گرانی کون کم کرے گا؟

گرانی کون کم کرے گا؟

  

دعا کریں کہ اشیاءکے نرخ منجمد ہی رہیں، اس طرح شاید سکھ کا سانس، ورنہ حالات کے مطابق نرخ کم ہونے کے امکانات تو صفر کے برابر ہیں، البتہ اضافہ لازمی ہے، عید گزرے کافی دن ہو گئے، ہم رمضان المبارک کے بعد پہلی مرتبہ گھر کے لئے لہسن، پیاز وغیرہ خریدنے گئے۔اس مقصد کے لئے ہم علامہ اقبال ٹاﺅن والی سبزی منڈی کا رخ کرتے ہیں جو ہماے گھر کے قریب ہے۔عمومی طور پر سودا بھی کسی ایک ہی دکان دار سے خریدتے ہیں جس کی وجہ سے جان پہچان بھی ہو گئی ہوئی ہے، اسے منڈی تو کہتے ہیں، لیکن یہ منڈی کے نام پر تہمت ہی ہے کہ آڑھتی حضرات تو ایک کونے میں سکڑ گئے ہوئے ہیں اور باقی پوری منڈی ”پھڑیوں“ کے قبضہ میں ہے، جو دکانیں سجا کر بیٹھتے ہیں، ان سے خریداری اس حد تک بہتر رہتی ہے کہ بازار سے کم قیمت پر اشیاءمل جاتی ہیں۔ہم عموماً سودا ایک ہی دکان سے لیتے ہیں، گزشتہ روز بھی پہلے انہی کے پاس گئے اور پیاز کا بھاﺅ دریافت کیا جواب ملا دو سو روپے کا پانچ کلو اس پر پوچھا کہ نرخ کم کیوں نہیں ہو سکتے تو جواب ملا، بڑھ سکتے ہیں کم نہیں ہو پائیں گے کہ اس مقصد کے لئے کام ہی نہیں ہو رہا، پیاز یہاں چالیس روپے فی کلو تھا جبکہ ادرک بھی مہنگا ہو گیا ، آلو بھی سستے نہیں ہو پائے۔

ساتھ والے دکان دار سے پکانے کے لئے سبزیوں کی خریداری کے لئے رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ کریلے اسی روپے فی کلو، بھنڈی اسی روپے فی کلو اور گھیا ساٹھ روپے فی کلو ہے۔دوسرے بھائی سے ہرا دھنیا اور لیموں خریدے جو اسی روپے اور ایک سو چالیس روپے فی کلو کے حساب سے ملے جبکہ گوبھی کے نرخ سو روپے فی کلو بتائے گئے۔یہ خریدنے کی ہمت نہ ہوئی۔دوکان دار خود بھی مایوس تھے اور ہمیں بھی صدمے سے دوچار کر رہے تھے ان کے مطابق نرخوں میں کمی ممکن نہیں رہی اب تو موجودہ سطح برقرار رکھنے کے لئے دعا کی جا رہی ہے۔

یہ تو سبزی کی بات ہے ذرا فروٹ کا بھی جائزہ لے لیں ، اسی منڈی کے باہر اور وحدت روڈ کے کنارے پر ریڑھی والے سے آم کے نرخ پوچھے تو ایک سو روپے فی کلو بتائے گئے، حیرت کا بہت بڑا جھٹکا لگا کہ صبح ہی سیر پارٹی کے ایک رکن بتا رہے تھے کہ وہ فروٹ منڈی سے ایک پیٹی خرید کر لائے ہیں، جو ساڑھے چھ سو کی ملی ، اس میں سے تقریباً دس کلو آم نکلے یوں یہ قیمت خرید کے مطابق ساٹھ روپے پچاس پیسے فی کلو ہوئے۔یہ خریداری بھی درمیانے تاجر (پھڑیئے) سے کی گئی تھی لیکن ریڑھی پر اس کے نرخ ایک سو روپے کلو تھے۔یوں ریڑھی بان ایک کلو کے عوض 35روپے منافع کما رہا ہے۔ایسے ہی حالات دوسری اشیاءکے بھی ہیں ضلعی انتظامیہ رمضان بازاروں کے بعد سے اشیاءکے بڑھتے نرخوں پر نظر نہیں رکھ سکی اور نہ ہی مہنگائی پر کوئی کارروائی کی گئی یوں نرخوں کا معاملہ بھی بیوپاری خود ہی طے کرتے ہیں۔

سبزیوں اور فروٹ کا یہ عالم ہے تو دوسری اشیاءکا اندازہ لگا سکتے ہیں، رمضان المبارک اور عید گزر جانے کے بعد بھی قیمتیں کم نہیں ہوئیں اور یہ بھی پہلی بار ہوا ہے کیونکہ اس سے قبل یہ روائت رہی کہ منافع خور رمضان المبارک اور عید کے موقع پر عوام کی کھال کھینچ لیتے تھے، تاہم جونہی عید کی چھٹیاں ختم ہوئیں نرخ بتدریج معمول پر آنے لگتے تھے۔اس حوالے سے دکان داروں سے بات ہوئی اور پھر محفل یاراں میں تبادلہ خیال کیا گیا تو اس کی ذمہ داری حکومت اور حکومت کے متعلقہ اداروں پر عائد کی گئی کہ حکومت ایسے حالات پیدا نہیں کر پائی کہ مہنگائی نہ ہو اور انتظامیہ گرانی کرنے کے ذمہ دار حضرات کا محاسبہ نہیں کر پاتی جبکہ اس مرتبہ تو سیاسی بحران نے کام دکھا رکھا ہے۔تمام سرکاری ادارے کام کاج چھوڑ کر اسلام آباد کی طرف دیکھ رہے ہیں اور چھوٹا عملہ اپنی کمائی میں لگا ہوا ہے۔مارکیٹ کمیٹیاں بالکل بے کار ادارہ ہیں تو پرائس کنٹرول مجسٹریٹ بھی کچھ نہیں کر پاتے ادھر کسی کا دھیان ہی نہیں ہے۔

جہاں تک سیاسی بحران کا تعلق ہے تو یہ ہے بھی بڑا دلچسپ کہ وہاں کھانا بھی ملتا اور آرام بھی مل جاتا ہے۔کئی دوست تو ایسے ہیں جو روزانہ لاہور آکر پھر مغرب کے وقت تک اسلام آباد پہنچ جاتے اور جلسے یا خطاب کے اختتام پر واپس روانہ ہو کر یہاں پہنچتے اور دن میں اپنا کام کاج کر لیتے ہیں۔سیاسی قائدین اس وقت سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں کہ حکومت کو ختم کرکے نئے انتخابات ہو جائیں، حکمران جماعت کی طرف سے سخت مزاحمت کی جارہی ہے، ہر دو لانگ مارچ والے روزمرہ کی اس مہنگائی کے لئے کوئی واضح پروگرام بھی نہیں دے رہے، سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان حالات کا ادراک ان رہنماﺅں کو کیوں نہیں، جو موجودہ حکمرانوں کی جگہ اپنی حکومت بنانا چاہتے ہیں یہ تو سب کا اولین فرض ہے۔حالات ایسے ہیں کہ عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔آخر ان حالات کی درستگی کے لئے اقدامات کیوں نہیں ہوتے، یہ ایک اجمالی سی صورت حال ہے ورنہ حالت تو بہت بری ہے، اللہ ہی ہے جو رحم کرنے والا ہے۔ ٭

مزید :

کالم -