف قرض کے طور پر حاصل کی گئی رقم کا ضیاع ہو رہا تھا بلکہ منصوبے کی تکمیل اور اس کے معیار پر بھی اثر پڑ رہا تھا جو قابل قبول نہیں تھا۔ مجھے اس بات کا اچھی طرح علم تھا کہ غیر ملکی سرمائے سے مکمل ہونے والے منصوبے سے کسی غیر ملکی کو نکالنا کوئی ایسا آسان کام بھی نہیں تھا، اور مجھے اس بات کا ادراک بھی تھا کہ اگر ایسا ہوا تو  مجھ پر کام کا بوجھ اور بڑھ جائے گا، لیکن میں نے اپنی نیک نامی، اپنے ادارے ایل ڈی اے اور لاہور کی خاطر یہ کڑوا گھونٹ بھرنے کا فیصلہ کر لیا۔ عالمی بینک کے ساتھ مسلسل مذاکرات کے بعد میں اس کو فارغ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اب اس کی جگہ پر کرنے کے لیے نئی کمپنی کی تعیناتی کرنا تھی جو ایک بہت دقت طلب اور طویل کام تھا۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ کسی غیر ملکی کمپنی کا انتخاب کرنے کے بجائے کیوں نہ مقامی کمپنی کے مشیروں کے ساتھ مل کر یہ منصوبہ مکمل کیا جائے اور تکنیکی مہارت میں کمی بیشی کے لیے انفرادی طور پر غیر ملکی مشیروں کی مدد حاصل کر لی جائے۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور ٹیم لیڈر کے لیے رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کر دیں۔ اس سے میری ذمہ داریوں میں تو بہت اضافہ ہو گیا تاہم اپنی پرجوش طبیعت کے زیر اثر نہ صرف یہ چیلنج قبول کیا بلکہ اب میں اس سے لطف اندوزبھی ہونے لگا تھا۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -