طاﺅس و رباب اوّل

طاﺅس و رباب اوّل
طاﺅس و رباب اوّل
کیپشن: 1

  

کسی ظالم نے میرے میانوالی کے عظیم الشان، عمران خان کو ابن صفی کے جاسوسی ناول علامہ اقبال ؒ کی شاعری کے ترجمے کے طور پر پڑھا دیئے ہیں۔ کرکٹر کی جانے بَلا، کہ حضرت اقبال ؒ کے ”شاہین“ اور ابن صفی کے جاسوسی کرداروں میں کیا فرق ہے۔ عمران خان نے شاید حضرت اقبال کا یہ مصرع ابھی تک بہت پڑھا، جس میں وہ فرماتے ہیں کہ

”شمشیرو سناں اول، طاﺅس و رباب آخر“

حضرت اقبال کے اس پیرو کار کے دھرنے میں صبح، دوپہر، شام، رباب ہی رباب بجتا نظر آتا ہے اور رباب کی دھن پر ان کے ”نیا پاکستان“ کے خواہش مند، ناچتے، کودتے مستیاں کرتے نظر آتے ہیں، سُنا ہے ایک تو ڈاکٹر طاہر القادری بھی قوالی کا پروگرام بنا چکے ہیں، امید یہی ہے کہ اِن سطور کی اشاعت تک اُن کے دھرنے میں بھی ملنگ دھمالیں ڈالتے اور بھنگ گھوٹتے نظر آئیں گے۔ اِدھر سے اگر بھنگ کی خوشبو عمران خان کے دھرنے تک پہنچ گئی تو پھر اُدھر سے ”کالی بوٹی“ کی خوشبو بھی ڈاکٹر طاہر القادری کے کارکنوں کو برداشت کرنا پڑے گی۔ ”محبان اقبال“ سے میری گزارش ہے کہ عمران خان کو حضرت اقبال کے حقیقی کلام اور پیغام سے آگاہ کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ”نیا پاکستان“ وجود میں آئے تو ابن صفی کے ناول حضرت اقبال کی شاعری کے نثری ترجمے کے طور پر نصاب کا حصہ بنا دیئے جائیں۔ مزید ڈر یہ کہ ہم کہیں حضرت اقبال سے بھی ہاتھ نہ دھو بیٹھیں، کہ بڑی مشکل سے علامہ اقبال ؒ کی صورت میں قومی شاعر ملا ہے۔

 عمران خان جیسے سیاست دان تو پھر بھی کہیں نہ کہیں مل جائیں گے اور اگر تھوڑی کوشش کی جائے تو قریب ہی ڈاکٹر طاہر القادری بھی موجود ہیں۔ یہ معاملہ مَیں ”محبان اقبال“ اور ”نیا پاکستان“ کے خواہشمندوں کے سپرد کرتے ہوئے کل دوستوں کی پریشانی کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ کل اچانک3بجے کے قریب دوستوں کے فون اور ایس ایم ایس بھی آنے لگ گئے، سوال ایک ہی تھا کہ عمران خان کنٹینر پر چڑھ گئے ہیں۔ اوئے اوئے کے نعرے لگا رہے ہیں، خالی کرسیوں سے خطاب کر رہے ہیں، ہوا میں مکے لہرا رہے ہیں۔ کنٹینر کی چھت کو اپنے پیروں تلے روند رہے ہیں، اسلام آباد میں کسی سے رابطہ کرو اور بتاﺅ کیا وجہ ہے عمران خان کی طبیعت خراب ہے، کہیں ”بخار“ عمران خان کے سر پر تو نہیں چڑھ گیا۔ مَیں نے ٹی وی آن کیا تو دوستوں کی بات درست تھی۔ عمران خان واقعی پریشان تھے، مَیں نے فوراً اسلام آباد سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ ماجرا کیا ہے، اور بہت ہی سچے قسم کے دوست نے بتایا کہ دو وجوہات کی بنا پر عمران خان برہم ہیں۔

پہلی وجہ یہ بنی کہ ان کے کنٹینر کا اے سی خراب ہو گیا.... جو اکثر خراب رہتا ہے۔ سیف اللہ نیازی ہاتھ سے ”پکھیاں“ جھل جھل کر اپنے خان کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتا رہا، مگر عمران خان پسینے سے شرابور ہو گئے، اس گرمی نے بہت ستایا.... تو وہ کنٹینر کے اندر اِدھر اُدھر ٹہلنے لگے، وہ ابھی اس افتاد سے عہدہ برآ نہیں ہوئے تھے کہ انہیں اسلام آباد کے آئی جی کی تبدیلی کی خبر سنا دی گئی، ساتھ ہی انہیں بتایا گیا کہ حکومت نے ان کی گرفتاری کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اگر وہ خود کو بچا سکتے ہیں، تو بچا لیں۔ عمران خان نے پریشانی کے عالم میں اپنی پارٹی کے رہنماﺅں کو فون کئے، پارٹی رہنماءاپنے اپنے ہوٹلوں میں آرام سے سوئے ہوئے تھے، انہوں نے سیف اللہ نیازی کو حکم دیا، ساﺅنڈ سسٹم آن کراﺅ، مَیں تقریر کرنا چاہتا ہوں۔ سیف اللہ نیازی نے ہاتھ جوڑ کے عرض کی قائد محترم ”باہر نہ کوئی بندہ ہے نہ کوئی بندے کی ذات“ ہے۔ آپ خطاب کس سے کریں گے، مگر عمران خان کنٹینر کی چھت پر چڑھ گئے اور نجانے کس کو سناتے رہے کہ نیا آئی جی خطرناک آدمی ہے۔ اس نے ہمارے کارکنوں کو گولی مارنے کا حکم دیا ہے۔ اگر میرے کسی کارکن پر گولی ماری گئی تو مَیں آئی جی تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔

قصہ مختصر،21اگست کو دن تین بجے کے قریب عمران خان کے برہم ہونے کی یہی دو وجوہات ہیں ، اب اگر کوئی تیسری وجہ کسی خفیہ ادارے کے پاس ہو تو اس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں ہے، مگر مَیں آج اپنے ایک بہت پیارے دوست کی بربادی کا حال آپ کو سنانا چاہتا ہوں۔ میرے اس دوست کی بربادی کے پیچھے عمران خان کے ”نیاپاکستان“ کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ میرا یہ دوست گزشتہ تین سال سے ایک جگہ شادی کا خواہش مند تھا، لڑکی اور لڑکا دونوں راضی تھے، مگر دونوں کے خاندان والے ”مَیں نہ مانوں“ کی ضد پر اڑے ہوئے تھے، میرے اس دوست نے منزل مقصود پانے کے لئے بہت سے پاپڑ بیلے، انہیں کسی نے بتایا کہ اس کے سسرال والے وزیراعظم نوازشریف کے بہت بڑے سپورٹر ہیں، اس بچارے نے نوازشریف زندہ باد کے نعرے لگا لگا کر اپنا گلا خراب کر لیا، مگر اسے اچانک کسی نے بتایا کہ وہ تو عمران خان کے حامی ہیں، بس پھر کیا تھا، میرے اس دوست نے راتوں رات پارٹی بدلتے ہوئے پاﺅں میں گھنگرو باندھ کے ڈانس کے ایسے ایسے فن دکھائے کہ کے پی کے وزیراعلیٰ دیکھتے کے دیکھتے رہ جائیں۔میرے یہ دوست ابھی ڈانس کے فن کے کرتبوں میں مصروف تھے کہ انہیں بتایا گیا کہ ان کے سسرال والے تو طاہرالقادری کے پیروکار ہیں۔بس پھر کیا تھا میرے دوست ہاتھوں میں تسبیح پکڑے، طاہرالقادری کی کتابیں بیچتے نظر آئے، مگر قسمت نے ابھی اور بہت کچھ دکھانا تھا، ان کی ممکنہ بیگم کو جب پتہ چلا کہ وہ سیاسی بنے پھرتے ہیں تو انہوں نے پیغام بھیجا، انسان بنو، میرے والدین تو بالکل غیر سیاسی ہیں۔ وہ دن اور آج کا دن میرے دوست کے سامنے سیاست پر بات کرو تو وہ کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر گم سم ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔

قارئین محترم! اگر بات یہیں تک ہوتی تو کوئی بات نہیں، بچارے نے دیگر بھی بہت سے ٹوٹکے آزمائے، مثال کے طور پر ہزاروں روپے کے عوض مختلف درگاہوں سے زبان بندی کے تعویزات حاصل کئے، سردیوں میں ٹھنڈے اور گرمیوں میں گرم پانی میں چلے کاٹے، صدقات کے طور پر مشکل سے مشکل ہدف کو بھی حاصل کیا۔مثال کے طور پر خاصا خجل خوار ہونے کے بعد اس نے کہیں نہ کہیں سے سفید رنگ کی نیلی آنکھوں والی بلی، لال رنگ کے سفید پروں والا مرغا، تین ٹانگوں اور چار سینگوں والا بکرا تک ڈھونڈ لیا۔ ہمارے منع کرنے کے باوجود کم بخت کالے علم والوں کے پاس مُنہ کالا کرانے چلا گیا، یہ دوسری بات ہے کہ کالے علم والوں کے پاس بھی تمام تر زور آزمائی کے بعد طاہرالقادری اور عمران خان کے ”دھرنوں“ کے سے نتائج ہی برآمد ہوئے، مگر ہمارے اس دوست پر آفرین ہے کہ اس نے ہمت نہ ہاری اور اپنے مشن میں لگا رہا۔

پندرہ دن پہلے اس نے اپنے ماموں کے ذریعے اپنی اماں کو راضی کر لیا۔ادھر لڑکی نے بھی اپنے ابا کو راضی کر لیا۔مزید تھوڑی بہت رکاوٹ آئی، مگر قسمت نے ساتھ دیا.... اور لڑکی والوں نے پیغام بھیج دیا کہ چودہ اگست کو آکر منگنی کی رسم پوری کر لو۔ ہمارے دوست کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔دو خاندان پورے جوش و خروش کے ساتھ منگنی کی تیاریوں میں مصروف تھے، مگر اسلام آباد میں رہنے والے میرے اس دوست کو چودہ اگست کے دن اسلام آباد سے پشاور جانے کے لئے کوئی راستہ نہ ملا۔ بیچارے نے بڑی کوشش کی کہ کسی نہ کسی طریقے سے پشاور پہنچ جائے، مگر اسلام آباد کے حالات تو اسے مارکیٹ تک جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔پشاور کیسے جاتے، تھک ہار کر بذریعہ فون پشاور رابطہ کرنے کی کوشش کی کہ حالات بہت خراب ہیں، اسلام آباد سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے، مگر فون بھی بند، اِدھران کی مجبوریوں سے بے خبر لڑکے کے سسرال والوں نے کسی قسم کا رابطہ نہ کرنے اور منگنی کی رسم کے لئے نہ پہنچنے کو بنیاد بنا کر منگنی توڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔سواس وقت ہمارے یہ دوست14 اگست کی شام سے جائے نماز پر بیٹھے عمران خان اور طاہرالقادری کی جان کو رو رہے ہیں، جو ہلکی پھلکی بدعائیں ہم نے اپنے کانوں سے سنی ہیں، ان میں سے چند آپ کی نذر کرتا ہوں۔

اے اللہ!

جس طرح مَیں دیوانوں کی طرح دیدارِ یار کے لئے گلیوں میں گھومتا رہا ہوں،تو عمران خان کو بھی اپنے کنٹینر پر دیوانہ وار گھما۔

اے اللہ! جس طرح مَیں گرمی کے دنوں میں پسینے سے شرابور ہو کر ٹھنڈی ہوا کے لئے ترستا ہوں، تُو عمران خان کے کنٹینر میں لگے اے سی کو ٹھیک ہونے کی توفیق سے محروم رکھ، اے اللہ! جس طرح مَیں ایک ٹانگ پر کھڑے ہوئے درجنوں چلے کاٹ چکا ہوں تُو عمران خان کے نصیب میں بھی 2018ءتک چلے ہی چلے لکھ دے۔اے اللہ جس طرح میری کوئی نہیں سنتا تُو نوازشریف سمیت سب کو یہ توفیق دے کہ عمران خان کی بھی کوئی نہ سُنے۔ اے اللہ جس طرح تُو نے اس ملک کے گیارہ کروڑ ننانوے لاکھ 95ہزار لوگوں کو عمران خان کے دھرنے سے محروم رکھا ہوا ہے۔ باقی ماندہ دھرنے میں موجود 2،3ہزار لوگوں کو بھی ہدایت کا راستہ دکھا۔ اے اللہ، جس طرح عمران خان روزانہ شام کو ”میوزیکل شو“ میں مختلف گلوکاروں کے گیت سنا سنا کر میرے زخموں پر نمک چھڑکتے ہیں تُو نوازشریف کو بھی توفیق دے کہ وہ بھی شکر پڑیاں ”لوک ورثہ“ میں اس طرح کے میوزیکل شو کے ذریعے عمران خان کے زخموں پر نمک چھڑکے۔

قارئین محترم! یہ تو نمونے کی چند بدعائیں ہیں، جو میرا دوست چودہ اگست سے جانماز پر بیٹھ کر مسلسل مانگ رہا ہے اور ان میں سے بہت سی دعائیں قبول بھی ہوتی نظر آتی ہیں۔اب اگر عمران خان دل سے چاہتے ہیں کہ ان کا ”نیا پاکستان“ وجود میں آ جائے تو پھر میرے اس دوست کی بددعاﺅں سے بچنا بہت ضروری ہے۔ عمران خان اگر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی ڈیوٹی لگائیں کہ وہ ”ناچے“ ہو جائیں اور میرے دوست کے سسرال کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے منگنی کی دوبارہ بحالی کا بندوبست ہو سکتا ہے اور مَیں لکھ کر دینے کو تیار ہوں کہ وزیراعلیٰ کے پی کے کے لئے یہ کام ان کے ”دو ٹھمکوں“ کی مار ہے، مگر انہیں شاید اندازہ نہیں کہ ان کے دو ٹھمکے جہاں میرے دوست کو بربادی سے بچا سکتے ہیں، وہاں یہی دو ٹھمکے نیا پاکستان کے وجود میں آنے کا وسیلہ بھی بن سکتے ہیں۔سو اب عمران خان جانے ،وزیراعلیٰ کے پی کے جانے اور ان کے ”ٹھمکے“ ہمارا دوست تو ”جا نماز“ پر بیٹھا ہے۔  ٭

مزید :

کالم -