دہشت گردی،موبائل فونز ،اور سوشل میڈیا

دہشت گردی،موبائل فونز ،اور سوشل میڈیا

وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ عیدالفطر پر ملک کے مختلف علاقوں میں موبائل سروس کی بندش فائدہ مند ثابت ہوئی اورکوئی بھی بڑا ناخوشگوار واقعہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ موبائل فون ملک میں دہشت گردوں کا سب سے بڑا ہتھیار بن گئے ہیں۔ حکومت نے قریباً ایک کروڑ غیر قانونی کنکشن بند کئے ہیں۔ وزیر داخلہ کے مطابق کل موبائل کنکشنوں میں سے50فیصد کے قریب جعلی ناموں یا شناختی کارڈوں پر جاری کئے گئے تاہم سم کارڈ جاری کرنے کے نظام میں بہتری لائی جا رہی ہے اور مستقبل میں صارف کے کوائف کی تصدیق کے بغیر سم جاری نہیں کی جا سکے گی۔ وزیر داخلہ نے انکشاف کیا کہ پری پیڈ موبائل سروسز مکمل طور پر بند کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے عیدالفطر کے موقع پر دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر لاہور، کراچی اور ملتان سمیت ملک کے بیشتر علاقوں میں چاند رات کو9بجے سے عید کی صبح10بجے تک موبائل فون سروس معطل کر دی گئی تھی۔ حکومتی حلقوں کے مطابق دہشت گرد بم دھماکوں کے لئے موبائل فونز کا استعمال کرتے ہیں، لہٰذا سروس معطل کر کے دہشت گردی کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔

حکومت کی جانب سے موبائل فون سروس کی معطلی پر شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا کہ عیدالفطر کے موقع پر لوگ اپنے عزیز و اقارب سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر موبائل کا استعمال بہت بڑھ جاتا ہے، لیکن اس سال عوام کو کئی گھنٹے اس سہولت کے بغیر کاٹنا پڑے۔ یہ بات درست ہے کہ موبائل سروس معطل ہونے کے باعث لوگوں کو ایک دوسرے سے رابطے کرنے میں ذرا دقت پیش آئی، لیکن دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ موبائل فونز واقعی دہشت گردوں کا ہتھیار بن چکے ہیں۔ موبائل کنکشن منصوبہ بندی کے ساتھ جاری نہیں کئے گئے اور نہ ہی صارفین کے کوائف کا ریکارڈ رکھنے کی شرط پر موبائل کمپنیز کی جانب سے سختی سے عمل کیا گیا۔ نتیجتاً ملک بھر میں لاتعداد بے نامی کنکشن جاری کر دیئے گئے اور اب دہشت گرد اِس سہولت کو تخریبی کارروائیوں کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ موبائل فونز کو بم دھماکوں کے لئے بطور ریموٹ کنٹرول استعمال کیا جاتا ہے۔ اِس پس منظر میں دیکھا جائے تو عید کے موقع پر موبائل سروس کی معطلی کا فیصلہ غیر دانشمندانہ نظر نہیں آتا۔اس فیصلے کے اچھے اثرات بھی مرتب ہوئے اور عیدالفطر کے موقع پر کوئی نمایاں ناخوشگوار واقعہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ موجودہ حالات میں اِس تہوار کا بخیروعافیت گزرنا بھی ایک کامیابی ہے اور اِس پر قانون نافذ کرنے والے ادارے داد کے مستحق ہیں کہ اُن کے کارکنوں نے عید گھر والوں کے ساتھ منانے کے بجائے عوام کی حفاظت کرتے ہوئے گزاری اور اپنے فرائض پوری تندہی سے ادا کئے۔

وزیر داخلہ رحمن ملک نے انکشاف کیا ہے کہ پری پیڈ سروس معطل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کی روک تھام کے لئے جو بھی اقدامات ضروری ہیں وہ کئے جانے چاہئیں۔ کوشش کی جانی چاہئے کہ پری پیڈ صارفین کے مکمل کوائف اکٹھے کئے جائیں، لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اِس سروس کو بند کرنے میں بھی مضائقہ نہیں، اس بات کا ادراک ضروری ہے کہ ہم اس وقت حالت ِ جنگ میںہیں ہمیں انتہا پسندی جیسے خطرناک دشمن کا سامنا ہے، لہٰذا اِس کا مقابلہ کرنے کے لئے انتہائی اقدامات بھی کرنا پڑیں تو اِن پر مشتعل نہیں ہونا چاہئے، بلکہ انتظامیہ کا ساتھ دینا چاہئے اور اِس کے ہاتھ مضبوط کرنے چاہئیں کہ پہلی ترجیح اِس ملک کے عوام کی حفاظت ہے۔ پچھلے ایک ماہ کے دوران بھارتی ریاست آسام میں آباد بنگلہ دیش سے ہجرت کر کے آنے والے مسلمانوں اور مقامی ہندو بودو قبیلے کے درمیان عرصے سے جاری تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ مقامی ہندو مہاجر مسلمانوں کی آسام میں آباد کاری کے مخالف ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران انہوں نے سینکڑوں مسلمانوں کو شہید کیا اور تین لاکھ سے زائدمسلمانوں کو بے گھر ہونے پر مجبور کیا۔ یہ بربریت کی بدترین مثال ہے۔اب ان حالات کے ردعمل میں ملک بھر میں موبائل پر فریقین کی جانب سے نفرتوں بھرے پیغامات بھیجے جانے لگے، تو تین روز قبل بھارتی حکومت نے ایک شخص پر موبائل سے ایک دن میں پانچ سے زائدپیغامات بھیجنے پر پابندی لگا دی۔ اسی طرح بھارتی حکومت کی جانب سے300سے زائد ویب سائٹس بھی بند کی گئیں، جن کے بارے میں حکومت کا مو¿قف ہے کہ یہ واقعات کی فرضی تصاویر اور ویڈیوز دکھا رہی ہیں۔سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس فیس بُک اور ٹوئٹر کو بھی تنبیہہ کی گئی کہ وہ متنازعہ مواد کو ہٹا دیں یا قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ اِن اقدامات کو بھارتی حکومت کی جانب سے متاثرین کی آواز دبانے کا طریقہ بھی کہا جا سکتا ہے، لیکن حکومت کا مو¿قف ہے کہ آزادی ¿ اظہار کی بھی حدود ہوتی ہیں اور لوگوں کو ملکی مفاد کے خلاف کھلے عام بات کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ دوسری جانب پاکستان میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آزادی ¿ اظہار کی کوئی حدود نہیں، جس کے دل میں جس کے خلاف جو بھی آئے کھلے عام کہہ سکتا ہے اور نشر کر سکتا ہے۔ریاست پاکستان کی نفی کرنے والوں کو بھی ٹی وی چینلوں پر پورا پروٹوکول دیا جاتا ہے۔اسی طرح سوشل میڈیا بھی بے لگام ہے اور انٹرنیٹ پر حکومت کی نظر نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستان میں سینکڑوں ویب سائٹس موجود ہیں جو فرقہ واریت کو فروغ دے رہی ہیں اور لوگوں کے دلوں میں نفرتوں کے بیچ بونے میں مصروف ہیں، لیکن انہیں روکنے پر کسی کی توجہ نہیںہے۔ مزید یہ کہ میڈیا کے بعض عناصر کی جانب سے فرقہ وارانہ فسادات اور دہشت گردی کی وارداتوں کو ہوا دی جاتی ہے اور لوگوں کے دلوں میں منفی جذبات کو اُبھارا جاتا ہے۔ نجی ٹی وی چینلوں کو آئے سات سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن ضابطہ ¿ اخلاق نافذ نہیں کیا جا سکا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اس طرف بھی توجہ دے۔ دُنیا میں کوئی ایسا ملک موجود نہیں، جہاں اِس قسم کی آزادی میسر ہو، جس طرح کی پاکستان میں ہے۔ ضروری ہے کہ اب کچھ حدود متعین کی جائیں۔ تاہم اِن کا مقصد سیاسی نہیں ہونا چاہئے، بلکہ یہ ملکی سلامتی کو ذہن میں رکھ کر متعین کی جانی چاہئے۔ اگر حکومت اِس حوالے سے تمام فریقین کو اعتماد میں لینے کی کوشش کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ ضابطہ سب کے لئے قابل ِ قبول نہ ہو۔

مزید : اداریہ