انڈدونیشیا بھی آئی ایس آئی ایس کے خلاف بول پڑا

انڈدونیشیا بھی آئی ایس آئی ایس کے خلاف بول پڑا
انڈدونیشیا بھی آئی ایس آئی ایس کے خلاف بول پڑا

  

جکارتہ(نیوزڈیسک) دنیا کے سب سے زیادہ مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیا کے صدر Susilo Bambang نے کہا ہے کہ عراق اور سیریا کے وسیع علاقوں میں انتہا پسندوں کی طرف سے قتل و غارت اور پرتشدد واقعات ہولناک ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ ISIS دنیا میں دیگر اسلامی ریاستوں کو بھی شرمندہ کررہی ہے۔ انہوں نے بے قابو ہوتی ہوئی اس صورت حال پر ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ہم اس صورت حال کو برداشت نہیں کر سکتے اور ہم انڈونیشیا میں ISISکو ایسی حرکتوں سے باز رہنے کا حکم دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا اگرچہ مسلم ریاست نہیں ہے، لیکن ہم ہر مذہب کا احترام کرتے ہیں۔انہوں نے تمام بین الاقوامی لیڈروں کو ترغیب دی ہے کہ وہ ان فتنوں کے خلاف مل کر کام کریں۔بین الاقوامی لیڈروں کو یہ ایک نیند سے جگانے والی کال ہے اور دنیا بھر کے ان لیڈروں میں اسلامی لیڈر بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ISISکا یہ طرز عمل نہ صرف باعث شرمندگی ہے بلکہ تکلیف دہ اور غیر انسانی بھی۔عام سربراہوں کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اس انتہا پسندی کے خلاف کس طرح نبردآزما ہوا جائے۔اس ضمن میں ہر دو اطراف سے تبدیلی ضروری ہے۔مغرب اسلام کو کیا تصور کرتا ہے اور اسلام کے ذہن میں مغرب کی کیا تصویر ہے۔انڈونیشی صدر نے کہا ہے کہ انڈونیشیا 225ملین مسلمانوں کا گھر ہے اور جو عرصہ دراز سے دہشت گردی کے خلاف نبردآزما ہے، لیکن حالیہ برسوں میں بڑے تباہ کن حملے کا خاتمہ ہوا ہے۔

ISISصدام سے بدتر ہے۔ایک متعلقہ کہانی میں ایک کردش کمانڈر نے کہا ہے کہ جو ISISکے فوجی اقلیتوں کو اپنا نشانہ بنا رہے ہیں۔وہ صدام سے بدتر ہیں جب وہ شمالی عراق میں فرنٹ لائن پر لگے سینڈ بیرئیر کے پاس ISISکے ساتھ کھڑا تھا اور کالے رنگ کا جھنڈا پھڑپھڑا رہا تھا۔ ISISصدام سے بدتر ہے جنہوں نے آبادیوں کے خلاف دہشت اور طاقت کا استعمال کیا تاکہ وہ بھاگنے پر مجبور ہو جائیں اور وہاں ان کا قبضہ ہو جائے۔

مزید :

بین الاقوامی -