جمہوریت کے تن مردہ میں جان ڈالنے کی ضرورت

جمہوریت کے تن مردہ میں جان ڈالنے کی ضرورت
جمہوریت کے تن مردہ میں جان ڈالنے کی ضرورت
کیپشن: 1

  

پارلیمنٹ میں جان ڈالنے کی کوششیں تو جاری ہیں، لیکن مَیں سمجھتا ہوں پارلیمنٹ میں جان ڈالنے کے لئے جمہوریت کو مضبوط کرنا ضروری ہے، جب تک جمہوریت کے تن ِ مردہ میں جان نہیں ڈالی جاتی، پارلیمنٹ اسی طرح ہوا کے ساتھ ہچکولے کھاتی رہے گی۔ جمہوریت کو بھی ہم نے بعض دوسری اشیاءکی طرح مقدس گائے بنا کے رکھا ہوا ہے۔ ہم یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ بُری سے بُری جمہوریت بھی اچھی سے اچھی آمریت سے بہتر ہے۔ کیوں جی، آخر ہم بُری سے بُری جمہوریت کی طرف ہی کیوں جائیں۔ اچھی جمہوریت کیوں نہ ڈھوندیں۔ اگر ہم یہ بات کرتے ہیں تو پھر ہمت کر کے یہ بھی تسلیم کر لینا چاہئے کہ ہم ایک بُری جمہوریت کے امین ہیں، کیونکہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کریں گے اچھی جمہوریت کی طرف نہیں جائیں گے۔ آج کل جمہوریت کے نام پر ایک جنگ جاری ہے، جنہوں نے دھرنا دیا ہوا ہے، وہ بھی جمہوریت کی بات کر رہے ہیں اور جنہوںنے پارلیمنٹ کو اپنا قبلہ بنا رکھا ہے، وہ بھی جمہوریت کا راگ الاپ رہے ہیں۔ جمہوریت کی اس قدر فراوانی کے باوجود بے کلی کیوں ہے، معاشرے میں عدم اطمینان اور بے چینی نے ڈیرے کیوں ڈال رکھے ہیں، آخر کچھ تو خرابی ہے کہ جموریت جمہور، یعنی عوام کے دُکھوں کا مداوا نہیں کر پا رہی۔

جو لوگ موجودہ شکل والی جمہوریت کو چیلنج کر رہے ہیں، ان کا استدلال ہے کہ اس جمہوریت نے عوام کو کچھ نہیں دیا۔ یہ ایک محدود طبقے کے ہاتھ میں آیا ہوا استحصالی ہتھیار ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ مَیں حیران ہوں کہ ایک طرف اس جموریت کو چیلنج کرنے والے دلائل کے ساتھ اس کی خامیاں گنوا رہے ہیں، مگر دوسری طرف سوائے انہیںجمہوریت دشمن قرار دینے کے اور کچھ نہیں کہا جا رہا۔ اسمبلی کے اندر جمہوریت کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دینے کے دعوے کرنے والے عملی طور پر عوام کے لئے اقدامات اٹھانے کو تیار نہیں۔ وزیراعظم محمد نواز شریف اگر گزرے ہوئے تین ہفتوں میں عوامی فلاح و بہبود کے لئے قانون سازی کرتے، عوام کو ریلیف دینے کے لئے اقدامات اٹھاتے، استحصالی دفتری نظام اور تھانہ کلچر کی تبدیلی کے لئے جنگی بنیادوں پر کام کرتے، مہنگائی کے خاتمے کا ایجنڈا دیتے، تو شاید انہیں ڈی چوک میں جاری دھرنوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ پھر عوام خود ہی انہیں مسترد کر دیتے، پھر جمہوریت واقعی ایک آئیڈیل نظام بن کر اُبھرتی، لیکن اس کی بجائے جو ہوتا رہا اور جو ہو رہا ہے، اس سے عوام کی تشفی ممکن نہیں۔ وہ خواب ضرور دیکھیں گے اور خواب دکھانے والے انہیں اپنے ساتھ دھرنے میں لے جاتے رہیں گے۔

اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے ہمارے اکابرین اب اتنے پارسا اور مبلغ تو ہیں نہیں کہ عوام اُن کی باتوں سے مطمئن ہوئے جائیں۔ کوئی خواب دیکھیں نہ آواز نکالیں۔ جب اعجاز الحق اور آفتاب شیر پاﺅ جمہوریت کی حمایت میں تقریر کریں گے تو اس کا کیا اثر ہو گا یا جب محمود خان اچکزئی جمہوریت کے لئے خون کا آخری قطرہ تک بہانے کی بھڑک ماریں گے تو وہ کیا اثر چھوڑے گی، جو لوگ اپنے مفادات کو نہیں چھوڑ سکتے، وہ جمہوریت کی روح کو کیسے سمجھیں گے۔ محمود خان اچکزئی بلوچستان کی گورنر شپ اور اسمبلیوں کی پانچ عدد نشستیں اپنے گھر میں رکھ کر جب جمہوریت کا ورد کرتے ہیں تو ہنسی آتی ہے۔ یہ کیسی جمہوریت ہے کہ جس میں سب سے پہلے اپنے خاندان کو آگے رکھا جاتا ہے۔ تصوراتی جمہوریت کا راگ الاپ الاپ کے عوام کو اب تک بے وقوف بنایا جا سکتا ہے۔ جمہوریت کو آباد اور اس نظامِ زر کو اب برباد ہونا چاہئے۔ مَیں سمجھتا ہوں اس وقت نظامِ انتخابات کی خامیوں سے بھی زیادہ جمہوریت کی خامیاں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ جمہوریت عوام کی امنگوں پر پورا نہیںاُتر رہی۔ یہی وجہ ہے کہ آمریت کا عرصہ عوام پر آسانی سے گزر جاتا ہے مگر جمہوریت کی پانچ سالہ مدت کا ایک ایک دن ان پر مشکل گزرتا ہے۔ کیا یہ حیرت انگیز بات نہیں، حالانکہ جمہوریت کی موجودگی میں عوام کو ہر طرف ٹھنڈی ہوائیں ملنی چاہئیں، مگر یہاں باد سموم انہیں گھیرے رکھتی ہے۔

67سال بعد بھی اگر ہم جمہوریت کو ہوا کے دوش پر رکھے ہوئے چراغ کی طرح بجھنے سے بجانے کے جتن کر رہے ہیں، تو یہ بہت بڑا المیہ ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے ایک بیان آیا ہے کہ اگر حکومت کی کارکردگی اچھی ہو تو دھرنے اور لانگ مارچ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ یہ بہت بنیادی بات ہے۔ حکومت مخالف قوتیں صرف اُسی وقت فائدہ اٹھا سکتی ہیں جب حکومت سے عوام خوش نہ ہوں۔ مسلم لیگ(ن) کی حکومت سے یہی غلطی ہوئی ہے۔ پانچ سال کی مدت کے لئے منتخب ہونے کے بعد عوام کو بھلا دیا گیا۔ بھلانے سے مراد یہ ہے کہ انہیں مہنگی بجلی، لوڈشیڈنگ، مہنگائی اور ایک بے رحم دفتری نظام کے سپرد کر کے نظامِ حکومت چلایا جاتا رہا۔ زمینی حقائق سے ماورا فیصلے کئے گئے۔ عوام کی قوت خرید کو مدنظر رکھے بغیر ان پر ٹیکسوں اور مہنگائی کا بوجھ لاد دیا گیا، جس سے بے چینی پھیلی، وزراءکے غیر ذمہ دارانہ بیانات نے مزید اس شعلے کو ہوا دی۔ پانی و بجلی کے وزیر نے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے لئے بارش کی دُعا مانگنے کا نسخہ بتایا۔ دیگر وزراءاپنے بھاری مینڈیٹ کا راگ سناتے رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اپوزیشن موقع پا کر نقب لگانے میں کامیاب رہی۔ غور کیا جائے تو ہمارے معاشرے کے مختلف عناصر بالغ نظری کی طرف گامزن ہوئے ہیں، مگر جمہوریت ابھی تک بلوغت کی منزل سے دور کھڑی ہے۔ مثلاً آپ عدلیہ کو دیکھیں اس میں ایک واضح تبدیلی نظر آئی ہے۔ حالیہ سیاسی بحران میں بھی عدلیہ نے خود کو معاملات سے علیحدہ رکھنے کی کامیاب سعی کی ہے۔ سپریم کورٹ نے دھرنوں کے خلاف فیصلوں سے اجتناب کیا اور اس تاثر سے شعوری طور پر بچنے کی کوشش کی کہ وہ حکومت کی حمایت کر رہی ہے۔ آپ میڈیا کو دیکھیں، کس قدر متحرک اور غیر جانبدار نظر آتا ہے۔ عوام تک اطلاعات پہنچانے میں اس کی جرا¿ت مندی اور کوشش اب ایک مثال بنتی جا رہی ہے۔ آزاد میڈیا نے معاشرے میں شعور بیدار کیا ہے اور اِسی شعور کا نتیجہ ہے کہ اب لوگ اپنا حق مانگتے ہیں۔ معاشرے کا ایک اور اہم ترین رکن، یعنی پاک فوج نے بھی اپنے اندر تبدیلیوں کی ایک واضح بنیاد رکھ دی ہے۔ بحرانی کیفیت میں بھی سیاسی معاملات نے اپنے دامن کو بچائے رکھنے کی جو مثال اس قومی ادارے کی طرف سے حالیہ دنوں میں قائم کی گئی ہے، وہ قابل ستائش ہے۔

جب معاشرے کے اندر یہ تبدیلیاں آ چکی ہیں تو پاکستان کی جمہوریت کو بھی بالغ نظر ہونا چاہئے۔ اسے حالات اور تقاصوں کا ادراک کرنا چاہئے، تاکہ عوام کی توقعات پر پورا اُترا جا سکے، مگر بدقسمتی سے ایسا ہوا نہیں، ہماری جمہوریت آج بھی کسی کوہ قاف کی مخلوق نظر آتی ہے۔ وہ عوام کی امنگوں اور آرزوﺅں پر پورا اترنے سے قاصر ہے۔ جمہوری حکومت کا سب سے اہم کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی حکمرانی کی سمت کا تعین کرے۔ اس تعین کو دیکھ کر ہی عوام مطمئن ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ کسی جمہوری نظام کی اس سے بڑی بدقسمتی ا ور کوئی نہیں ہو سکتی کہ اس پر بادشاہت کا الزام لگ جائے۔ وزیراعظم نواز شریف ایک منتخب حکمران ہیں، مگر بڑے تسلسل کے ساتھ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری ان پر بادشاہ ہونے کا الزام لگا رہے ہیں۔ مَیں نے تو ایک بار بھی نہیں سنا کہ انہوں نے اپنی کسی نشری تقریر یا بیان میں اس الزام کو رد کرتے ہوئے یہ کہا ہو کہ وہ بادشاہ نہیں، وزیراعظم ہیں اور آئینی طاقت سے حکمرانی کر رہے ہیں، چلیں وہ زبان سے اس الزام کو رد نہ کریں، تاہم ان کے اقدامات سے عوام کو یہ پیغام ملنا چاہئے کہ وہ ایک منتخب عوامی وزیراعظم ہیں۔ ان کے خلاف اپوزیشن کی جب مہم شروع ہوئی تو انہیں اس کا سنجیدہ نوٹس لےتے ہوئے ان خامیوں اور کمزوریوں کو دور کرنے پر توجہ دینی چاہئے تھی، جن کی وجہ سے اپوزیشن نے انہیں ہدف بنا رکھا ہے۔ اس پہلو پر توجہ دینے کی بجائے انہوں نے سیاسی حمایت کے حصول پر زیادہ توجہ مرکوز کی، حالانکہ انہیں عوام کے ساتھ اپنے ٹوٹے ہوئے تعلق کو بحال کرنا چاہئے۔ انہیں ایسے فیصلوں کی ضرورت ہے، جن سے عوام کو اس بات کا احساس ہو سکے کہ ان کا منتخب وزیراعظم ویسا نہیں، جیسا کہ اپوزیشن انہیں ثابت کر رہی ہے۔

مَیں آخر میں پھر اپنے اسی تھیسز پر آتا ہوں، جس کا مَیں نے آغاز میں ذکر کیا تھا۔ اگر ہم پارلیمنٹ اور پارلیمانی نظام کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں جمہوریت کو مضبوط کرنا پڑے گا اور جمہوریت صرف اسی صورت میں مضبوط ہو سکتی ہے، جب اسے چند فیصد طبقوں کی لونڈی بنانے کی بجائے عوام کی امانت اور طاقت سمجھا جائے۔ جمہوریت پاکستان کا مقدر اور عوام کی امنگوں کا استعارہ ہے۔ پاکستان اور جمہوریت لازم و ملزوم ہیں، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ جمہوریت کے تن ِ مردہ میں جان ڈالی جائے اور اسے صحیح معنوں میں عوام کی خواہشات کا مرکز و محور بنا کے پاکستان کی خوشحالی و استحکام کے لئے ایک طاقت کے طور پر استعمال کیا جائے۔ یہ وقت کی آواز ہے، جسے نظر انداز کرنا بہت بڑی حمایت ہو گی۔ ٭

مزید :

کالم -