امریکی عوام کی طرف سے عید مبارک

امریکی عوام کی طرف سے عید مبارک

  

                                                آپ کا تو مجھے علم نہیں ہے، لیکن مجھے تو بریک سے بہت چڑ ہے، کیونکہ اس بریک کے شروع ہوتے ہی اشتہارات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتاہے۔ چڑ کی وجہ یہ ہے کہ جونہی کوئی دیکھنے کے قابل سین آتا ہے تو اشتہارات درمیان میں آ دھمکتے ہیں اور سارا مزہ کرکرا کر دیتے ہیں ۔ مثلاً فلم دیکھ رہے ہیں ۔ ہیرو بڑے طمطراق کے ساتھ ولن کے لتے لینے کے لئے اس کے قریب پہنچتا ہی ہے کہ بریک آجاتی ہے۔اس بریک کے دوران ہی ہمیں نیند آ جاتی ہے اور جب بقیہ فلم چلتی ہے تو ہم نندیا پور جا چکے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی ٹاک شو دیکھ رہے ہیں تو ابھی سیاست دان گالیوں پر اترتے ہی ہیں کہ میزبان بریک لے لیتا ہے۔ بریک سے واپس آتے ہیں تو صلح صفائی ہو چکی ہوتی ہے۔ دوبارہ ان کا خون جوش مارنے لگتا ہے تو دوسری بریک کا وقت آجاتا ہے۔ اسی طرح کی اور بھی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں ۔ عید کے موقع پر بھی ہم نے ڈرامہ دیکھنے کا پروگرام بنایا تو ڈرامہ ہماری سمجھ میں آ نا شروع ہی ہوا تھا کہ بریک کا وقت ہو گیا۔ اشتہارات کی بھر مار شروع ہو گئی۔ ایک اشتہار پر نظر پڑی تو فوراً چونک گئے کہ جناب اشتہار چل رہا ہے کہ امریکی عوام کی طرف سے عید مبارک۔

یہ اشتہار میری سمجھ میں ابھی تک نہیں آ رہا کہ اس کا کیا مطلب ہے ۔ اول تو مجھے یہ نہیں سمجھ آ رہا کہ امریکی عوام کی مبارک باد پاکستانی عوام کے لئے ہے یا کہ حکمرانوں کے لئے، کیونکہ اشتہار میں اس کا ذکر نہیں ملتا۔ اگر یہ مبارک باد حکمرانوں کے لئے ہے تو یہ انصافی ہے اور اگر عوام کے لئے تو اس سے بھی بڑی نا انصافی ہے۔ آپ پوچھیں گے وہ کیسے؟ وہ یہ کہ اگر حکمرانوں کے لئے ہے تو وہ تو کبھی گھر بیٹھے مبارک باد وصول کرنے کے عادی نہیں ہیں ۔ وہ ہمیشہ امریکہ جا کر ہی مبارک باد وصول کرتے ہیں، کیونکہ وہاں ان کو مبارک باد کے ساتھ عیدی بھی مل جاتی ہے۔ غالباً وہ اس سلسلے میں اپنے پروگرام بھی ترتیب دے رہے ہیں، لہٰذا ان کو گھر بیٹھے خالی مبارکبا د پر ٹرخا دینا کہاں کا انصاف ہے؟ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ یہ عوام کے لئے ہے تو وہ تو ایسے ہے جیسے میرے دوست شیدے کا ایک محلے دار ہر روز صبح شیدے کی پھینٹی بھی لگاتا ہے اور شام کو شیدے کو گلے لگا کر کہتا ہے کہ شیدا میرا چھوٹا بھائی ہے۔

اگر واقعی یہ مبارک باد عوام کے لئے ہے تو بہرحال خیرمبارک ۔ امریکی عوام نے مبارک باد کا پیغام بھیجتے وقت پتہ نہیں اس کا اندازہ لگایا تھا کہ نہیں کہ یہ عوام مبارک باد قبول کرےں گی یا نہیں یہ الگ معاملہ ہے یہ مبارک باد کے لائق ہیں بھی یا نہیں ۔ دوسرا یہ کہ عوام کے کس طبقے کے لئے مبارک باد کا پیغام بھیجا گیا، کیونکہ شاید محترم امریکی عوام! اسی عوام میں کچھ تو وہ بھی ہیں، جن کے گھروں پر روز ڈرون بادلوں کی طرح منڈلاتے ہیں اور جب چاہیں (چاہے شادی ہویا مرگ) بارود کی بارش کر دیتے ہیں اور اب تک ہزاروں افراد آپ کی بہادر فوج کے ہاتھوں لقمہ ¿ اجل بن چکے ہیں، لہٰذا وضاحت تو کر دیں کہ یہ پیغام محبت ان لوگوں کے لئے بھی ہے کہ نہیں؟ کیونکہ پاکستانی عوام میں تو وہ بھی شامل ہیں۔ آپ کو یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ اِسی عوام میں وہ والدین اور بچے بھی شامل ہیں ،جن کے بیٹوں اور والدین کو آپ ہی کے ایک باشندے ریمنڈ ڈیوس نے دن دہاڑے گولیوں سے بھون ڈالا تھا۔ ابھی ابھی یاد آیا ہے اِسی قوم میں ایک خاتون فوزیہ صدیقی بھی ہے،جو اپنی بہن عافیہ صدیقی کی یاد میں بے حال پھر رہی ہے اور اپنی بہن کی راہ تک رہی ہے۔ تو کیا یہ مبارک باد کا پیغام اس کے لئے بھی ہے۔ میرا حافظہ کتنا کمزور ہے ابھی یاد آیا ہے کہ کیا عید مبارک کے پیغام میں وہ یتیم بچے، بیوائیں اور والدین بھی شامل ہیں، جن کے باپ، شوہر اور بیٹے سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کر کے آپ کے جانبازوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے تھے۔

رہ گئی اس ملک کی آزادی تو وہ بھی آپ کے ہاتھ پامال ہوتی رہتی ہے، جس ملک کے عوا م کو پیغامِ محبت بھیجا گیا ہے اِسی ملک کی آزادی کو کئی بار آپ کے شیر جوانوں نے پاﺅں تلے روندا، کبھی ڈرون کی صورت میں، کبھی سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کی صورت میں، تو کبھی ایبٹ آباد آپریشن کی صورت میں ۔ تو ایسی عوا م کو عید مبارک دینا اتنا کیوں ضروری ہے؟ کیونکہ جہاں تک میری رائے ہے اس ملک میں تو کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جو آپ کا شرمندہ احسان نہیں ہے، لہٰذا یہ بتایا جائے کہ یہ مبارک آخر ہے کس کے لئے؟

اس مبارک باد سے محسوس ہوتا ہے کہ امریکی عوام پاکستانی عوام کے دل میں گھر کرنا چاہتے ہیں، تو جنابِ والا ! کام تو بہت اچھا ہے، مگر یہ طریقہ موثر نہیں ہے۔ اگر پاکستانی عوام کے د لوں میں نرمی پیدا کرنا چاہتے ہیں تو کیا اچھا ہوتا کہ امریکہ مبارک باد کے پیغام کے ساتھ ہیں عافیہ صدیقی کو رہا کرنے کا اعلان کرتا، ریمنڈ ڈیوس کے خلاف کارروائی کرتا، سلالہ کے واقعے کی تحقیقات کر کے سزائیں دیتا، ڈرون حملے فوراً بند کرتا اور اپنی پاکستان کے حوالے سے پالیسی تبدیل کرنے کا اعلان کرتا تو یہ مبارک باد بھی تمام پاکستانی عوام کے لئے تھی اورپاکستان کی عوام کے دلوں میں بھی نفرت کا خاتمہ ہو جاتا۔   ٭ 

مزید :

کالم -