تو مشقِ ناز کر خونِ دوعالم میری گردن پر!

تو مشقِ ناز کر خونِ دوعالم میری گردن پر!
تو مشقِ ناز کر خونِ دوعالم میری گردن پر!
کیپشن: 1

  

عجیب صورتِ حال ہے.... ایامِ حاضرہ میں اگر پاکستان کے حالاتِ حاضرہ پر کوئی تبصرہ نگار تبصرہ کرنا چاہے تو اس کو کوئی نہ کوئی سٹینڈ تو لینا ہی پڑے گا۔اگر وہ لانگ مارچ والوں کی حمائت کرتا ہے تو الزام آتا ہے کہ یہ تحریک انصاف کا پٹھو ہے اور اگر حکومتی موقف کو درست قرار دیتا ہے تو حکومتی قصیدہ گو کا لیبل اپنے اوپر لگوانے سے نہیں بچ سکتا۔یعنی:

گوئم مشکل و گر نگوئم مشکل

اسلام آباد نہ صرف یہ کہ پاکستان کا دارالحکومت ہے، بلکہ اس کا شمار دنیا کے چند جدید ترین شہروں میں بھی ہوتا ہے۔اس کی گرین بیلٹ، بازاروں اور گلی کوچوں کا لے آﺅٹ ،شاہراﺅں کی کشادگی، فیڈرل حکومت کے سارے اہم ادارے، دفاعی افواج کے ہیڈکوارٹرز (ماسوائے جی ایچ کیو) دامنِ کوہ، ملکہءکوہسار مری سے قربت وغیرہ اس کی اضافی کشش کا باعث ہیں۔

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر آرمی کا ہیڈکوارٹر اور آرمی چیف کی رہائش گاہ اسلام آباد میں ہوتی تو کسی عمران خان یا ڈاکٹر قادری کو یہاں دھرنا دینے کی اجازت نہ ملتی....

اگر اس دلیل پر غور کیا جائے تو اس میں کافی وزن معلوم ہوتا ہے۔ائر ہیڈکوارٹر اور نیول ہیڈکوارٹر اگرچہ اسلام آباد میں ہیں، لیکن پاکستان کے گزشتہ چار مارشل لاﺅں کے تناظر میں ان دونوں فورسز کارول محض ثانوی تھا۔ اصل رول تو جنرل ہیڈکوارٹر کا تھا جو راولپنڈی میں ہے۔اسلام آباد میں جی ایچ کیو کی تعمیر کا منصوبہ آج کس منزل اور کس مرحلے میں ہے، اس کا مجھے پتہ نہیں ،لیکن جس دن جی ایچ کیو، اسلام آباد میں شفٹ ہو گیا، اس دن کے بعد ڈپلومیٹک انکلیو بھی محفوظ ہو جائے گا، VVIPsکی رہائش گاہیں بھی زیرِ خطر (Vulnerable) نہیں رہیں گی اور اس کا امن و امان بھی محفوظ (Taken for granted)ہو جائے گا۔

اسلام آباد کی ایک اپنی ہائی کورٹ ہے (سپریم کورٹ کو فی الحال رہنے دیجئے) کیا اس IHCمیں کوئی اسلام آبادی بندئہ خدا درخواست دے کر یہ فیصلہ نہیں لے سکتا تھا کہ یہاں کسی لانگ مارچ یا انقلاب مارچ کی گنجائش نہیں؟ ایسا نہ کرکے اسلام آباد کی ساری آبادی اور عدلیہ نے کوئی مستحسن اقدام نہیں کیا۔

ممکن ہے جنرل ہیڈکوارٹر نے حکومت کو مشورہ دیا ہو کہ اس لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود سے باہر رکھا جائے۔لیکن گزشتہ سال سوا سال میں حکومت اور فوج کے درمیان تعلقات کی جو ”گرم جوشی“ اور ”اخلاص“ دیکھنے کو ملا ہے، اس کے پیش نظر لگتا ہے فوج نے یہ ”مفت مشورہ“ دے کر اپنے اوپر ایک اور امکانی تہمت سے حذر کر لیاہے!

ایک دوست نے کل اسلام آباد سے فون کیا کہ شہر کی ساری فضا متعفن ہو چکی ہے۔جس طرف جاﺅ گندگی پھیلی ہوئی ہے ،بدبو کے بھبوکے اٹھ رہے ہیں اور ان میں روز بروز اور شب بہ شب اضافہ ہو رہا ہے۔گزرے کل میڈیا چینلوں پر بھی یہ پٹیاں چل رہی تھیں کہ پارلیمنٹ کے گردوپیش کا سارا ماحول بدبو دار ہو چکا ہے اور وہاں سے گزرا نہیں جا سکتا۔ ایک MNA شکائت کر رہے تھے کہ آبپارہ سے گزریں تو ناک پر رومال رکھنا پڑتا ہے۔

خود مَیں نے تین چار برس (1973ءتا 1976ئ) اسلام آباد میں گزارے۔ایمبسی روڈ پر گھر ملا ہوا تھا اس لئے آبپارہ ہمارا شاپنگ سنٹر ہوا کرتا تھا۔یہ جناح اور سپر جناح مارکیٹیں وغیرہ تو بعد میں تعمیر کی گئیں۔ہر ہفتے دس دن کے بعد روضہ ءامام بری پر حاضری دینے کا اتفاق بھی ہوا کرتا تھا۔ جو مہمان آتا وہ شکر پڑیاں، راول ڈیم اور امام بری جانے کی خواہش کا اظہار ضرور کیا کرتا اور اس طرح ہمیں ایمبسی روڈ سے ان مقامات تک آنے جانے کے ہزاروں مواقع ملے۔پھر 12برس تک (1985ءتا 1996ئ)جی ایچ کیو راولپنڈی میں گزارے اور اس دوران بھی اَن گنت بار اسلام آباد کے گلی کوچوں اور فیصل مسجد کے طواف کے مواقع میسر آئے.... کیا حسین مناظر تھے اور سبزہ و گل کی کیا بہاریں تھیں!....کیا کشادگی قلب و نظر تھی اور کیا دلفریب عمارتیں تھیں، جن کا انوکھا حسنِ تعمیر دعوتِ نظارا دیتا تھا!!.... سوچتا ہوں اگر ان کے اردگرد بول و براز کی بھرمار کر دی گئی ہے تو وہ مناظر کیسے بھیانک ہوں گے؟

اس دوست نے یہ بھی کہا کہ مارچوں کے شرکاءلیٹرین کی جگہ شاپنگ بیگ استعمال کررہے ہیں۔اس ہجوم میں بچے، بوڑھے اور خواتین بھی ہیں جو زیادہ دور نہیں جا سکتیں۔ان کی مدد کے لئے بھی یہی شاپنگ بیگ ہیں جو ہمہ وقت حاضر ہوتے ہیں اور چونکہ نزدیک کوئی مین سیوریج ہول نہیں ہے، اس لئے لوگ ان شاپنگ بیگوں کو اٹھاتے ہیں، چند گز دور جاتے ہیں اور بازوﺅں کو تین چار ”ہُلارے“ دے کر ”وگاہتا“ پھینکتے ہیں اور پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے کہ آیا وہ شاپر راستے ہی میں پھٹ گیا ہے یا زمین پر گرنے کے Impactنے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ایک نہایت ہی ناگوار اور ناگفتہ بہ منظر پیدا کر دیا ہے۔ہم نے فوج میں دستی بموں کو پھینکنے کی پریکٹس میں کئی بار خود حصہ لیا ۔وہ دستی بم جب پھٹتے تھے تو آس پاس کا علاقہ کتنا اور کیسے متاثر ہوتا تھا اس کا منظر آج بھی سامنے ہے۔ خیال ہے کہ انسانی فضلے کے یہ ہینڈگرنیڈ بھی کچھ کم آفت رساں نہیں ہوں گے!

خبر نہیں اسلام آبادکی صفائی ستھرائی (Sanitation) کے انچارج کون ہیں، وہ کسی میڈیا چینل پر کیوں نہیں آئے اور کیوں نہیں بتایا کہ ان مارچوں کے مابعدی اثرات (After-effects)کیا ہوں گے اور ان کا دورانیہ کیا ہوگا؟ حکومت تو مظاہرین کی تعداد محض 5،7ہزار بتلاتی ہے جبکہ وابستہ مفادات لاکھوں کی باتیں کرتے ہیں۔اگر بی بی سی اور سی این این کو قابلِ اعتماد مان لیا جائے تو شرکائے احتجاج کی تعداد 50سے 60ہزار تک بنتی ہے۔آپ ذرا اپنے موبائل کا کیلکولیٹر آن کریں اور حساب لگائیں کہ اگر دس آدمیوں کے بول و براز کی صفائی کے لئے ایک خاکروب درکار ہو تو 60ہزار کی اس احتجاجی نفری کے لئے صفائی کرنے والے کتنے لوگ درکار ہوں گے۔ کیا CDA اتنے صفائی کرنے والوں /والیوں کا کوئی جلد بندوبست کر سکے گی؟

آج کے اخباروںمیں جناب نوازشریف کا یہ بیان بطور شہ سرخی شائع کیا گیا ہے کہ : ”جتنے دن مرضی بیٹھیں، طاقت کا استعمال ہوگا نہ استعفی دوں گا“.... اور ساتھ ہی اسی شہ سرخی میں عمران خان کا یہ ”جواب دعویٰ“ بھی شائع کیا گیا ہے : ”استعفیٰ لے کر ہی اٹھوں گا“۔

کچھ روز پہلے راقم السطور نے ایک کالم میں اربابِ بست و کشادِ اسلام آباد کی توجہ اس ”نکاسیءبول و براز“ کے مسئلے کی طرف دلائی تھی مگر ہمارے ان کالموں کو پڑھنے والے تو کبھی کے قصہ ءپارینہ بن گئے،ان کی طرف کون توجہ دے۔لیکن اس میں کیا شک ہے کہ یہ مسئلہ اہم ترین مسائلِ لانگ مارچ میں سے ایک ہے۔

علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری کو آپ نے ٹیلی ویژن پر کئی بار اسلام آباد کے گردونواح میں رہنے والوں کا شکریہ ادا کرتے سنا ہوگا کہ وہ شرکائے احتجاج کے کھانے پینے کا بندوبست کررہے ہیں۔پانی کی کمی ہوتی ہے تو ٹینکر آ جاتے ہیںاور کھانے کی کمی ہوتی ہے تو دیگیں آتی دکھائی دیتی ہیں، مگر ان ٹینکروں کے پانی اور دیگوں کی دال روٹیوں کو جب انسانی اجسام باہر نکالنے پر مجبور ہوتے ہیں تو کیااس کا بندوبست بھی اسلام آباد کے گردونواح میں رہنے والا کوئی بندئہ خدا کررہاہے؟....مجھے معلوم نہیں کہ ڈاکٹر صاحب نے اس پہلو پر بھی اپنے معتقدین کو ”اعتماد“ میں لیا ہے یا انہیں کھلی اجازت دے رکھ ہے کہ :

تو مشقِ ناز کر خونِ دوعالم میری گردن پر

پچھلے دس روز سے یہ ”مشقِ ناز“ جاری ہے اور ابھی معلوم نہیں کب تک جاری رہے گی۔ پی ٹی آئی کے عمران خان صاحب اور پاکستان عوامی تحریک کے ڈاکٹر قادری صاحب سے درخواست ہے کہ اس ”مشقِ ناز“ کے مابعدی اثرات کا بھی کوئی بندوبست فرما ویں۔وگرنہ اسلام آباد کے ”متاثرہ“ باسیوں کو بہت جلد کسی اور جگہ منتقل کرنا پڑے گا۔ ٭

مزید :

کالم -