ووٹوں کی تصدیق نا ممکن ،دھرنوں کو آگے نہیں بڑھنے دینگے،اگلے48گھنٹے اہم ہیں،چودھری نثار

ووٹوں کی تصدیق نا ممکن ،دھرنوں کو آگے نہیں بڑھنے دینگے،اگلے48گھنٹے اہم ...

  

                                  اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ عمران خان بامقصد مذاکرات کا راستہ اپنائیں ،یہاں پر ناچ گانے کی محفلیں ہوتی ہیں ہم سکیورٹی فراہم کر رہے ہیں ،عمران خان مجھے پارٹی میں شمولیت کی دعوت دیتے ہیں مجھے نقشہ بتائیں کہاں لے کر جانا چاہتے ہیں ،میں گالم گلوچ،مار دھاڑ اور دھرنے کی سیاست نہیں کرنا چاہتا ،عمران خان کی کچھ باتیں ماننے کے لئے تیار ہیں ،ہر بات میں ضد نہیں چلے گی،پاک فوج کو آزمائش میں ڈال دیا ہے ہماری افواج حالت جنگ میں ہیں انہیں اس جانب موڑا جائے ،آئی جی اسلام آباد کو افواہوں کے نتیجے میں عہدے سے نہیں ہٹایا آئی جی نے چھٹی کی درخواست دی ہے جس کا ریکارڈ موجود ہے ،عمران خان سنی سنائی باتوں پر یقین نہ کریں سکیورٹی ادارے نے دو خود کش حملہ آوروں کی اسلام آباد کی جانب آنے کی اطلاعات دی ہیں کنٹینرز جلسوں کی سکیورٹی کے لئے لگائے گئے ہیں کسی بھی عمارت پر یلغار کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان قومی لیڈر ہیں وہ سنی سنائی باتوں پر یقین نہ کریں، جہاں میری ناک شروع ہوتی ہے وہاں آپ کی آزادی ختم ہو جائے گی کیونکہ جہاں کنٹینرز لگے ہیں اس سے آگے ہمارے گھر ہیں، گھروں پر یلغار ہو تو قانون دفاع کا حق دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاہر القادری اور عمران خان قوم کے سامنے لکھ کر دے دیں کہ سیکیورٹی کی ذمہ دار حکومت نہیں تو کچھ کنٹینرز ہٹا دیئے جائیں گے۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ امن و امان قائم رکھنے پر قانون نافذ کرنے والے ادارے خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ آزادی و انقلاب مارچ کے آغاز سے ہی ان کو شدید خطرات لاحق تھے لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں اور اللہ کی مہربانی سے اب تک معاملات خیر و عافیت سے چلتے آئے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ خطرات ٹل گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی نے بھی سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو نہیں سراہا بلکہ یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ حکومت نے کنٹینرز لگا دیئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگلے 48 گھنٹے اہم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کہیں بھی مقناطیسی سیاہی استعمال نہیں ہوتی اور اگر ہو بھی تو اس کی تصدیق کی بھی ایک مدت ہوتی ہے جو گزر چکی ہے لہٰذا ووٹوں کی تصدیق ناممکن ہے۔چوہدری نثار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان بے بنیاد الزام تراشی کا سلسلہ بند کریں اور با مقصد مذاکرات کی جانب آئیں امن و امان کی صورت حال کو قائم رکھنے والے سکیورٹی اداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اداروں نے لچک کا مظاہرہ کیا ہے کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ ہمارے ادارے کمزور ہیں داخلی راستوں پر کنٹینرز جلسوں کی سکیورٹی کے لئے لگائے گئے ہیں وہ کسی صورت نہیں ہٹائے جائیں گے ،خیبر پختونخواہ کے سکیورٹی ادارے نے دو حملہ آوروں کی اسلام آباد کی جانب آنے کی اطلاعات دی ہیں جنہیں مانیٹر کیا جارہا ہے اور پکڑ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ یہاں پر ہر شام ناچ گانے کی محفلیں سجتی ہیں ہم ان کو سکیورٹی فراہم کر رہے ہیں پھر بھی ہمیں تنقید کا نشانہ بنا یا جاتاہے ،گزشتہ نو روز سے دھرنوں کی وجہ سے ریاست کے دو سر براہان نے اسلام آباد میں پروگرام ملتوی کر دیئے ہیں سٹاک ایکسینج خسارے میں جا رہی ہے ڈالر 101روپے سے بڑھ گیاہے ،انہوں نے کہا کہ واضح کرنا چاہتاہہوں کہ میں جلسوں کو ریڈ زون میں داخلے کے حق میں نہیں تھا اگر کسی کے گھر پر یلغار کی جائے تو اسے قانون سیلف ڈیفنس کا حق دیتا ہے کسی بھی عمارت پر دھاوا بولا گیاتو قانون حرکت میں آئے گا اور سختی سے پیش آئے گا ،دھرنوں کی وجہ سے سپریم کورٹ کے دو ججز آدھا گھنٹہ تاخیر سے عدالت پہنچے یہ کون سی جمہوریت ہے کہ ملک کے نظام کو جام کر دیا جائے انہوں نے کہا کہ پانی بھجواتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ پانی میں کچھ ملا کر بھیجا گیاہے جس کی وجہ سے پانی کی فراہمی روک دی تھی ،کھانا پینا اورروز مرہ کی ضروریات میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی تاجر،وکلائ،تمام سیاسی پارٹیز ایک طرف ہیں عمران خان اکیلے کھڑے ہیں ،بامقصد مذاکرات کی طرف آئیں ہم ہر وقت تیار ہیں ،انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں ہم نے انہیں آزمائش میں ڈال دیاہے ان عمارات کی حفاظت پر فوج ہماری وجہ سے تعینات ہے فوج کو آپریشن ضرب عضب کی جانب موڑنا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ عمران خان مجھے پارٹی میں شمولیت کی دعوت دیتے ہیں مجھے نقشہ بتائیں کس طرف لے کر جائیں گے تیس سالہ سیاست میں بہت کم شہرت حاصل کی ہے میں گالم گلوچ،مار دھاڑاور دھرنے کی سیاست نہیں کرنا چاہتا ،انہوں نے کہا کہ عمران خان کے آئینی اور قانونی مطالبات ماننے کے لئے تیار ہیں لیکن ہر بات میں ضد نہیں چلے گی انہوں نے وکلاءکو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مشرف کے بعد وکلاءنے جمہوریت کے حق میں تحریک کا آغاز کیا وکلاءقانون کے علمبردار ہی نہیں محافظ بھی ہیں عمران خان اکیلے کھڑے ہیں قوم کی آواز سنیں اور ضد چھوڑ کر بامقصد ممذاکرات کی طرف آئیں ۔

مزید :

صفحہ اول -