دانش سکول پنجاب: ایک مطالعاتی جائزہ (1)

دانش سکول پنجاب: ایک مطالعاتی جائزہ (1)

  

 اور آخرت کیلئے بھی توشہ خاص ہو گا اور ایک صدقہ جاریہ بھی۔ وَاللہِ علم َبصوّابَ

جب اپنا قافلہ اس عزم و یقین سے نکلے گا

جہاں سے چاہیں گے راستہ وہیں سے نکلے گا

اے وطن کی مٹی مجھے ایڑیاں رگڑنے دو

مجھے یقین ہے چشمہ یہیں سے نکلے گا

دانش سکو لز کے مختلف کیمپسیز(Campuses ) کے خوبصورت مناظر

کمیٹی سکولز کے دور ہ کے دوران

 میانوالی کیمپس کے ہوسٹل میں بچوں کے ساتھ کمیٹی کا گروپ فوٹو

جن معاشروں کی درسگاہیں اور لائبریریاں آباد ہو تی ہیں ان معاشروں کے افراد بے حس اور جامدنہیں رہتے بلکہ ان کی رگوں میں دوڑنے والا خون تیز تر ہو جاتا ہے جو بظاہر زندہ نظر آنیوالے انسانوں کو کسی مقصد کی خاطر زندہ رکھتا ہے اور یوں انقلاب کی راہیں خود بخود کھلتی چلی جاتی ہیں ۔ جہالت اور گمراہی وہ خلوت کدے ہیں کہ جہاں اپنی آواز اور اپنی صورت بھی دکھائی نہیں دیتی ہے۔ علم تو وہ نور ہے جو ایک ہی گھر میں اور ایک ہی ماں سے جنم لینے والے بچوں میں واضح فرق پیدا کرتا ہے ۔ علم ہی طاقت کا وہ سرچشمہ ہے جو ایک ہی وقت میں آزاد ہونیوالے ملکوںکو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ہونے کا لقب دیتا ہے۔ جب علم کے چراغ جلتے ہیں تو دل و دماغ اس طرح روشن ہوتے ہیں کہ افراد کو منزلوں کی ایسی نوید دیتے ہیں کہ غلام ملکوں کو آزاد اور آزاد ملکوں کو خود مختار بنادیتے ہیں ۔ جنگ آزادی کے بعد جب سرسید احمد خاں نے بنیاد پاکستان کی پہلی اینٹ تعلیمی انقلاب کے ذریعے رکھی تو اس وقت علی گڑھ سکول اور کالج کا قیام ہی وہ عملی تبدیلی تھی جس نے تحریک پاکستان کیلئے پڑھی لکھی قیادت فراہم کی۔ آج پھر ہمارا ملک کسی ایسے ہی تعلیمی انقلاب کا متقاضی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ہم جنوبی ایشیاءمیں سب سے کم شرح خواندگی کا حامل ملک ہیں ۔ نسل موجود کی یہ خو ش بختی ہو گی کہ پھر سے ہمیں سرسید احمد خاں جیسا دور اندیش اور زیرک رہنما میسر آئے جو ایک دفعہ پھر علم کا ایسا دیا جلائے جو کہ ملک بھر کو اپنی روشنی سے منور کردے۔ کسی بھی قسم کی سیاسی یا ذاتی وابستگی سے ہٹ کر اگر خادم اعلی پنجاب میا ں محمد شہباز شریف کے علمی و ادبی کارناموں کو دیکھا جائے تو وہ بے حد تسلی بخش اور قابل ستائش ہیں۔ پنجا ب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کا قیام، میرٹ پر سکالر شپ ، لیپ ٹاپ کی تقسیم ، علمی و ادبی مقابلوںکا انعقاد اور بطور خاص دانش سکولز کا قیام ہماری دم توڑتی علمی و ادبی روایات کو زندہ کرنے میں بہت موثر عمل ہے۔

گزشتہ دنوں راقم الحروف کو پنجاب میں قائم کردہ دانش سکولز کے مختلف کیمپسیز(Campuses ) کا مطالعاتی دورہ کرنے کا موقع ملا۔ پنجاب حکومت کی طرف سے جامعہ زرعیہ فیصل آباد کو دانش سکولز سے ملحقہ زمین کی زرعی آبادکاری کیلئے قابل عمل تجاویز دینے کا کام تفویض کیا گیا۔ جس کیلئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں (ستارہ امیتاز) جو کہ ایک انتہائی متحرک شخصیت ہیں کی طرف سے قائم کردہ دس ارکان پر مبنی کمیٹی میں بطور رکن مجھے بھی کام کرنے کا موقع ملا۔ جون کے اواخر میں جنوبی پنجاب کی طرف کا سفر اپنے اندر موسمی تلخیاں اور مسافتوں کی تھکن سموئے ہوئے تھا لیکن اچھے ہم سفر ساتھ ہو ںاور راہ میں بہت سارے مسافر نواز تو سفر آہستہ آہستہ کٹ ہی جاتا ہے

سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے

ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہے

کمیٹی نے 26 جون کو حاصل پور اور چشتیاں ضلع بہاولنگر کا دورہ کیا، اگلے دن رحیم یار خان اور 30 جون کو میانوالی کیلئے ر خت سفر باندھا ۔ یہ لمبا سفر ایک دوسرے سے ہنسی مذاق کرتے، شعرو شاعری کرتے اور ایک دوسرے کو چٹکلے سناتے گزر گیا ۔موسم اور سفر کی تلخیاں اپنی جگہ مگر دانش سکول کے ہر کیمپس میں پہنچتے ہی ہماری تمام تر تھکان وہاں کے خوش اخلاق اور پرُ جوش عملے سے ملاقات کے بعد ختم ہو جاتی ۔ دانش سکولز کے مینیجنگ ڈائریکٹرجناب یوسف کمال جو کہ نہ صرف علمی و ادبی شخصیت ہیں بلکہ انتظامی حوالے سے بھی نہایت وسیع تجربہ کے حامل ہیں۔ جن دنوں وہ ممبر پنجاب پبلک سروس کمیشن تھے ان دنوں کچھ انٹرویوز میں مجھے ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ تب ہی مجھے ان کے صاحب علم وفہم ہونے کا ادراک ہوا۔ ان کا مینیجنگ ڈائریکٹر کے عہدہ پر فائز ہونا میرے لیے اطمینان قلب کی حد تک خوشی کاباعث ہے بلاشبہ دانش سکولز کی مینجمنٹ اچھے اور محفوظ ہاتھوں میں ہے جو اسکو دیگر اداروں سے ممتاز کرتی ہے۔ دانش سکولزکا تمام اسٹاف اساتذہ کرام سے ہاسٹل کے باورچی تک جس جذبے اور ذوق یقین سے سرشار تھا وہ بے حد لائق تحسین ہے۔

بس ایک ہم سے ہے قائم وقار فصل جنوں

وگرنہ ربط یہاں سنگ و سر میں خاک نہیں

دانش سکولز بنیادی طورپر پنجاب کے اس طبقہِ محروم کیلئے بنائے گئے ہیں جن کی آمدنی اور رہن سہن غربت کی لکیر سے بھی بہت نیچے ہے۔ معاشرے کا یہ طبقہ ملک پر مساوی حقوق رکھنے کے باوجودکبھی بھی قومی دھارے میں شریک نہیں ہو سکا مزدور کا بیٹا مزدور ہی بنتا ہے اور مزارعوں کی بیٹیاں بڑے زمینداروں اور جاگیرداروں کی فصلوں کے پکنے کے دن گن گن کر جوان ہوتی ہیں۔ یہ طبقہ ایک جیسی جسمانی اور ذہنی صلاحیتیں ہونے کے باوجود اپنا جائز حق مانگنے سے بھی قاصر رہاہے۔ دانش سکولز کا قیام ایسے ہی محروم طبقات کیلئے عمل میں لایا گیا ہے جن کی ماہانہ آمدنی 6000/- ہزار روپے سے بھی کم ہے یا پھر ایسے بچوں کیلئے جو یتیم اور بے سہارا ہیں اور سرکاری سکولوں میں پڑھنے کے اخراجات بھی برداشت نہیں کرسکتے اور ان کی ایک کثیر تعداد چائلڈ لیبر کے شہرمشقتِ میں عمر قید کی سزا نسل در نسل کاٹتی چلی جاتی ہے۔ دانش سکول ایسے بچوں کونہ صرف مفت معیاری تعلیم مہیا کرتا ہے بلکہ یہاں تعلیم کا معیار کسی بھی قومی معیار کے ادارے سے کم نہیں ہے۔ طلباو طالبات کو داخلہ میرٹ پر دیا جاتا ہے اور ہر سکول میں ہوسٹل کی سہولت موجود ہے اور تمام بچے سکول میں ہی لازمی طور پر رہائش پذیر ہوتے ہیں کیونکہ یہ ایک اقامتی ادارہ ہے ۔اساتذہ کی تعیناتی میں بھی میرٹ کو سختی سے ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے جب کہ شادی شدہ اور غیر شادی شدہ اساتذہ کیلئے کیمپس میں ہی معیاری رہائش گاہیں میسر ہیں۔  (جاری ہے)

مزید :

کالم -