پانچ تصویریں ، پانچ کہانیاں

پانچ تصویریں ، پانچ کہانیاں

میرے سامنے پانچ نادر تصاویر ہیں اور یہ اپنے اندر پانچ نایاب کہانیاں اور بے شمار معنی لئے ہوئی ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں ان تصاویر نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔ آئیں! ان تصاویر اور ان کے اندر چھپی ہوئی کہانیوں کا ذکر کرتے ہیں۔

سب سے پہلی تصویرایک ترک خاندان کی ہے۔ دو میاں بیوی، ایک بیٹا اور ایک بیٹی، یعنی کل چار اہل خانہ کی تصویر ہے۔ یہ خاندان اپنے گھر کے سامنے سے گزرنے والی سڑک پر دسترخوان بچھا کر بیٹھا ہے۔ دستر خوان کے اوپر اس خاندان کی حیثیت کے مطابق کھانے اور مشروبات پڑے ہیں اور بیچ سڑک کسی کا انتظار ہو رہا ہے۔ دراصل یہ خاندان جو کچھ بھی گھر میں پکا تھا،اٹھا کر لے آیا ہے اور کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرانے کی غرض سے اور مہمان نوازی کے لئے مہمان کا منتظر ہے۔ رمضان کے دنوں میں اکثر گلی محلوں میں ایسے کئی مناظر ترکی میں دیکھنے میں آتے ہےں، گلی کوچوں سے لے کر بازاروں، پارکوں، سٹیڈیمز غرض ہر جگہ افطار دسترخوان سجے ہیں، متوسط گھرانے سے لے کر امیر، بلدیہ اور حکومت سبھی مل کر ان افطار دستر خوانوں کا بندوبست کرتے ہیں اور یہ سارا مہینہ جاری رہتے ہیں۔ افطار سے پہلے میلے کا ساماں ہوتا ہے۔ تلاوت، حمد و نعت، ملی و قومی نغمے، نظمیں اشعار، طرح طرح کے پکوانوں کی تیاری، بزرگوں، بڑوں، جوانوں اور بچوں کی خوبصورت گفتگو ایک سماں باندھ دیتی ہے۔ نیکی کاحصول اور رمضان میں زیادہ سے زیادہ ثواب کمانا ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے۔

یہ تصویر ایک خاص پتھر سے بنے ایک ستون نما اور 1 میٹر لمبے اور 4 انچ چوڑے تاش یا ٹرے کی ہے۔ اس ٹرے یا تاش کے اندر کچھ ”پرانے سکے“ پڑے ہوئے ہیں۔ یہ خلافت عثمانیہ کے دوران عموماً مساجد میں ستون کے پیچھے بنائے ہوئے پتھر کے تاش یا ٹرے تھے، جن میں صاحب حیثیت لوگ اپنے صدقے کی اور خیرات کی رقم ڈال جاتے تھے اور صاحب ضرورت فقیر، غریب اپنی ضرورت کے مطابق اس رقم سے اٹھا لیتے تھے اور اپنی ضرورت پوری کر لیتے تھے۔ نہ دینے والوں کا پتہ ہوتا، نہ لینے والوں کی تحقیر۔ اس ٹرے یا تاش کو ترکی زبان میں ”صدقہ تاش“ کہتے تھے۔ یہ صدقہ ٹرے یا تاش جہاں ہمیں سلطنت عثمانیہ میں خوشحالی، انسانی ہمدردی اور سچائی و صداقت کا پتہ دیتے ہیں۔ وہاں اسلامی نظام زکوٰة، صدقہ اور معاشرے کے لئے اس کی افادیت کے بارے میں بھی بتاتے ہیں۔

سلطنت عثمانیہ کے دور میں ترک حمام بڑے مشہور تھے۔ لوگ دور دور سے ان حماموں میں نہانے، تراش خراش، صفائی ستھرائی وغیرہ کے لئے آتے تھے۔ تیسری تصویر انہی ترک حماموں کی ہے۔ یہ استنبول کے مشہور علاقے چیمبرلی تاش کے عوامی حمام کی دور عثمانی کی تصویر ہے۔ اگرچہ زمانے کی شکست و ریخت اور وقت کے تسلسل نے اس تصویر اور حمام کی آب و تاب اور افادیت کو دھندلا دیا ہے اور پرانی عمارت اور حمام کی شکل و صورت بگاڑ کر رکھ دی ہے، لیکن اس حمام کی پیشانی پر موجودہ کنندہ عبارت ا ور قول آج بھی اپنی افادیت اور صداقت کا اعلان کر رہا ہے۔ حمام کی پیشانی پر اس عبارت کے جملے ملاحظہ ہوں: ”اگر آپ کا دل اور نیت میلا اور گندگی سے بھرپور ہے تو اس حمام سے مت توقع رکھیں کہ یہ آپ کے جسم دل اور نیت کو پاک صاف کر دے گا۔ جاو¿! پہلے اپنا دل اور اپنی نیت کو صاف ستھرا کرو، پھر اپنا جسم صاف ستھرا کرنے کی عرض سے اس حمام میں داخل ہونا، تب جا کر آپ حقیقی معنوں میں پاک صاف ہوں گے۔میرے خیال میں آج بھی یہ جملے اور عبارت قابل تقلید ہے اور اسے گھر باہر ہر طرف موجود غسل خانوں اور حماموں میں لکھا جانا چاہیے کہ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ صاف ستھرا لباس نظر آنے سے انسان پاک صاف نہیں ہو جاتا، اصل چیز نیت اور دل کی پاکیزگی ہے، وہ صاف نہیں ہے تو محض صاف ستھر الباس بھی ہمارے عیب نہیں چھپا سکتا۔ زبان فوراً دل اور نیت کی بات کرکے سارا کچا چٹھا سامنے لا کر رکھ دے گی۔

چوتھی تصویر ترکی کے موجودہ وزیراعظم کی اہلیہ، بیٹی اور وزیر خارجہ اور ان کی اہلیہ کی ہے۔ تصویر میں چاروں غمگین نظر آرہے ہیں۔ خاتون اوّل تو باقاعدہ رو رہی ہیں اور آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے ہیں۔ دراصل میانمار کے مسلمانوں کی حالت زار دیکھ کر ان کے کیمپوں کے دورے کے دوران اعلیٰ سطح کا یہ ترک وفد اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکا اور فرط جذبات سے ان کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے ہیں۔ جونہی میانمار کے مسلمانوں کی حالت زار اور قتل و غارت گری، گھروں سے بے دخلی، غیر مساویانہ سلوک اور خیموں میںکسمپری کی تصاویر عالمی میڈیا میں آنا شروع ہوئیں۔ ترکی وہ واحد مسلمان ملک تھا، جس نے میانمار کے مسلمانوں کی مالی اور سیاسی و اخلاقی مدد کے لئے آواز اٹھائی۔ وزیراعظم نے خود اپنی اہلیہ اور بیٹی کو وہاں بھیجا۔ وزیر خارجہ بھی جا پہنچے۔ یہی ہی نہیں، او آئی سی کا اجلاس مکہ میں بلوایا۔ امداد کا اعلان کروایا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ میانمار کے نہتے مسلمانوں کی طرف بھی توجہ کرے اور ان کے ساتھ ناانصافیوں اور ظلم کو بند کروائے۔ آج بھی روہنگیا اور اراکان کے میانماری مسلمانوں کو سب سے زیادہ امداد ترکی سے پہنچ رہی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب صومالیہ، ایتھوپیا اور دیگر افریقی ممالک میں قحط اور خشک سالی کا گزشتہ سالوں میں خوف سامنے آیا تو ترکی پہلا ملک تھا، جس نے مسلمانوں کے لئے آواز اٹھائی۔ ترکی کے وزیراعظم نے تو اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اپنی تقریر میں سب سے پہلے افریقہ کے قحط اور غربت زدہ لوگوں کی ایسی تصویر کشی کی کہ مغربی ممالک کے سربراہان بھی غمزدہ ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ غزہ اور فلسطین کے مسلمانوں کے لئے امداد جاری رکھنا اور اپنے ترک ہم وطنوں کی قربانی تو سب کو یاد ہو گی۔

آخری تصویر مکہ میں منعقد ہونے والی اسلامی ممالک کے سربراہان کی او آئی سی کے حالیہ ہنگامی اجلاس کی تصویر ہے، جس میں ترکی کے صدر عبداللہ گل سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کا ہاتھ تھامے سیڑھیاں اترنے میں ان کی مدد کر رہے ہیں۔ 57 اسلامی ممالک کے اس خصوصی اجلاس میں مسلمانوں کو آپس میں اتحاد و اتفاق کا مشترکہ پیغام دیا گیا ہے۔ جہاں تک ترک صدر کا شاہ عبداللہ اور خادم الحرمین شریفین ک ہاتھ تھام کر انہیں سہارا دے کر مدد کرنے کا تعلق ہے تو اس سے صاف اندازہ لگایاجا سکتا ہے کہ ترکوں کے دلوں میں اسلام کے لئے کتنی تڑپ ہے۔ شاید وہ اپنے آباو¿ اجداد، یعنی خلافت عثمانیہ کے کارناموں اور خدمت اسلامی کے لئے ان کی کوششوں کو ابھی تک بھولے نہیں اور یہ جذبہ آج بھی ان کے دلوں میں موجزن ہے ۔ اللہ کرے کہ وہ دن ہماری زندگیوں میں ہی آجائے، جب ہماری آنکھیں اور کان اسلامی اتحاد اور مسلمانوں کو ترقی کرتا ہوا دیکھ سکیں، سن سکیں اور محسوس کر سکیں، (آمین)

مزید : کالم